انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے انڈیا اور
پاکستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے
ہوئے واضح کیا ہے کہ پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعلقات کی بہتری وقت کی
اہم ضرورت ہے، جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
انھوں نے اس بات پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا کہ جب بھی کشمیر کی
قیادت یا کشمیری سیاست دان دونوں ممالک کے درمیان امن اور بات چیت کی وکالت کرتے
ہیں، تو انڈیا کے سیاسی حلقوں اور میڈیا میں اسے متنازع بنا دیا جاتا ہے اور ان پر
تنقید کی جاتی ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی
ضلع شوپیان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے سول سوسائٹی کی جانب سے
وزیرِ اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے مشترکہ خط
کی تائید کی۔ انھوں نے اس سوچ پر سوال اٹھایا جو کشمیر سے اٹھنے والی امن کی
آوازوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر میری
معلومات درست ہیں تو پچھلے دنوں آر ایس ایس کے سب سے
بڑے لیڈر موہن بھاگوت نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنی
چاہیے اور دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔‘
’اب اگر آر ایس ایس یہ کہے تو کسی کو
اعتراض نہیں ہوتا، لیکن جب جموں کشمیر کے سیاسی رہنما یہی یہ بات کرتے ہیں تو
ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ہمیں ملک مخالف قرار دینے کی کوشش
کی جاتی ہے۔ اگر امن اور مذاکرات کی اپیل کا کچھ حلقوں سے خیرمقدم کیا جاتا ہے، تو
جموں و کشمیر سے آواز اٹھنے پر اسے متنازع کیوں بنا دیا جاتا ہے؟‘
عمر عبداللہ نے انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشہور
قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دوست
بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ سرحدوں پر مستقل امن اور خطے کی ترقی کا واحد
راستہ سفارت کاری اور بات چیت ہی ہے۔
ٹریک ٹو سفارت کاری اور ’آپریشن سندور‘
واضح رہے ماضی میں جب بھی باقاعدہ سرکاری سطح پر ہونے
والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو پسِ پردہ یا غیر سرکاری سفارت کاری ’ٹریک ٹُو‘نے دونوں ممالک کو جوڑے
رکھا۔
حالیہ دنوں میں کولمبو یا دیگر مقامات پر ہونے والی غیر رسمی نشتوں اور
خطے میں پیدا ہونے والی تزویراتی تبدیلیاں، بشمول ماضی کے عسکری آپریشنز جیسے کہ
'آپریشن سندور کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ہمیشہ
ٹریک ٹو مراسم کو متحرک کرتی رہی ہے۔
ان غیر سرکاری چینلز میں دونوں ممالک کے ریٹائرڈ سفارت کار، فوجی حکام
اور دانشور سرگرم رہتے ہیں تاکہ کشیدگی کو جنگ کی حد تک بڑھنے سے روکا جا سکے۔ عمر
عبداللہ کے مطابق ’جب دونوں
ممالک کے مابین پسِ پردہ سفارت کاری اور سو سے زائد مقتدر شہریوں کے دستخطوں سے
امن خطوط جاری ہو رہے ہیں، تو اس عوامی جذبے کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ اس پر
سیاست چمکائی جائے۔‘
انڈیا، پاکستان مذاکرات کا پس منظر اور تعطل کا لامتناہی سلسلہ
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پچھلی ساڑھے تین سے چار دہائیوں سے شدید
اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ دونوں کے درمیان بنیادی تنازع
رہا ہے، جس کی وجہ سے تین بڑی جنگیں اور متعدد چھوٹی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ماضی میں
آگرہ سربراہی کانفرنس، لاہور امن اعلامیہ اور جامع مذاکرات جیسے بڑے
اقدامات کیے گئے لیکن ہر بار یہ کوششیں کسی نہ کسی بڑے واقعے جیسے کارگل جنگ،
ممبئی حملوں یا حالیہ برسوں میں پلوامہ اور گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والے مسلح حملے
کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئیں۔
پہلگام حملے کے بعد نئی دلّی کا موقف مزید سخت ہو گیا ہے، جہاں انڈین
حکومت کا اصرار ہے کہ ’دہشت
گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘۔ دوسری طرف، جموں و کشمیر کی مقامی قیادت
کا ماننا ہے کہ بات چیت بند ہونے سے سب سے
زیادہ کشمیری عوام کو متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرحد پر گولہ باری اور اندرونی بدامنی
کا خمیازہ انھیں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
’مسلسل مکالمہ امن کی ضمانت‘
عمر
عبداللہ کا یہ بیان اس سیاسی اور جغرافیائی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا
میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ہچکچاہٹ اور خوف کا ماحول ختم کرنا ہوگا۔
مبصرین
کہتے ہیں کہ ’عمرعبداللہ کا یہ دو ٹوک موقف کہ مذاکرات پر جموں و کشمیر کے رہنماؤں کو
نشانہ بنانا بند کیا جائے، دراصل نئی دلّی کے سیاسی رویوں کے تضاد کو بے نقاب کرتا
ہے۔‘
صحافی ہارون ریشی کہتے ہیں ’اگر آر ایس ایس جیسے
نظریاتی گروپ یا ملک کے دیگر حصوں کے دانشور امن کی بات کر سکتے ہیں، تو کشمیری
قیادت کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ اور خوشحالی کے لیے
دونوں ہمسایہ ممالک کو میز پر آنے کی دعوت دے سکے، کیونکہ مسلسل مکالمہ ہی امن کی ضمانت
ہے۔‘