رومانس کے بغیر شادی: دو سہیلیوں نے زندگی ایک ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

رینی اور ایپریل، دو نوجوان خواتین۔ ایک نے نیلے اور دوسری نے جامنی رنگ کا لباس پہن رکھا ہے۔ وہ سبز میدان میں کھڑی ہیں

،تصویر کا ذریعہRenee Wong

،تصویر کا کیپشنرینی اور ایپریل کی ملاقات 12 سال کی عمر میں ہوئی اور وہ بہترین دوست بن گئیں۔ یہ تعلق ان دونوں کے لیے اتنا اہم ہے کہ انھوں نے قانونی طور پر شادی کر لی، حالانکہ ان کے درمیان نہ رومانوی تعلق ہے اور نہ جنسی تعلق
    • مصنف, جولیا گرانچی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

رینی وونگ اور ایپریل لی ایک دوسرے کو 12 سال کی عمر سے جانتی ہیں۔ 2026 میں وہ اپنی شادی کی دوسری سالگرہ منا رہی ہیں۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں، مشترکہ بینک اکاؤنٹ رکھتی ہیں اور مستقبل کے منصوبے بھی مل کر بناتی ہیں۔

تاہم ان کے تعلق کی ایک غیر معمولی بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک ہی بستر پر نہیں سوتیں بلکہ خود کو رومانوی جوڑا بھی نہیں سمجھتیں۔

29 سالہ ان دونوں خواتین کا تعلق ایک ایسے تصور کی مثال ہے، جسے سائیکالوجی کی زبان میں ’دوستانہ رفاقت پر مبنی رشتہ‘ کہا جاتا ہے، جس پر اب تک بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔

رینی اور ایپریل قانونی طور پر شادی شدہ ہیں اور مستقبل میں بچے پیدا کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں، لیکن ان کے بقول ان کے درمیان کبھی رومانوی یا جنسی کشش نہیں رہی۔

وہ خود کو ’ایک روح‘ قرار دیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ان کے درمیان موجود تعلق ایسی گہری رفاقت پر مبنی ہے جس کی جگہ کوئی رومانوی محبت نہیں لے سکتی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رینی نے کہا ’ہم زندگی اور شادی جیسے اہم رشتے کو کسی ایسے رومانوی ساتھی کے لیے کیوں محفوظ رکھیں، جو ابھی ہماری زندگی میں آیا ہی نہیں؟ اگر ایسا کوئی شخص آ جاتا ہے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن جب وہ موجود نہیں اور جو انسان پہلے ہی میری زندگی میں ہے وہ میرے سامنے کھڑا ہے، تو پھر اس مقام کا حقدار وہ کیوں نہ ہو؟‘

رینی اور ایپریل کی بچپن میں ایک ساتھ لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہRenee Wong

،تصویر کا کیپشنرینی اور ایپریل کی بچپن میں ایک ساتھ لی گئی تصویر: 16 سالہ دوستی جو سوچ سمجھ کر عمر بھر کے عہد میں بدل گئی

’یہ وہی ہے جسے میں اپنی موت کے وقت اپنے ساتھ دیکھنا چاہوں گی‘

جب رینی اور ایپریل کی ملاقات سنگاپور کے ایک سکول میں ہوئی تو دونوں کے درمیان فوراً ایک گہرا تعلق قائم ہو گیا۔

وہ تقریباً ہر وقت ایک ساتھ رہتی تھیں۔ سکول کے بعد ایک دوسرے کے گھر جانا، ہفتے کے دن اضافی کلاسوں میں شرکت کرنا اور اتوار کو چرچ جانا ان کے معمولات کا حصہ تھا۔ رینی ہنستے ہوئے یاد کرتی ہیں کہ ’لفظی طور پر ہفتے کے ساتوں دن ہم ساتھ ہوتے تھے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دونوں کی کوئی بہن یا بھائی نہیں تھے اور رینی کے مطابق شاید یہی وجہ تھی کہ کم عمری ہی میں انھوں نے ایک دوسرے کے لیے وہ جگہ پُر کر دی۔

وقت کے ساتھ وہ صرف دوست نہیں رہیں بلکہ بہنوں کی طرح ہو گئیں۔ ان کے خاندانوں میں بھی قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔ وہ کرسمس اور نئے سال کی تقریبات مل کر مناتیں اور زندگی کے اہم مواقع ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتیں۔

سال گزرتے گئے اور ان کا رشتہ اتنا مضبوط ہو گیا کہ دونوں ایک دوسرے کے خاندان کا حصہ بن گئیں۔ پھر زندگی انھیں مختلف راستوں پر لے گئی۔ رینی اعلیٰ تعلیم کے لیے لاس اینجلس منتقل ہو گئیں جبکہ ایپریل سنگاپور میں رہیں۔ الگ الگ براعظموں میں رہتے ہوئے بھی ان کی دوستی برقرار رہی، اگرچہ اس وقت تک انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ رشتہ اپنی موجودہ شکل سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔

پھر کورونا کی وبا آ گئی۔ سرحدوں کی بندش اور مختلف ٹائم زونز کے باوجود دونوں روزانہ کئی کئی گھنٹے بات کرنے لگیں، بعض اوقات 12 گھنٹے تک۔

رینی کہتی ہیں کہ اسی دوران انھیں اپنی دوستی کی اصل اہمیت کا احساس ہوا۔

ان کے بقول ’مجھے محسوس ہوا کہ دنیا میں اگر کوئی شخص مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے تو وہ ایپریل ہے۔ یہ رومانوی محبت نہیں تھی، لیکن میں جانتی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میں اسی کو اپنے پاس دیکھنا چاہوں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پھر ایک سوال بار بار ذہن میں آنے لگا: ’اگر میں اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں اسے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں تو پھر ہم ایک ساتھ زندگی کیوں نہ گزاریں؟ ہماری زندگیاں الگ الگ کیوں ہیں؟‘

رینی اور ایپریل کا کہنا ہے کہ اسی مرحلے پر انھیں احساس ہوا کہ ان کی دوستی معمول کی دوستی سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، اتنی مضبوط کہ اسے شادی جیسے باقاعدہ اور مستقل عہد کی شکل دی جا سکتی ہے۔

رینی اور ایپریل ایک سیلفی لے رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہArchivo personal

،تصویر کا کیپشنرینی اور ایپریل ایک سیلفی لے رہی ہیں

رینی یونیورسٹی سے فارغ ہی ہوئی تھیں کہ کورونا وبا پھیل گئی۔ وہ اس دور کو زندگی میں ایک طرح کے ’وقفے‘ کے طور پر یاد کرتی ہیں، ایسا وقت جب انھیں بہت سی چیزوں پر نئے سرے سے غور کرنے کا موقع ملا۔

جوں جوں رینی اور ایپریل کی بات چیت بڑھتی گئی، رینی کو محسوس ہونے لگا کہ وہ اس انسان میں ڈھل رہی ہیں جو وہ ہمیشہ بننا چاہتی تھیں۔ جب عالمی سفری پابندیوں میں نرمی آئی تو دونوں نے ایک ساتھ رہنے کے منصوبے بنانا شروع کر دیے۔

بالآخر 2024 کے آغاز میں انھوں نے لاس اینجلس میں قانونی طور پر شادی کر لی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انھیں اکثر اپنے رشتے کے بارے میں وضاحت دینا پڑتی ہے۔

دونوں خود کو ابیلنگی (جو جذباتی یا رومانوی طور پر ایک سے زیادہ جنس کی طرف کشش محسوس کر سکتی ہوں) قرار دیتی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی طرف رومانوی یا جسمانی کشش محسوس نہیں کرتیں۔ رینی ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’ہم اکثر مذاق میں کہتے ہیں کہ ہماری جسمانی کیمسٹری بالکل نہیں بنتی۔‘

ان کے مطابق بچپن سے ساتھ پروان چڑھنے کی وجہ سے ان کا تعلق زیادہ تر بہنوں جیسا ہے۔ ’سائنسی اعتبار سے بھی شاید ایسا ہی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی خوشبو تک پسند نہیں، اس لیے کم از کم کیمیائی سطح پر تو ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔‘

رینی اور ایپریل کے لیے شادی رومانوی تعلق سے زیادہ ایک ایسے بندھن کا اظہار ہے جو برسوں کی دوستی، اعتماد اور باہمی وابستگی پر قائم ہے۔

عزمِ رفاقت کا انتخاب

ان کی شادی نہ تو رومانس کے پردے میں چھپا کوئی عملی بندوبست تھی اور نہ دوستی کا روپ دھارے کوئی رومانوی تعلق۔

دونوں کے مطابق یہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کی زندگیوں کا سب سے اہم رشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے قائم تھا اور وہ اسی مقام کا حق دار تھا جو معاشرہ عموماً صرف رومانوی تعلقات کو دیتا ہے۔

رینی کہتی ہیں ’17 سالہ دوستی کے دوران ہماری اپنی اپنی محبتیں رہیں، بوائے فرینڈز رہے اور دیگر رومانوی تعلقات بھی۔ لیکن آخرکار یہی رشتہ قائم رہا۔ جب میرا اپنے بوائے فرینڈ سے جھگڑا ہوتا تو اس تجربے سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے میں ایپریل میرا ساتھ دیتی۔ زندگی کے ساتھی میں جن خوبیوں کی میں توقع کرتی ہوں، وہ جذباتی سرمایہ کاری اور ساتھ اسی نے فراہم کیا ہے۔ ہم ہر مرحلے پر ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھی ہیں۔‘

رینی سوال اٹھاتی ہیں ’یہ مقام لازماً کسی رومانوی ساتھی ہی کے لیے کیوں مخصوص ہو؟‘

ان کے بقول ’یہ اس عورت کا کیوں نہیں ہو سکتا جس نے حقیقت میں میری زندگی میں سرمایہ کاری کی، میری نشوونما میں کردار ادا کیا اور مجھے آج کا انسان بنانے میں مدد دی؟ پھر یہ مقام کسی ایسے رومانوی ساتھی کے لیے کیوں محفوظ رکھا جائے جو ابھی میری زندگی میں آیا ہی نہیں، جبکہ یہ سب کچھ کرنے والی شخصیت برسوں سے میرے ساتھ موجود ہے؟‘

جب ان سے وہ سوال پوچھا جاتا ہے جس کا انھیں سب سے زیادہ سامنا رہتا ہے، یعنی ’کیا آپ صرف بہترین دوست نہیں ہیں؟‘ تو دونوں کے پاس اس کا جواب پہلے سے تیار ہوتا ہے۔

رینی اور ایپریل نے 2024 میں لاس اینجلس میں شادی کی، مگر ان کے مطابق ان کا تعلق محض ’بہترین دوستوں‘ سے کہیں بڑھ کر ایک ایسی شراکت داری ہے جو برسوں کے اعتماد، وابستگی اور باہمی ساتھ پر قائم ہے۔

رینی اور ایپریل دلہنوں کے لباس میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا نکاح نامہ بھی موجود ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرینی اور اپریل نے 2024 میں لاس اینجلس میں شادی کی

رینی کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ لوگ دوستی اور شریکِ حیات کے رشتے سے کس درجے کی وابستگی کی توقع رکھتے ہیں۔ میرے لیے تو ایپریل ہی میری شریکِ حیات ہے۔‘

ان کے نزدیک یہ وابستگی صرف ایک چھت تلے رہنے تک محدود نہیں۔

رینی اور ایپریل خود کو مالی شراکت دار بھی سمجھتی ہیں۔ ایپریل بتاتی ہیں ’ہماری تمام آمدنی ایک مشترکہ فنڈ میں جاتی ہے۔‘

وہ ایک ایسے وقت کو یاد کرتی ہیں جب پیشہ ورانہ تبدیلیوں کے دوران ان پر کریڈٹ کارڈ کا قرض چڑھ گیا تھا۔ اسی عرصے میں رینی کو ملازمت سے بونس ملا۔ ایپریل کے مطابق رینی نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سب سے پہلے ان کا سارا قرض ادا کر دیا۔

ایپریل کہتی ہیں ’اس نے مجھ سے صرف اتنا کہا کہ اب یہ بوجھ ہمارے سروں پر نہیں رہے گا۔‘

دونوں کے نزدیک کسی تعلق کی بنیاد باہمی تعاون، مشترکہ ذمہ داری اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے میں ہے، نہ کہ لازمی طور پر رومانوی کشش یا جسمانی قربت میں۔ ان کے خیال میں ایک کامیاب شراکت داری وہی ہے جس میں دو افراد زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا ایک ٹیم کی طرح کریں۔

رومانوی تعلق نہیں

رینی اور ایپریل نہ تو رومانوی تعلق والی زندگی گزار رہی ہیں اور نہ ہی وہ اس طرز محبت کے امکان کو مسترد کرتی ہیں۔

وہ مستقبل میں دوسرے لوگوں سے تعلقات قائم رکھنے کا بھی سوچ رہی ہیں، اگرچہ فی الحال ایسا کوئی تعلق تلاش نہیں کر رہیں اور کچھ عرصہ تنہا ہی رہنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق فرق صرف یہ ہے کہ انھوں نے جو جذباتی بنیاد بنائی ہے، اس نے ان کے معیار کو بہت بلند کر دیا ہے۔

رینی کہتی ہیں ’ہم کسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش نہیں کر رہیں۔ ہم تنہا نہیں ہیں۔‘

ان کے مطابق ایک ساتھ رہنے کے برسوں نے انھیں ان رویوں اور اندازوں کو سمجھنے میں مدد دی جو عموماً محبت کے رشتوں میں سامنے آتے ہیں، جیسے وابستگی کے انداز اور صحت مند مکالمہ۔

وہ مزاحاً کہتی ہیں ’اگر گھر میں پہلے سے ہی فائیوسٹار ہوٹل جیسا کھانا موجود ہو تو۔۔۔‘ پھر وضاحت کرتی ہیں کہ ان کا مقصد رومانوی محبت کی توہین کرنا نہیں۔ لیکن میں اس کے ساتھ فون پر باتیں کرنے اور زیادہ لطف اندوز ہونے کو ایسی ملاقات پر ترجیح دوں گی جو صرف معمولی سی ہو۔‘

ان کے خیال میں رومانوی ساتھی ان کی شادی کے مقابل نہیں ہوں گے بلکہ اسے مزید بہتر بنائیں گے۔

رینی اور ایپریل اس وقت کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں رہتی ہیں۔

ایپریل اور رینی جھیل کے کنارے کھڑی مسکراتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشنایپریل اور رینی جھیل کے کنارے کھڑی مسکراتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہی ہیں

ماضی میں جب ایپریل ایک رومانوی تعلق میں تھیں تو اس تجربے نے بھی دونوں کو ایک دوسرے پر کم انحصار کرنا سکھایا۔

رینی کہتی ہیں ’ہماری نظر میں اگر کسی کی زندگی میں کوئی رومانوی تعلق بھی ہو تو اس سے ہمارے تعلق کو خطرہ نہیں ہوتا بلکہ زندگی میں محبت اور ساتھ کے نئے پہلو شامل ہو جاتے ہیں۔‘

ان کے بقول، ’اس سے محبت بانٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کم نہیں ہوتے۔ یہاں کسی قسم کا مقابلہ نہیں۔‘

نفسیات کیا کہتی ہے؟

رینی اور ایپریل کے تعلق کو بیان کرنے کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اگرچہ یہ نسبتاً نئی ہے اور اس کی تعریف پر اب بھی مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔ اسے ’زندگی بھر رفاقت کے احساسات پر مبنی غیر رومانوی شراکت کہا جاتا ہے۔‘

تاہم اس موضوع پر سائنسی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

سماجی نفسیات میں ڈاکٹریٹ رکھنے والی اور برازیلین سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی رکن ماریا کرسٹینا انتونیس کہتی ہیں کہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر ابھی بھی بہت کم بات کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق اس حوالے سے چند تعلیمی مطالعات تو موجود ہیں، لیکن ان میں زیادہ تر فلسفیانہ یا قانونی پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر آبادیاتی یا سماجی تحقیق ابھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے تعلق کی کوئی ایک متفقہ اور واضح تعریف موجود نہیں۔

ماریا کرسٹینا انتونیس بتاتی ہیں کہ ’غیررومانوی محبت‘ کی اصطلاح یونانی فلسفی افلاطون کے نظریات، خصوصاً ان کی مشہور تصنیف ضیافت (The Symposium)، سے ماخوذ ہے۔ اس تصور میں محبت کو جسمانی کشش کے بجائے ذہنی، روحانی اور فکری وابستگی سے جوڑا گیا ہے۔

ماضی میں ’افلاطونی محبت‘ سے مراد عموماً ایسا تعلق لیا جاتا تھا، جو جسمانی یا رومانوی کشش سے بالاتر ہو اور جس کی بنیاد باہمی احترام، فکری ہم آہنگی اور ذاتی نشوونما پر ہو۔

آج ’افلاطونی شراکت‘ کی اصطلاح اسی تصور کی ایک نئی تعبیر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس سے مراد ایسا گہرا اور پائیدار تعلق ہے جو رومانوی یا جنسی کشش پر مبنی نہیں ہوتا، لیکن اس میں زندگی بانٹنے، مشترکہ ذمہ داری اٹھانے اور بعض اوقات قانونی تحفظ حاصل کرنے جیسے عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔

رینی اور ایپریل خود کو ایسے ہی تعلق کی مثال قرار دیتی ہیں۔ دونوں دوستوں نے 2025 میں اپنی شادی کا پہلا سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔

Renee y April sentadas en un restaurante. En la mesa hay un postre con el mensaje "Feliz Aniversario".

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشندونوں نے 2025 میں اپنی شادی کی پہلی سالگرہ منائی

ماہرِ نفسیات کے مطابق رینی اور ایپریل نے جس رشتے کو شعوری طور پر اختیار کیا، وہ کچھ حد تک اس نوعیت کے تعلق سے مشابہ ہے جہاں بہت سی روایتی شادیاں برسوں ساتھ رہنے کے بعد پہنچ جاتی ہیں۔

ان کے بقول،’ہم ایسے بہت سے طویل المدتی جوڑوں کو دیکھتے ہیں جن کے تعلق کی بنیاد وقت کے ساتھ زیادہ تر دوستی، رفاقت اور باہمی اعتماد پر آ جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے رشتوں میں جنسی تعلقات بہت محدود رہ جاتے ہیں یا تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ مشاورت کے دوران اس طرح کے تعلقات غیر معمولی نہیں بلکہ کافی عام دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات دیرپا تعلقات کی مضبوطی کا انحصار صرف رومانوی یا جسمانی کشش پر نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ زندگی، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے عزم پر بھی ہوتا ہے۔

ثقافت، خاندان اور اجنبیت

سنگاپور جیسے نسبتاً قدامت پسند معاشرے میں پرورش پانے والی رینی اور ایپریل کے لیے یہ فیصلہ غیر معمولی تھا۔

رینی کہتی ہیں، ’ہم جنس شادی کا تصور ہی ہمارے ذہن میں نہیں آتا تھا، خاص طور پر ایسی شادی کا جس کی بنیاد رومانوی تعلق کے بجائے دوستی اور رفاقت پر ہو۔‘

ابتدا میں ان کے خاندان بھی اس فیصلے پر حیران رہ گئے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے لیے اسے سمجھنا آسان ہوتا گیا۔

آخر دونوں ایک دوسرے کو 12 برس کی عمر سے جانتی تھیں اور ان کے خاندانوں کے درمیان بھی برسوں سے قریبی تعلقات قائم تھے۔ رینی کہتی ہیں ’وہ ہمارے تعلق کی نوعیت سے واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کو بہنوں کی طرح سمجھتی ہیں۔‘

ان دونوں کے مطابق ان کی دوستی میں اصل تبدیلی کووڈ 19 کی وبا کے دوران آئی۔ اسی عرصے نے انھیں یہ احساس دلایا کہ ان کی زندگیوں میں سب سے مضبوط اور پائیدار رشتہ دراصل ایک دوسرے کے ساتھ ہے، اور یہی احساس بعد میں ان کے شادی کرنے کے فیصلے کی بنیاد بنا۔

دونوں دوست نفیس لباس پہنے ایک سڑک پر چل رہی ہیں اور کیمرے کی طرف مسکرا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہArchivo Personal

،تصویر کا کیپشندونوں دوست نفیس لباس پہنے ایک سڑک پر چل رہی ہیں اور کیمرے کی طرف مسکرا رہی ہیں

بچے، بلیاں اور مستقبل

بچے پیدا کرنا بھی رینی اور ایپریل کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ ہے، اگرچہ وہ کہتی ہیں کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی جلدی نہیں۔

اس وقت ان کے گھر میں دو مادہ بلیاں ہیں، جنھیں وہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتی ہیں۔ دونوں مستقبل میں کسی بچے کو گود لینے یا بچوں کی مدد کے دیگر طریقوں، مثلاً سرپرست یا رہنما کے کردار، پر بھی غور کر رہی ہیں۔

رینی اس بارے میں مزاحیہ انداز میں کہتی ہیں، ’البتہ ایک بات یقینی ہے، ہم میں سے کوئی دوسری کو حاملہ نہیں کرے گی۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’جب میں اس کے ساتھ مل کر ماں بننے کے امکان کے بارے میں سوچتی ہوں تو سب سے زیادہ خوشی اس خیال سے ہوتی ہے کہ ہم دونوں ماؤں کے کردار میں کیسی نظر آئیں گی اور بچوں کی پرورش کیسے کریں گی۔‘

2024 میں دونوں کی شادی ایک سادہ اور مختصر تقریب میں ہوئی۔ ان کے خاندان مختلف وجوہات کی بنا پر تقریب میں شریک نہیں ہو سکے، تاہم ان کے قریبی دوست موجود تھے، جنھوں نے دونوں میں سے ایک کے گھر پر جمع ہو کر اس موقع کا جشن منایا۔