انڈیا: مارچ کرنے والے کسانوں پر ڈرونز کی مدد سے آنسو گيس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد حالات کشیدہ

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا میں متنازع زرعی اصلاحات کے خلاف کامیابی کے بعد ملک گیر سطح پر کسانوں نے ’دلی چلو‘ نعرے کے تحت گذشتہ روز پنجاب کے مختلف علاقوں سے دہلی کی طرف مارچ شروع کیا تھا لیکن انھیں ہریانہ کے باڈرز پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور سڑکوں پر بڑے پیمانے پر کھڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
جب کسانوں نے آگے بڑھنے کی غرض سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے ٹریکٹرز کا استعمال کیا تو پولیس کی جانب سے اُن پر ڈرونز کی مدد سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج کیا گيا۔
بی بی سی ہندی کے نمائندے ابھینو گوئل نے پنجاب اور ہریانہ کی سرحد سے بتایا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ کے درمیان شمبھو بارڈر پر کسانوں کے احتجاج کا دوسرا دن منگل کے مقابلے میں پُرسکون ہے۔
بدھ کی صبح تقریباً 11 بجے ہریانہ کی طرف سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور یہ گولے وقفے وقفے سے داغے جا رہے ہیں۔
منگل کو آنسو گیس کے گولوں کو داغے جانے کی کارروائی کا پیمانہ بہت بڑا تھا۔ اب آنسو گیس سے بچنے کے لیے کسانوں نے جوٹ کی بوریاں گیلی کر رکھی ہیں۔ جبکہ کل کی طرح کسان رکاوٹیں بھی نہیں توڑ رہے ہیں۔
ہریانہ کی طرف پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں اور پنجاب کی طرف کسان پتنگیں اڑا رہے ہیں جبکہ ان کی بڑی تعداد اب بھی یہاں موجود ہے۔
جبکہ دہلی اور ہریانہ کے سنگھو بورڈر سے بی بی سی کی نمائندہ کیرتی دوبے نے کہا ہے کہ دہلی پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ملٹی لیئر بریکیڈنگ لگائی ہے۔ بلاکس کو سیمنٹ سے سیل کر دیا گیا ہے تاکہ انھیں ٹریکٹر سے بھی اکھاڑا نہ جا سکے۔
اس کے ساتھ خاردار تاروں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ جبکہ سرحد پر شدید ٹریفک جام ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2020 کے مقابلے زیادہ بہتر انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'پچھلی بار انتظامیہ کو اندازہ نہیں تھا کہ کسان یہاں آ کر اتنے دن بیٹھ جائیں گے۔ اس بار ہمیں اندازہ ہے، اس لیے سکیورٹی کے انتظامات بھی اسی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔'
پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے ساتھ ڈرون سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
کل کیا ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب حکومت ہند نے دلی کی سرحدوں کو تینوں جانب سے سیل کر رکھا ہے جبکہ پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر پولیس نے مارچ کرنے والوں پرلاٹھی چارج کیا ہے اورڈرونز سے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔
اس سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت میں ناکامی کے بعد کسانوں نے ہزاروں کی تعداد میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہریانہ کے شمبھو بارڈر کی جانب منگل کی صبح اپنا مارچ شروع کیا۔
کسان تنظیموں کو مارچ سے روکنے کے لیے ریاستی دارالحکومت چنڈی گڑھ میں پیر دیر رات تک حکومتی اہلکاروں اور کسان رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی لیکن وہ بار آور ثابت نہ ہو سکی۔
پنجاب کے علاقے فتح گڑھ صاحب میں بی بی سی ہندی کے نمائندے ابھینو گوئل نے ریلی میں شامل کسانوں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ اس بار پہلے سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ ہیں اور اگر ٹریکٹر ہزاروں کی تعداد میں ہیں تو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ہے۔
ایک کسان کو جب راہ میں حائل رکاوٹوں کی بابت بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ کسان ہر طرح کی رکاوٹ کو ہٹانا جانتے ہیں اور انھیں دلی جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ایک دوسرے کسان نے کہا کہ ’وہ یا تو اپنی مانگیں منوا کر آئیں گے یا پھر مودی حکومت کو گرا دیں گے کیونکہ انتخابات آنے والے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟
سنہ 2020 میں کسانوں نے متنازع زرعی اصلاحات کے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دلی کی سرحدوں پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک ڈیرے ڈالے تھے۔
حکومت کی جانب سے قوانین کو منسوخ کرنے پر رضامندی کے بعد ایک سال تک جاری رہنے والا احتجاج، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، کو ختم کر دیا گیا۔
اب کسان ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہم مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔
کسانوں کے مطالبات ہیں کہ
- ایم ایس پی (Minimum Support Price) پر فصلوں کی خریداری کی ضمانت دی جائے اور حکومت اس بابت نوٹیفکیشن جاری کریں۔
- سوامی ناتھن کمیشن نے جو رپورٹ پیش کی، اسے نافذ کیا جائے۔
- کسانوں کو فصل اگانے پر آنے والی لاگت پر 50 فیصد منافع دیا جائے۔
- کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں۔
- کسانوں کی تحریک کے دوران ان پر جو مقدمات درج ہوئے تھے وہ واپس لیے جائیں۔
- حکومت کی جانب سے کام دینے کی سکیم منریگا کے تحت سال میں 200 دن کا کام فراہم کیا جائے اور یومیہ اجرت 700 روپے کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ روکنے کے حکومتی حربے
اس تحریک کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا کیونکہ کسان یونین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کے دو دور تعطل کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔
دلی میں پولیس نے 2020 کی صورتحال سے بچنے کی کوشش میں شہر کے تین اطراف کی سرحدوں کو سیل کر دیا ہے۔
دریں اثنا کسانوں کے مارچ کو روکنے کے لیے جہاں رکاوٹیں لگائی جا رہی ہیں وہیں ہریانہ میں منگل کے روز انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گيا۔
کسانوں پر سڑکوں پر ٹریفک جام کرنے کے الزامات کے جواب میں ایک شخص نے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم ایک طرف کنارے سے جا رہے ہیں، جنھوں نے سڑک بند کی، الزام ان کے سر جاتا ہے، ہم سب اس سے بری الذمہ ہیں۔‘
تین برس پہلے کے احتجاج میں اگر پنجاب کی 32 کسان تنظیمیں شامل تھیں تو اس بار 50 سے زیادہ یونینز شامل ہیں اور ملک بھر سے 200 سے زیادہ تنظیمیں دہلی کی جانب مارچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کسانوں سے بات چیت کی ناکامی کے بعد وزیر زراعت ارجن منڈا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسان تنظیموں کے ساتھ بات چیت بہت سنجیدگی سے ہوئی تھی۔ حکومت ہمیشہ چاہتی ہے کہ ہر مسئلہ بات چیت سے حل ہو۔ اسی مقصد سے ہم یہاں آئے ہیں۔ ہم حکومت ہند کے نمائندے کے طور پر آئے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسے تمام موضوعات پر بات ہوئی جہاں ہم نے اتفاق کیا لیکن کچھ موضوعات ایسے تھے جن پر ہم نے کہا کہ اس طرح کے بہت سے متعلقہ مسائل ہیں جن کا عارضی حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس میں اپنے خیالات پیش کر کے مستقل حل تلاش کرنا چاہیے۔۔۔ ہم اب بھی بات کرنے کے خواہاں ہیں۔‘
جبکہ یونائیٹڈ کسان مورچہ کے کنوینر جگجیت سنگھ دھالیوال نے کہا کہ یہ میٹنگ کافی دیر تک چلی اور ہر مطالبے پر بات کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’میں واضح کر دوں کہ یہ مطالبات نہیں تھے۔ یہ وہ وعدے تھے جو مختلف ادوار میں حکومت نے ہم سے کیے تھے۔ حکومت ان پر اتفاق کرنے کی بجائے کہتی ہے کہ وہ اس پر ایک کمیٹی بنائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سوشل میڈیا پر شور
انڈیا میں سوشل میڈیا پر کسانوں کا احتجاج 2024 ٹرینڈ کر رہا ہے اور صارفین ریلیوں اور ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے دریا عبور کرتے ٹریکٹرز کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بی جے پی حکومت کسانوں کی تحریک کے لیے کیلیں ٹھونک رہی ہے، سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی حکومت اپنی کمیوں کو چھپا رہی ہے۔ پوری دنیا بی جے پی کی جابرانہ پالیسیوں کو دیکھ رہی ہے۔ بی جے پی نے ملک میں جمہوریت کا راستہ کھو دیا اور آزادی کی راہ میں بچھائی گئی خاردار تاروں نے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ کو داغدار کیا۔‘
کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے شاعرانہ انداز میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خاردار تاریں، ڈرون سے آنسو گیس، کیل اور بندوقیں۔۔۔ سب کا ہے انتظام، مودی حکومت کسانوں کی آواز پر لگا رہی ہے لگام۔‘
’دس سال میں مودی حکومت نے ملک کو خوراک فراہم کرنے والوں سے کیے گئے اپنے تین وعدوں کو توڑ دیا۔ اب 62 کروڑ کسانوں کی آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ کسان تحریک کو ہماری مکمل حمایت حاصل ہے۔۔۔ اتحاد کی آواز لوہے کے کیل پگھلا دے گی۔‘
بہت سے صارفین نے خاردار تاروں کی تصویر لگا کر لکھا کہ یہ کوئی چین یا پاکستان کے ساتھ ہماری سرحد نہیں بلکہ کسانوں کو دہلی جانے سے روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔
لیکن اس سب تنقید کے دوران بہت سے لوگ اس مارچ میں شریک کسانوں کو ’امیر اور نقلی‘ کسان بتا رہے ہیں جبکہ بہت سے صارفین اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ ان کی وجہ سے عام شہریوں کو دشواریاں ہو رہی ہیں۔


























