چین میں نصف صدی کی شدید ترین آندھی، 800 سے زائد پروازیں منسوخ ’50 کلو سے کم وزن والوں کو ہوا اڑا لے جا سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کوہ ایو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
چین کے دارالحکومت بیجنگ سمیت شمالی حصوں میں شدید طوفانی ہواؤں کے باعث سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ طوفان کے پیش نظر ریل سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کی صبح دارالحکومت کے دو بڑے ہوائی اڈوں پر 838 پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیں جبکہ اس میں اضافے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ چین میں ہواؤں کی رفتار 93 میل فی گھنٹہ (150 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ گئی ہے جو گذشتہ نصف صدی میں بیجنگ میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے تیز رفتار طوفانی ہوائیں ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ بیجنگ نے 10 سال بعد پہلی بار تیز ہواؤں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے جبکہ سنیچر کو تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے باعث سیاحتی اور تاریخی مقامات عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ چین میں ہوا کی رفتار کو ایک سے 17 کے پیمانے پر ناپا جاتا ہے۔ چین کے محکمہ موسمیات کے مطابق سطح 11 تک کی ہوا ’سنگین نقصان‘ پہنچا سکتی ہے جبکہ 12 اور اس سے اوپر کی سطح پر ہوا ’انتہائی تباہی‘ کا باعث بن سکتی ہے۔
چین میں ہفتے کے اختتام پر ہواؤں کی سطح 11 سے 13 کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس الرٹ کے پیش نظر جمعے کو ملازمین کو جلدی گھر چلے جانے کو کہا گیا جبکہ تعلیمی عمل معطل کیا گیا اور کھلی جگہ ہونے والی تقاریب منسوخ کر دی گئی ہیں۔
شمالی چین میں سنیچر اور اتوار کو ایسی شدید ہوائیں چلنے کا الرٹ دیا گیا جو انسان تک کو اپنے ساتھ اڑا لے جا سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین میں حکام نے لاکھوں لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی ہے جبکہ کچھ سرکاری ذرائع ابلاغ نے متنبہ کیا ہے کہ ان ہواؤں میں 50 کلوگرام سے کم وزن والے لوگ باآسانی ’ہوا میں اڑا سکتے ہیں۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ منگولیا سے جنوب مشرق کی طرف بڑھنے والے ایک سرد بھنور کی وجہ سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں بیجنگ، تیانجن اور ہیبی کے علاقے کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیں گی۔
یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی میں پہلی بار، بیجنگ نے آندھی کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے جو کہ چار درجہ موسمی انتباہی سسٹم میں دوسرا سب سے خطرناک درجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سال کے اس وقت منگولیا کی جانب سے تیز ہوائیں چلنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن خدشہ ہے کہ اس بار یہ ہوائیں علاقے میں برسوں میں دیکھی جانے والی کسی بھی چیز سے زیادہ تیز ہوں گی۔
حکام نے بتایا کہ سنیچر کو جب تیز ہوائیں آئیں گی تو بیجنگ میں 24 گھنٹوں کے اندر درجہ حرارت میں 13 ڈگری سینٹی گریڈ کمی کا امکان ہے۔
بیجنگ کی موسمیاتی سروس نے کہا ہے کہ ’یہ انتہائی تیز ہوائیں ہیں، طویل عرصے تک چلتی ہیں اور وسیع علاقے کو متاثر کرتی ہیں اور یہ انتہائی تباہ کن ہیں۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان ہواؤں کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے کئی مقابلوں کو معطل کر دیا گیا ہے جن میں دنیا کی پہلی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن بھی شامل ہے جو اب 19 اپریل کو منعقد ہوگی۔
باغات اور سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ حکام نے رہائشیوں کو بیرونی سرگرمیوں سے گریز کرنے کو کہا ہے، جبکہ تعمیراتی کام اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔
شہر بھر میں ہزاروں درختوں کو گرنے سے روکنے کے لیے انھیں یا تو مضبوط بنایا گیا ہے یا ان کی چھانٹی کی گئی ہے۔
حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پہاڑوں اور جنگلات میں جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں خاص طور پر تیز ہواؤں کا خدشہ ہے۔
بیجنگ میں ان ہواؤں کی وجہ سے جنگل میں آگ کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور لوگوں کو گھر سے باہر آگ لگانے سے بھی روکا گیا ہے۔
اس صورتحال میں چینی سوشل میڈیا کے صارفین اپنے اختتام ہفتہ کے منصوبوں میں مزاح تلاش کر رہے ہیں۔
تیز ہواؤں کے بارے میں ہیش ٹیگز اور انتباہ کہ 50 کلوگرام سے کم وزن والے لوگ اڑ سکتے ہیں، چینی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
ویبو کے ایک صارف نے کہا: ’میں ہر وقت اتنا کھاتا ہوں، صرف اس دن کے لیے۔‘
ویبو کے ہی ایک اور صارف کا کہنا تھا، ’یہ ہوا بہت سمجھدار ہے، یہ جمعے کی شام کو شروع ہوتی ہے اور اتوار کو ختم ہوتی ہے، پیر کو کام میں خلل ڈالے بغیر۔‘
خیال رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات سے ہوا کی شدت میں کمی آنے لگے گی۔



























