انڈین فوڈ ایپ کا سبزی خور کسٹمرز کے لیے الگ ڈیلیوری بوائز کا اعلان: ’پھر تو گوشت کھا کر خون عطیہ کرنے والوں سے بھی دور رہا جائے‘

زوماٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

کیا آپ کو اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ فوڈ ڈیلیوری ایپ پر آپ کے کھانے کا آرڈر کون آپ کے گھر پہنچاتا ہے؟ شاید آپ کو جواب ہو گا نہیں لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

حال ہی میں انڈین فوڈ ڈیلیوری کمپنی زوماٹو نے ایک ایسا بیڑا متعارف کرانے کا اعلان کیا جو صرف سبزی خور ریستورانوں سے صرف سبزی خور اشیا ہی ڈیلیور کرے گا۔

لیکن اس اعلان کے بعد ہونے والی تنقید پر زوماٹو کو جزوی لیکن فوری طور پر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

زوماٹو کا شمار انڈیا میں کھانا ڈیلیور کرنے کی سب سے بڑی ایپس میں ہوتا ہے۔

زوماٹو کے سی ای او دیپیندر گوئل نے اعلان کیا تھا کہ سبزی خور کھانا ڈیلیور کرنے والے ڈیلیوری بوائز سرخ رنگ کی بجائے سبز رنگ کی نئی یونیفارم پہنیں گے۔

سبزی خور کھانے ڈیلیور کرنے کے لیے علیحدہ بیڑا متعارف کرانے کے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بہت سے انڈین شہریوں کی غذائی ترجیحات بہت صاف ہیں اور یہ قدم ایسے صارفین کو ذہن میں رکھتے ہوئے اٹھایا گیا۔

گوئل نے کہا ’انڈیا میں باقی دنیا کے مقابلے سب سے زیادہ سبزی خور رہتے ہیں اور ہم نے ان سب سے رائے حاصل کی۔ ان لوگوں نے واضح کیا کہ ان کا کھانا کیسے پکایا جائے اور ان کے کھانے کو کون اور کیسے چھوئے۔‘

لیکن اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید تنقید ہوئی جس کے نتیجے میں کمپنی کو محض چند گھنٹوں کے اندر ہی یہ اعلان کرنا پڑا کہ کمپنی نے کھانے کی ڈیلیوری کے لیے اپنی پرانی سرخ یونیفارم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سبزی خوروں کے کھانے کی ڈیلیوری کے لیے متعارف کرایا گیا ان کا علیحدہ بیڑا اپنا کام جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ وہ لوگ جو خود کو ’خالص سبزی خور‘ قرار دیتے ہیں اکثر اپنا کھانا پکانے اور پھر اسے کھانے کے لیے الگ برتنوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے کھانے میں کسی بھی طریقے سے گوشت نہیں آیا ہو۔

بہت سے ’خالص سبزی خور‘ انڈے کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

’پھر تو گوشت کھا کر خون عطیہ کرنے والوں سے بھی دور رہا جائے‘

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارف سدھارتھ نے کہا کہ ’سبزی خور ہونا صرف ایک غذائی انتخاب ہے لیکن ایک ’خالص‘ سبزی خور ہونا جو صرف سبزی خور باورچیوں کو ہی ملازمت دیتے ہیں، الگ برتن استعمال کرتے ہیں، الگ میزوں پر بیٹھتے ہیں، علیحدہ ڈیلیوری ورکرز کا مطالبہ کرتے ہیں، دوسروں کو مکان کرایہ پر دینے سے انکار کرتے ہیں، ذات پات کی مثال ہے۔‘

تاریخ دان پریتی گولاٹی نے کہا کہ ’انڈیا دنیا کا واحد ملک ہے جو کہ ’خالص سبزی خور‘ کا لیبل استعمال کرتا ہے۔ یہ ایک گہری جڑوں والے بدصورت ذات پات کے تعصب کو برقرار رکھنے کی خواہش کے سوا کچھ نہیں۔‘

کئی صارفین نے یہ بھی کہا کہ کھانا ڈیلیور کرنے والے شخص کی شناخت اس کے کپڑوں سے ہو جائے گی کہ وہ گوشت ڈیلیور کرنے آیا ہے یا سبزی خور اشیا اور پھر اس کے خلاف یا کھانے کا آرڈر دینے والوں کے خلاف بھی تشدد ہو سکتا ہے جیسا کہ گوشت خوروں کے خلاف انڈیا میں اکثر ہوتا ہے۔

بہت سے لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جسکا کوئی سرا نہیں اور اس سے امتیازی سلوک میں اضافہ ہو گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

صارف سندیپ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جب صارفین کی اس طرح کی مخصوص ضروریات کو پورا کیا جا رہا تو صرف سبزی خور کھانے تک ہی کیوں محدود رہیں؟

انھوں نے مشورہ دیا کہ گوشت کھانے والے ڈاکٹروں، گوشت کھا کر خون عطیہ کرنے والوں، دودھ کی مصنوعات اور ایسی اور چیزوں سے بھی دور رہا جائے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

انڈیا میں فوڈ ڈیلیوری ایپس کے ورکرز اکثر ناکافی معاوضے کی شکایت کرتے ہیں اور کئی بار وہ اجتماعی طور پر دھرنا بھی دے چکے ہیں۔

ان کارکنوں کی ایک یونین نے زوماٹو کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کمپنی ’مستقبل میں کھانا ڈیلیور کرنے والے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کا خیال رکھے گی؟‘

یونین نے کمپنی کو یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں جب ایک صارف نے ’زوماٹو انڈیا‘ سے کھانا منگوانے کا ارادہ اس لیے ترک کر دیا تھا کیونکہ زوماٹو نے ان کا کھانا ڈیلیور کرنے کے لیے جس شخص کوبھیجنا تھا وہ ہندو نہیں تھا لیکن کمپنی اس کی حمایت میں سامنے آئی تھی اور یہ کہا تھا کہ ’کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔‘