اب نظریں ملا کے دیکھیں؟

    • مصنف, ثمرہ فاطمہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت

یہ کہانی میری ہے۔ شاید آپ کی بھی ہو۔ یا پھر آپ کی زندگی میں کسی ایسے شخص کی جو آپ کو بہت عزیز ہو۔

ہم کتنے ہی پرعزم اور باحوصلہ کیوں نہ ہوں، آخر کار انسان ہی ہیں۔ دل دکھتا بھی ہے، تڑپتا بھی ہے اور بے چین بھی ہوتا ہے۔

یہ کہانی اس ٹوٹ پھوٹ کی ہے جو شاید ہم سبھی کے اندر ہو رہی ہوتی ہے۔ لیکن یہ کہنے کا موقع نہیں دیا جاتا کہ ہم تکلیف میں ہیں۔

جس معاشرے سے ہمارا تعلق ہے وہاں دلوں کی بےچینیوں کے ساتھ جینے کے ہم اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جب تک بات زندگی اور موت تک نہیں پہنچ جاتی، اس بات کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی کہ ’زندگی اتنی مشکل نہیں ہونی چاہیے‘۔

میں نے جرات کی اور ’ڈرامہ کوئین‘ کہلائی

آپ کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، آپ کی گھٹی میں یہ سبق ضرور پلایا گیا ہوگا کہ ہم اچھے لوگ ہیں۔ بہت اچھے۔ ہم کبھی اس سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتے جو ہمارے بزرگوں نے کیا ہو۔ بھلے ہی وہ طرز زندگی آج کے دور میں انصاف کے زمرے میں نہ آتی ہو، لیکن ہم سوال بھی نہیں کرتے۔ یہ تک نہیں پوچھتے کہ ’اچھے لوگ‘ ہونے کا آخر مطلب ہے کیا؟ اچھا کہلائے جانے کے لیے شرط زیادتیاں برداشت کرنا کیوں ہوتی ہے؟

دنیا کے بیشتر معاشروں میں، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، اچھا اسے ہی سمجھا جاتا ہے جو بغیر عُذر تمام دائروں میں محدود کیا جانا تسلیم کر لے۔ یہ توقعات ہر رشتے میں کی جاتی ہیں ماں، باپ، شوہر، بیوی، بھائی، بہن، اولاد یا دوست۔

آپ سے کسی بھی حد تک برداشت کی توقع کی جاتی ہے۔ بھلے اس کی آپ کو بھاری قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑ جائے۔ ذہنی توازن بگڑ جائے، آپ ڈیپریشن کے مریض ہو جائیں، دن رات بےچینی میں گزریں، راتوں کو نیند نہ آئے، لیکن رشتوں میں انصاف مانگنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

 کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے ہاں پیار جتانے کا بھی طریقہ قربانی کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ آپ جتنا خود کو داوٴ پر لگاتے چلے جائیں گے اتنی ہی اس بات کی یقین دہانی کرا پائیں گے کہ آپ کسی کو کتنا پیار کرتے ہیں اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے، خود کی ذہنی اور نفسیاتی تکلیف سے نجات کے لیے ان روایات پر سوالات اٹھاتے ہیں، وہ خود غرض سمجھے جاتے ہیں۔

میری بھی خطا یہ تھی کہ میں نے انڈیا جیسے معاشرے میں اس حق کا مطالبہ کیا جس کے ساتھ ہر انسان پیدا ہوتا ہے۔ اپنے لیے خواب دیکھنے کا حق۔ تکلیف کو بیان کرنے کا حق۔ یہ کہنے کا حق کہ مرد ہو یا عورت ہر کسی کو تکلیف برابر ہوتی ہے۔ لہذا مجھے بھی ’ڈرامہ کوئین‘ کے  تمغے سے نوازا گیا۔

یہ صرف میری نہیں، کروڑوں لوگوں کی کہانی ہے۔ اصل میں اگر آپ وہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں جو صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے لیے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔ غلط صحیح کی بحث چھیڑنا یا برابری کے سلوک کا مطالبہ تک آپ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ اور ایسا کرنے والے کے لیے ایک نام ہمارے ہاں عام ہے’ڈرامہ کوئین‘ یعنی ’ڈرامہ باز‘۔ 

اور اسی ڈر سے کہ کہیں ڈرامہ کوئین نہ سمجھ لیے جائیں لوگ دلوں میں بے چینیاں لیے زندگی گزارتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے خود سے سوال کیا ہے کہ ایثار کے نام پر خوابوں کی قربانی مانگ کر، یا شکایت کا حق چھین کر، ہم کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کر رہے؟

’دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے‘

بی بی سی پوڈکاسٹ ڈرامہ کوئین میں ہم ایسی کہانیاں آپ تک لے کر آئے ہیں جنھیں سن کر آپ خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کہیں آپ خود ان لوگوں کی تکالیف کا سبب تو نہیں جنہیں آپ بے حد محبت کرتے ہیں۔

یہ بات آپ کو حیران نہیں کرتی کہ بڑی سے بڑی پریشانی میں بھی اگر کوئی ہاتھ تھام کر صرف اتنا کہہ رہے کہ مجھے بتاؤ کیا بات ہے تو ایسا لگتا ہے دل کا بوجھ کم ہو گیا۔ صرف کسی کا یقین دلانا کہ وہ ہمیں سمجھ رہے ہیں امید بندھانے لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

انسانی نفسیات کے بارے میں اس بات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے اور ڈرامہ کوئین پوڈ کاسٹ کے ذریعے ہم بہت سی ایسی باتیں کر رہے ہیں جن کے بارے میں آپ نے سوچا تو ضرور ہوگا لیکن کہنے کی ہمت نہیں ہوئی ہوگی۔

یہ پوڈ کاسٹ خود اپنی زندگی کے ان تلخ تجربات کا سامنا کرنے کے بارے میں ہے جنھیں ہم کبھی کسی سے بانٹ نہیں پاتے۔ بہت سی ایسی باتوں کے بارے میں ہے جو شاید آپ کو جھنجوڑ کر رکھ دیں۔

’ڈرامہ کوئین‘ میں شامل کہانیاں

اس پوڈ کاسٹ کے ہر قسط میں میرے ساتھ آپ ایسے مردوں اور خواتین کی کہانیاں سنیں گے جنہوں نے دائروں میں محدود کیے جانے کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی جرات کی۔

وہ شکایات جنہیں بحیثیت ماں آپ زبان پر لا نہیں سکتیں، مردوں پر پڑنے والے معاشی اور ذہنی دباوٴ، مردانگی کے تصور میں فِٹ ہونے کا دباوٴ، عورتوں پر گھر اور باہر دونوں جگہ پرفیکٹ ہونے کا دباوٴ، شادی کے لیے کریئر کی قربانی کا دباوٴ، شادی شدہ زندگی میں تشدد برداشت کرنے کی مجبوریوں کی کہانیاں، والدین کو مایوس کرنے کا خوف یا بچوں میں برابری کی سمجھ پیدا کرنے کا چیلینج۔

اس پوڈکاسٹ کی پہلی سیریز میں ہم پانچ قسطیں لے کر آئے ہیں لیکن یہ اس سفر کا آغاز ہے جسے ہم آگے بھی آپ کے ساتھ جاری رکھنا چاہیں گے۔

ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ اپنی کہانی یا اپنے دل کی کوئی بھی ایسی بات ہم سے کہہ سکیں جو آپ کو پریشان کرتی ہے۔ ڈرامہ کوئین کی مستقبل کی اقساط میں ہم ان موضوعات کو ٹٹولیں گے جو آپ کے لیے اہم ہیں۔ 

ہمیں ڈھیروں پیغامات مل رہے ہیں۔ آپ سب کی محبت کا بہت شکریہ۔ یہ جان کر اچھا لگ رہا ہے کہ آپ کو یہ پوڈکاسٹ پسند آ رہا ہے۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ انہیں یہ پوڈ کاسٹ سن کر حوصلہ ملا۔ انہیں اپنی مشکلوں کا سامنا کرنے کی ہمت ملی۔ میرے لیے یہ بہت خوشی کی بات ہے دل سے نکلی باتیں دلوں تک پہنچ رہی ہیں۔

اس پوڈ کاسٹ کا ٹائٹل سانگ، ’نظریں چرا چکے بہت، اب نظریں ملا کے دیکھیں‘،  لکھتے وقت بھی میں بار بار یہی سوچ رہی تھی کہ آخر وہ کون سے الفاظ ہوں جن کے ذریعے میں یہ کہہ سکوں کہ ’چلیں بات کر کے تو دیکھتے ہیں، کیا پتا کوئی حل ہی نکل آئے۔‘

اس پوڈکاسٹ کو آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے علاوہ آڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز پٹاری، سپوٹیفائی اور ایپل پر بھی سن سکتے ہیں۔  انڈیا میں اسے جیو ساون اور گانا ایپ پر بھی سنا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سبھی قسطیں  ہمارے یوٹیوب چینل پر بھی موجود ہیں۔