اڈانی پلانٹس کی بندش:’تمام پونجی ٹرک خریدنے میں لگا دی تاکہ پلانٹ سے مال ٹرانسپورٹ کر سکیں‘

’میں نہیں جانتی کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ ہم نے ایسا کیا کیا جو ہمارے ساتھ ایسا ہو رہا ہے؟ یہ کہنا ہے پریشان حال کانتا شرما کا جو شمالی انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش میں رہتی ہیں۔ وہ یہ بات ایک بند سیمنٹ پلانٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کر رہی تھیں۔
یہ ان دو پلانٹس میں سے ایک ہے جسے دسمبر میں اس کے مالک اڈانی گروپ نے بند کر دیا تھا، جس کے بعد ہزاروں مقامی لوگ بے روزگار ہو گئے تھے۔
سنہ 2009 میں کانتا کے شوہر کی موت کے بعد سے، ان کا مکمل گزر بسر اس پلانٹ سے ملنے والے کام پر منحصر تھا۔ انہوں نے سیمنٹ اور دیگر خام مال پلانٹ سے لانے اور لیجانے کے لیے ٹرک خرید کر اپنی تمام جمع پونجی اس میں لگا دی تھی۔ پلانٹ کی تعمیر کے وقت ان کے خاندان کی ملکیت میں جو تھوڑی بہت زمین تھی وہ بھی لے لی گئی تھی۔
اڈانی گروپ ، ارب پتی گوتم اڈانی کی ملکیت ہے، جو دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔ اس گروپ نے ستمبر میں یہ فیکٹریاں خرید لی تھیں، لیکن جلد ہی مقامی ٹرانسپورٹ یونینوں کے ساتھ مال برداری کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ کمپنی نے کہا کہ نقل و حمل کے زیادہ اخراجات کے سبب آپریشنز ’ناقابل عمل‘ ہو گئے ہیں اور اس کی وجہ سے کمپنی کو نقصان ہو رہا ہے‘۔

اس تنازعے نے نہ صرف ان دو سے تین ہزار افراد کو متاثر کیا ہے جو ان پلانٹس کے براہ راست ملازم تھے، بلکہ ہزاروں دوسرے لوگ بھی متاثر ہوئے ۔
ریاست کے صنعت اور ٹرانسپورٹ کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ تقریباً دس سے پندرہ ہزار لوگ بالواسطہ طور پر ان پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں، جن میں ٹرک آپریٹرز، ڈرائیور، کلینر، سڑک کے کنارے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے اور گاڑیوں کی مرمت کے گیراجوں پر کام کرنے والے بھی شامل ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بے زمین اور بے گھر ہو گئے کیونکہ انہوں نے اپنی زمینیں ان فیکٹریوں کے لیے دی تھیں۔ اس علاقے میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر مقامی لوگوں کا غلبہ ہے، جن میں سے بہت سے لوگوں نے 1990 کی دہائی میں ان پلانٹس کی تعمیر کے لیے اپنی زرخیز زمینیں دے دی تھیں۔
یہ لوگ فی کلومیٹر ایک ٹن سیمنٹ کے لیے گیارہ روپے کے قریب چارج کرتے تھے، لیکن اڈانی گروپ اسے کم کر کے چھ روپے کرنا چاہتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ان کے چارجز منصفانہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اڈانی گروپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ دونوں پلانٹس میں کام جاری رکھنا چاہتا ہے بشرطیہ کہ ٹرانسپورٹرز اسے مکمل تعاون دیں‘۔ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی‘ یہ ہے کہ مقامی ٹرانسپورٹ یونینز دوسرے ٹرانسپورٹرز کو مسابقتی نرخوں پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتیں‘۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ انہیں نقل و حمل کی سہولت کے لیے جہاں کہیں بھی ضرورت ہو ٹرکوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے، اس طرح ہمارے صارفین کی بہترین خدمت کے لیے کھلے بازار کے نقطہ نظر کو یقینی بنانا چاہیے‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پلانٹس کے لیے مال لانے لیجانے کا پہلا حق انھیں ہونا چاہیے کیونکہ انھوں نے ان کے لیے اپنی ’زرخیز زمین‘ کی قربانی دی تھی۔
ایک مقامی رہائشی مہیش کمار کہتے ہیں ’ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے اپنی تمام پونجی ٹرک خریدنے میں لگائی تاکہ وہ اس پلانٹ سے مال ٹرانسپورٹ کر سکیں۔‘
مہیش کمار کہتے ہیں ’پلانٹ کے بند ہونے سے، ان کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے‘۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں دارلاگھاٹ میں سیمنٹ پلانٹ لگانے کے لیے زمین خریدی گئی تھی۔
ایک مقامی رہائشی پارس ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ’قابل کاشت اراضی 62,000 روپے فی بیگھہ کے حساب سے حاصل کی گئی تھی جبکہ غیر کاشت کی گئی زمینیں 19,000 روپے میں حاصل کی گئی تھیں۔
اس وقت مقامی لوگوں کو امید تھی کہ یہ کارخانے ان کے بچوں کو ملازمتیں دلانے میں مدد کریں گے تاکہ انہیں ملازمتوں کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے۔
پارس ٹھاکر کا کہنا ہے کہ 1992 سے اب تک پانچ دیہاتوں سے 1400 ایکڑ سے زیادہ اراضی حاصل کرنے کے باوجود، صرف 72 خاندانوں کے افراد کو پلانٹس میں ملازمتیں ملی ہیں۔ اڈانی گروپ نے کہا کہ دونوں پلانٹس کے 143 ملازمین کی ملازمتوں کو بچانے کے لیے کمپنی کی ملکیت والے دوسرے پلانٹس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ایک مقامی رہائشی پریم لال ٹھاکر کہتے ہیں ’ہم ہر قسم کی فصلیں اگاتے تھے۔ ہم مکئی، گندم اور ہر قسم کی دالیں اگاتے تھے۔ آج ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے سیمنٹ پلانٹ کے لیے یہ زمین کیوں دی‘۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مال برداری کے نرخ طے کرنے کے حل پر کام کر رہی ہے جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو۔ لیکن مقامی لوگوں کو کوئی امید نہیں ہے۔
کانتا شرما کہتی ہیں ’پہلے، ہم نے اپنی زمینیں کھو دیں۔ پھر، روزگار کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ اور جب ہم نے نقل و حمل کے ذریعے کمانے کی کوشش کی، تو مال برداری کے نرخوں پر پلانٹ بند کر دیے گئے۔ اس سے زیادہ اور کیا حالات خراب ہو سکتے ہیں‘۔ یہ وہ سوال ہے جو علاقے کے دوسرے لوگ بھی پوچھ رہے ہیں۔






















