پاکستانی نژاد طاہر ظریف کو مشہور ڈِگ بیتھ قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا

قتل برمنگھم پاکستانی

،تصویر کا ذریعہWest Midland Police

،تصویر کا کیپشنپولیس نے طاہر ظریف کو طیارے میں پکڑے جانے کے لمحے کی تصویر جاری کی
وقت اشاعت

برمنگھم کی ایک عدالت نے مقامی گودام میں ڈکیتی کے دوران ایک تاجر کو گولی مار کر پاکستان فرار ہونے والے پاکستانی نژاد طاہر ظریف کو قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

چار بچوں کے والد 56 سالہ اختر جاوید سنہ 2016 میں اپنے گودام میں تھے جب انھیں گولیاں ماری گئیں۔ بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

گولیاں مارنے کے پانچ دن بعد طاہر ظریف برطانیہ سے فرار ہو گئے۔ لیکن پولیس نے سراغ لگا کر تلاش شروع کر دی اور سنہ 2020 میں انھیں پاکستان سے برطانیہ لایا گیا۔

انھوں نے کوونٹری کراؤن کورٹ میں قتل کی فردِ جرم ماننے سے انکار کر دیا، تاہم ان کے خلاف استغاثہ نے جرم ثابت کردیا۔ اس واقعہ میں ملوث دو دیگر افراد کو پہلے ہی جیل بھیجا جا چکا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ڈائریکٹ سورس 3 فاسٹ فوڈ ڈسٹری بیوشن گودام کو 3 فروری کی شام کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایک سابق ناراض ملازم نے اس قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

قتل برمنگھم پاکستانی

،تصویر کا ذریعہWMP

،تصویر کا کیپشنفاسٹ فوڈ کے کاروبار کے  مالک اختر جاوید فروری 2016 میں قتل کر دیے گئے تھے۔

تقریباً سات سال قبل برمنگھم میں ڈگ بیتھ کے علاقے میں ایک کاروبار کے گودام کے احاطے میں عملے کو دھمکیاں دی گئیں اور ان کے ہاتھ کیبل کے ساتھ باندھے گئے تھے۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے کہا کہ طاہر ظریف کو بالآخر 17 جنوری 2018 کو میرپور میں حراست میں لینے سے پہلے اُن کے افسران نے نیشنل کرائم ایجنسی، پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن اور پاکستانی حکام سمیت کئی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کیں۔

پولیس نے بتایا کہ 32 سالہ نوجوان نے دعویٰ کیا کہ اس نے غلطی سے اختر جاوید کو لڑائی کے دوران دو بار گولی ماری تھی۔

قتل برمنگھم پاکستانی

،تصویر کا ذریعہWMP

،تصویر کا کیپشنقتل کا جرم ثابت ہونے کے بعد طاہر ظریف سزا سنائے جانے کے منتظر۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اختر جاوید کی بیٹی لیلاس نے کہا کہ ’میرے والد کی جان طاہر ظریف کے ہاتھوں چھینے چھ سال اور نو ماہ ہو چکے ہیں۔

’میرے والد تب سے ہر روز ہمارے خیالوں میں رہتے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکی ہوں کہ میرے والد ایک معزز شریف آدمی تھے۔ ایک اور شخص کی لالچ کی وجہ سے میرے والد کی موت واقع ہوئی۔‘

لیلاس نے مزید کہا کہ ’ہم انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں سخت محنت کے لیے ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے شکر گزار ہیں۔‘

پولیس کے تفتیشی انسپکٹر رانج سنگھا نے مزید کہا کہ ’2016 میں اس بھیانک جرم میں زیادہ تر گینگ کو جیل بھیجے جانے کے باوجود ہم نے اس وقت تک آرام کرنے سے انکار کر دیا جب تک کہ گولیاں چلانے والے ظریف کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔‘

ظریف کو 9 دسمبر کو کوونٹری کی عدالت میں سزا سنائی جانے والی ہے۔

برمنگھم کراؤن کورٹ میں 2016 میں 26 سالہ سورج مستری کو اختر جاوید کے قتل کے علاوہ آتشیں اسلحہ رکھنے کا مجرم پایا گیا تھا۔

انگلینڈ کے شہر لیسٹر کے رہائشی سورج مستری کو بھی 19 سالہ لیمر ولی کے ساتھ ڈکیتی کی سازش کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔ تاہم ان دونوں افراد کو قتل کا مجرم نہیں قرار دیا گیا۔