وشال گرگ: زوم کال پر 900 ملازمین کو نوکری سے نکالنے والا سی ای او تنقید کی زد میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'یہ وہ خبر ہے جسے آپ سننا نہیں چاہیں گے۔ یہ میرے کیریئر میں دوسرا موقع ہے کہ مجھے ایسا کوئی قدم اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن میں ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ پچھلی بار جب ایسا ہوا تو میں رو دیا تھا۔‘
امریکہ میں گھروں کی خریداری کے لیے قرض فراہم کرنے والی ڈیجیٹل کمپنی بیٹر ڈاٹ کام (better.com) کے انڈین نژاد سی ای او اِس وقت دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس شہرت کی وجہ ان کا وہ متنازع قدم ہے جو انھوں نے گذشتہ روز زوم کال کے دوران اٹھایا، جس کی ویڈیو ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی۔
ویڈیو میں 43 سالہ وشال گرگ کو کہتے سنا جا سکتا ہے: ’یہ وہ خبر ہے جسے آپ سننا نہیں چاہیں گے۔ یہ میرے کیریئر میں دوسرا موقع ہے کہ مجھے ایسا کوئی قدم اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن میں ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ پچھلی بار جب ایسا ہوا تو میں رو دیا تھا۔‘
’ہم کمپنی کے تقریباً 15 فیصد ملازمین کو نوکری سے برخاست کر رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ اس کال پر موجود ہیں تو آپ کا شمار ان بدقسمت لوگوں میں ہوتا ہے جن کو نوکری سے برخاست کیا جا رہا ہے۔‘
ویڈیو میں وہ مزید کہہ رہے ہیں کہ ملازمین کو ایچ آر کی جانب سے میل کے ذریعے اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں گی۔
کہا جا رہا ہے کہ جن ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے وہ کمپنی کے تقریباً 10,000 ملازمین میں سے نو سے پندرہ فیصد ہیں۔
کرسمس سے قبل اس فیصلے کے بعد وشال گرگ کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کے ایک ملازم نے اس زوم کال کو ریکارڈ کیا اور اسے پبلک کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
برطانیہ کی لیورپول جان مورز یونیورسٹی میں ایمپلائمنٹ لاء اور بزنس اسٹڈیز کی لیکچرر جیما ڈیل نے کہا کہ یہ قیادت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح بڑے پیمانے پر ملازمتوں کی برخاستگی برطانیہ میں قانونی نہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف اس وجہ سے کہ آپ یہ امریکہ میں کر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کرنا چاہیے۔‘’ایسے اقدامات کرنے کے طریقے ہیں جو مشکل حالات میں بھی ہمدردانہ اور مہذب تصور کیے جاتے ہیں۔‘'کمپنی کے موجودہ ملازمین بھی اس بات کو دیکھیں گے کہ کمپنی ان کے ساتھ مستقبل میں کیسا سلوک کرے گی۔'
جیما کہتی ہیں کہ اس طرح کا عمل فرم کو بھی متاثر کرے گا کیوں کہ اس کے صارفین بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اگر ایک کمپنی اپنے ملازمین کے ساتھ ایسا برتاو کرتی ہے تو پھر وہ صارفین کے ساتھ کیا کر سکتی ہے۔
وشال گرگ کون ہیں؟
انڈیپنڈنٹ نیوز ویب سائٹ کے مطابق وشال گرگ پر ماضی میں بھی اپنے ملازمین کی توہین کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر مالی بے ضابطگیوں کا بھی الزام ہے۔
سات سال کی عمر میں، وشال اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ انڈیا سے کوئنز، نیویارک چلے گئے۔
2019 میں ایک پوڈ کاسٹ میں، گرگ نے بتایا تھا کہ وہ ہائی اسکول کے دوران ہی کاروبار کی طرف مائل تھے اور اپنے ہم جماعتوں کو نئے نوٹ اور دیگر کتابیں فروخت کرتے تھے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے دکانوں سے کپڑے بھی فروخت کیے۔
سنہ 2000 میں، گرگ نے اپنے ہائی اسکول کے دوست رضا خان کے ساتھ مل کر ایک نجی قرضہ کمپنی کھولی جو طلباء کو قرض فراہم کرتی تھی۔ اس کا نام مائی رچ انکل رکھا گیا۔
دریں اثنا، گرگ نے نیویارک یونیورسٹی کے اسٹرن سکول آف بزنس میں داخلہ لیا لیکن اسے درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔

،تصویر کا ذریعہBetter.com
امریکہ میں معاشی بحران کے دوران مائی رچ انکل کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ اس کے بعد رضا اور وشال گرگ نے EIFC کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا جو مائی رچ انکل کی طرز پر بینکوں سے زمینداروں کو قرض لینے کے لیے قرض کی شرائط سے آگاہ کرتا تھا۔
2013 تک رضا اور وشال کے درمیان کمپنی کی مالی حالت پر اختلافات پیدا ہو گئے۔ رضا نے الزام لگایا کہ گرگ، جو کمپنی کے مالی معاملات کی نگرانی کرتا ہے، نے کاروباری ٹیکس ادا نہیں کیا اور کمپنی سے 3 ملین ڈالر نکالے اور ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔
گرگ نے جواب میں رضا پر چار لاکھ ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا، جسے رضا نے مسترد کر دیا۔ اس دوران گرگ نے رضا پر کچھ قابل اعتراض تبصرے بھی کیے جس کے لیے انھوں نے بعد میں معافی مانگ لی۔
بیٹر ڈاٹ کام کا آغاز
سال 2013 میں، وشال گرگ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر better.com شروع کیا جو اپنا گھر خریدنے والے لوگوں کو ڈیجیٹل طور پر قرض حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اس کا نام بھی نئی اور تیزی سے ابھرنے والی سٹارٹ اپ کمپنیوں میں شامل تھا۔
کمپنی کے قیام کے وقت وشال نے کہا تھا، ’مجھے پرانے دستاویزات اور فون کی بنیاد پر پروسیس کیے بغیر آن لائن قرض دینے کے لیے ایک بھی قرض لینے والا نہیں ملا۔ میرے شیڈول کے مطابق کسی نے بھی کام نہیں کیا۔‘
جون 2021 میں، گرگ نے دعویٰ کیا کہ آج ان کی کمپنی اس مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں آپ تین منٹ میں قرض کے لیے پہلے سے منظوری حاصل کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا، ’ہماری ٹیم کا حجم آج تین گنا بڑھ گیا ہے۔ ہم صرف باصلاحیت اور توانا لوگوں کو شامل کر رہے ہیں جو ہمارے مشن پر یقین رکھتے ہیں اور ہم نے ابھی شروعات کی ہے۔‘
تاہم، 2019 میں بھی کمپنی کے اندر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔
مارکیٹ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، سافٹ بینک نے حال ہی میں اس کمپنی کو $750 ملین کی مالی امداد دی ہے۔

























