ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے لیکن بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں: ایرانی صدر پزشکیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے بھی اپنے قتل سے قبل اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔
صدر پزشکیان نے ڈاکٹروں کے دن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای نے اپنی ملاقاتوں اور تقاریر میں ’عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ ہمیں نہ جنگ، نہ امن کی اس صورتحال سے باہر نکلنا چاہیے۔‘
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ’حکمت، تدبر، دانشمندی اور وقار‘ کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے۔ ہم طاقت کے ساتھ، لیکن منطق کی بنیاد پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔‘
صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں مذاکرات اور فیصلہ سازی میں شامل افراد کے نزدیک یہ بہترین مفاہمت کی یادداشت تھی۔
ان کے یہ تازہ بیانات گزشتہ چند دنوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت سے متعلق ان کے مؤقف کا تسلسلسمجھے جا رہے ہیں۔



















