سندھ کے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری، جیت کے دعوے اور سوشل میڈیا صارفین کے شکوے

karachi election

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حوالے سے ایک بات کہی جاتی ہے کہ وہاں پتا بھی کھڑک جائے تو خبر بن جاتی ہے اور یہ تو معاملہ ہے اتوار کو ہونے والے سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا پر اِس وقت بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مختلف ٹرینڈز موجود ہیں۔

یونین کونسل کی سطح پر ہونے والے ان انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے اپنی اپنی جیت کے دعوے شروع کر دیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس کے مطابق یونین کونسل نمبر ایک اور دو سے تحریک انصاف کے امیدوار، یونین کونسل نمبر تین سے پیپلز پارٹی کے امیدوار جبکہ یونین کونسل نمبر چار سے آزاد امیدوار نے سب سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔

karachi election

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملک بھر کے سوشل میڈیا صارفین نہ صرف کراچی کے اگلے میئر اور اس کو درپیش ممکنہ چیلینجز کے حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ امیدواروں کی انتخابی مہم کا موازنہ کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔

اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق گو کہ تحریک انصاف کچھ نشتیں لینے میں کامیاب ہے تاہم کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے موجود ٹرینڈز میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور تحریک انصاف سندھ کی قیادت کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شمس العباد نامی صارف نے لکھا ہے کہ ’کراچی کے بغیر عمران خان کا سادہ اکثریت حاصل کرنے کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔ تحریک انصاف کراچی کی لیڈرشپ ناکام ہو گئی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

تحریک انصاف کراچی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنتے ہوئے کئی صارفین کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ انتخابی مہم میں تحریک انصاف انہیں کہیں دکھائی نہیں دی اور انھیں اپنے پولنگ سٹیشن کے پاس پی ٹی آئی کا کیمپ بھی نہیں دکھائی دیا۔

کچھ صارفین نے تحریک انصاف کو عملی سطح پر کارکردگی دکھانے کا مشورہ بھی دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک اور ٹوئٹر صارف نے کراچی اور سندھ کی لیڈر شپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس وقت جبکہ عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں علی زیدی اور ان کی ٹیم کی پرفارمنس انتہائی خراب ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

کراچی میں یونین کونسل کی سطح پر جماعت اسلامی کے امیدواراوں کی طویل عرصے بعد متوقع جیت کے امکان پر ان کے سپورٹرز کی جانب سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم کے انتخابی مہم میں ان کے آن گراونڈ رہنے کو نہ صرف بہت سراہا جا رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ان سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کراچی کے حالات سدھارنا اولین ترجیح ہو گی۔

صفیہ نامی صارف نے لکھا کہ ’بہت سوچا کراچی گھومنے کو مگر جو حالات ہیں وہ خوف اور ڈر کے سوا کچھ نہیں دیتے تھے۔۔۔ مگر اللہ نے ہماری بھی سن لی۔۔۔ اب انشااللہ بدلتا اور ابھرتا کراچی ہم بھی دیکھیں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

یاسر وسیم نامی صارف نے لکھا ہے کہ کراچی میں رہنے والے جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ نعیم گراونڈ پر موجود رہے جبکہ پی ٹی آئی کے شیر زمان، علی زیدی اور عمران اسماعیل پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور میں کلفٹن اور ڈی ایچ اے سے آگے نہیں نکلے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 5

پاکستان میں انتخابات ہوں اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات نہ ہوں ایسا عام طور پرہوتا نہیں۔

اس لیے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی ممکنہ دھاندلی کے خدشہ کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کی ایک وجہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے باعث ٹرن آوٹ کی کمی کے باوجود انتخابی نتائج میں سست روی بتائی جا رہی ہے جبکہ کئی صارفین نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو نتائج چیلنج کرنے کے مشورے بھی دینا شروع کر دیے ہیں۔

ایسے ہی ایک صارف کے مطابق عام انتخابات میں بھی نتائج رات گیارہ بجے سے موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی انتخابی نتائج کو لازمی چیلینج کریں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 6

ایک اور صارف کے مطابق کم ٹرن آؤٹ میں صرف پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے کیمپ ہی مصروف تھے۔ پیپلز پارٹی کہاں سے آئی؟ بمشکل 100 سے 150 ووٹ فی یوسی میں شمار ہونے چاہیے تھے لیکن نتائج کو روکے رکھنا دھاندلی کو ظاہر کرتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 7

الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج میں تاخیر کی سبب کے حوالے سے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایک یونین کونسل کے نتائج بنانے میں وقت لگتا ہے۔

ان کے مطابق ان انتخابات میں آر ٹی ایس نظام نافذ العمل نہیں اور نتائج کمپیوٹر ایکسل شیٹ پر بن رہے ہیں۔ یونین کونسل کے چار وارڈ اور 20 پولنگ سٹیشن ہیں اور اگر ایک بھی پولنگ سٹیشن کا نتیجہ نہیں آتا تو نتیجہ مکمل نہیں ہوتا۔