انڈیا کی ایک تہائی آبادی اب مڈل کلاس: متوسط آمدن کے لوگ ملکی ترقی کے لیے اہم کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
- وقت اشاعت
انڈیا کی آبادی میں ہر تین میں سے ایک شخص اب مڈل کلاس یا متوسط طبقے میں شامل ہے جس کی سالانہ آمدنی پانچ لاکھ روپے سے 30 لاکھ روپے تک ہے۔
اقتصادی تحقیق کے ادارے پیپل ریسرچ آن انڈیاز کنزیومر اکانومی (پرائس) کے ذریعے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2005 میں ملک میں 14 فیصد مڈل کلاس لوگ تھے۔ 16 سال بعد 2021 میں یہ شرح بڑھ کر 31 فیصد ہو گئی ہے۔
اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک کی آبادی میں مڈل کلاس کی شرح 2047 تک 63 فیصد ہو جانے کی توقع ہے۔ ’دی رائز آف مڈل کلاس‘ نامی اس رپورٹ کے سربراہ راجیش شکلا کے حوالے سے میڈیا میں بتایا گیا ہےکہ ’اگر ملک میں اقتصادی اور سیاسی اصلاحات صحیح سمت کی طرف جاتے ہیں تو انڈ یا میں آمدنی کا جو پیرامڈ ہے اس میں نیچے کا حصہ یعنی کم آمدنی والے یا غریب لوگوں کا حصہ بہت چھوٹا رہ جائے گا۔ اس میں سب سے بڑا گروپ مڈل کلاس کا ہوگا اور سب سے اوپر امیر اور امیر ترین لوگوں کی ایک خاصی بڑی تعداد ہو گی۔
’سپر امیر‘ کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے جن کی فیملی انکم دو کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 1994-95 میں ملک میں سپر رچ لوگوں کی تعداد 98000 تھی۔ اب یہ تعداد بڑھ کر 18 لاکھ ہو چکی ہے۔ یعنی امیر ترین لوگوں کی تعداد میں 18 گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سروے کے مطابق مہاراشٹر ملک کی امیر ترین ریاست ہے جہاں 2021 میں دو کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی والی فیملیز کی تعد چھ لاکھ 40 ہزار تھی۔ 1 لاکھ 81 ہزار فیملیز کے ساتھ دارالحکوت دلی دوسرے مقام پر ہے۔
گجرات میں امیر گھروں کی تعداد 1 لاکھ 41 ہزار ہے۔ امیر خاندانوں کے لحاظ سے تمل ناڈو اور پنجاب چوتھے اور پانچویں مقام پر ہیں۔
اس رپورٹ میں 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 63 شہروں میں سروے کیا گیا ہے۔ غریب ترین لوگوں کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے جن کی آمدنی ایک لاکھ 25 ہزار روپے سے کم ہے۔سروے میں پایا گیا کہ اس زمرے کے لوگ عموماً کار خریدنےکی حالت میں نہیں ہوتے۔ ان میں سے کسی کے پاس ایئر کنڈیشنر (اے سی) نہیں ہے۔ جبکہ ان سے ذرا اوپر کے طبقے میں جو دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے ان میں 10 میں سے چار سے کم لوگوں کے پاس موٹر سائيکل ہے۔ ان میں دو فیصد کے پاس اے سی بھی ہے۔
مڈل کلاس کے اس زمرے میں جن کی سالانہ آمدنی 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک ہے ، ان میں ہر 10 گھروں میں سے تین کے پاس کار ہے۔ جبکہ 30 لاکھ روپے سے زیادہ انکم والے امیر لوگوں میں ہر گھر میں کار ہے۔ امیر ترین گھروں میں اوسطاً تین کاریں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ متوسط طبقہ یا مڈل کلاس کی تشریح محققین اور ماہر اقتصادیات کے لیے ہمیشہ مشکل رہی ہے۔ عملی سطح پر بھی اس کی ایسی کوئی تشریح موجود نہیں ہے جو سبھی کے لیے قابل قبول ہو۔
ان مسائل کے ساتھ سروے کے اعداد و شمار کی اپنی پیچدگیاں ہوتی ہیں جن کے سبب اس طرح کے مطالعوں میں الگ الگ نتائج سامنے آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مڈل کلاس کی اہمیت کیا ہے ؟
مڈل کلاس کسی بھی ملک کے معاشرتی درجے اور حیثیت میں درمیان کا طبقہ ہے۔ یہ ورکنگ کلاس یعنی مزدوری اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور امیر طبقے کے بیچ کا طبقہ ہے۔ تقافتی اور اقتصادی وجوہات سے مختلف ملکوں میں ان کی نوعیت الگ الگ ہے۔
عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ جس کی آمدنی 10 سے 100 ڈالر یومیہ ہے وہ متوسط طبقے میں شمار ہوتا ہے۔ گذشتہ صدی میں دنیا کے سبھی ملکوں کے مڈل کلاس نے عالمی معیشت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
ماہر اقتصادیات ابھیجیت رائے نے انڈیا کے مڈل کلاس پر اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’گذشتہ چند عشروں میں دنیا میں جو اقتصادی ترقی ہوئی ہے اس میں امریکہ ، یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے مڈل کلاس کی خریداری کی قوت میں اضافے کا بہت بڑا کردار ہے۔ متوسط طبقہ بیشتر اشیا اور خدمات کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ براہ راست یا بالواسطہ ٹیکس آبادی کے اسی زمرے سے آتا ہے۔ ساتھ یہی گروپ کسی بھی ملک کے سیاسی استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فریج، اے سی، کار، واشنگ مشینیں، انٹر ٹینمنٹ، سیاحت، تعلیم، صحت اور سبھی اشیا کا سب سے بڑا صارف یہی متوسط طبقہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے جتنا بڑا متوسط طبقہ ہوتا ہے اتنی ہی اس کی معیشت میں ترقی ہوتی ہے۔
آیم آئی ٹی کے ایک سرکردہ ماہر اقتصادیات لیسٹر تھیرو نے کہا تھا کہ ’ایک صحت منت سیاسی جمہوریت کے لیے ایک صحت مند متوسط طبقے کا ہونا لازمی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صرف امیر اور غریب ہو وہاں سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے اعتدال کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔‘
کیا انڈیا مڈل انکم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے؟
عالمی بینک کے معیار کے مطابق 2021 میں انڈیا کی فی کس آمدنی کا تخمینہ 2277 ڈالر تھا۔
عالمی بینک کے موجودہ پیمانے کے مطابق جن ممالک کی مجموعی قومی آمدنی فی کس 1036 ڈالر سے 4045 ڈالر تک ہے وہ لور مڈل کلاس یعنی متوسط طبقے سے کم والے زمرے میں آتے ہیں۔
مڈل کلاس کے لیے 44045 سے 12235 ڈالر کا معیار رکھا گیا ہے۔
انڈیا اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ انڈیا کی معیشت گذشتہ 15 برس کے دوران اوسطاً سات فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔
اگر یہ رفتار قائم رہی تو آئندہ 20 برس میں یہ دنیا کے بڑے اپر مڈل کلاس ملکوں میں شامل ہو گا۔ اگر اس کی معیشت کی رفتار چار فیصد کی شرح کے آس پاس رہتی ہے تو بھی یہ بالائی مڈل کلاس کی صف میں شامل ہو گا۔


























