’میرا ہارڈویئر ٹھیک ہے لیکن مانیٹر بند‘: وہ کیفیت جس میں چہرے پہچاننے میں بھی مشکل ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہMary Wathen
- مصنف, فلیپا روکسبی
- عہدہ, ہیلتھ رپورٹر
- وقت اشاعت
ہم میں سے اکثر لوگ ذہن میں کسی بھی چیز کا تصور کر سکتے ہیں، سیب کی شکل ہو یا کمرے کا کوئی منظر یا کسی دوست کی مسکراہٹ لیکن ہر کسی کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسے لوگ شاید چھ فیصد تک ہوتے ہیں جنھیں ’ایفینٹیزیا‘ نامی کیفیت لاحق ہوتی ہے اور انھیں چہرے پہچاننے تک میں مشکل ہوتی ہے۔
پروفیسر ایڈم زیمان ایگزیٹر یونیورسٹی میں نیورولوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی اور ان افراد میں تخیل کی کمی نہیں ہوتی لیکن اس کے اثرات ان کی روزمرّہ زندگی پر پڑتے ہیں۔
اس کیفیت کو ایفینٹیزیا کا نام بھی انھوں نے ہی دس سال قبل دیا تھا۔
’میرا ہارڈ ویئر ٹھیک ہے بس مانیٹر بند ہے‘
43 سالہ میری واتھن کے لیے یہ بہت ہی حیران کن بات ہے کہ لوگ اپنے ذہن میں کسی بھی چیز کا خاکہ بنا سکتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھ ہی نہیں سکتی کہ یہ کیا ہوتا ہے، یہ خاکہ کیسے بنتا ہے؟ جب تک میں کسی چیز کو آنکھوں سے دیکھ نہ لوں، وہ نہیں ہوتی۔‘
میری اپنی زندگی کے سب سے اہم موقعوں کو بھی ذہن میں یاد نہیں کر سکتیں جیسا کہ ان کی شادی کا دن۔
ان کے دو بیٹے اگر ان کے سامنے نہ ہوں، تو وہ ان کی شکل اپنے ذہن میں نہیں لا سکتیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے سب کچھ یاد ہوتا ہے لیکن بس میں اس کی تصویر اپنے ذہن میں نہیں بنا سکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یوں سمجھیں کہ میرا ہارڈ ویئر ٹھیک ہے بس مانیٹر بند ہے۔‘
میری کو اپنی اس غیر معمولی کیفیت کا احساس دوستوں سے بات چیت میں ہوا کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں اور ان کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کے شوہر ماضی کے واقعات کو ذہن میں ایسے دیکھ سکتے ہیں جیسے کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔
تاہم دوسری جانب میری کا کہنا ہے کہ ان کی زبان سے رابطہ کرنے کی صلاحیت بہت اچھی ہے۔ وہ چیزوں کو گہرائی سے محسوس کرتی ہیں۔
میں بہت حساس ہوں اور اپنی حسوں سے ہی رہنمائی لیتی ہوں تو جب کسی بات کو یاد کرنا ہو تو میرے لیے وہ تصویر نہیں، احساس کی شکل میں ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ میں وہی دیکھتی ہوں جو اصل ہوتا ہے اور سامنے ہوتا ہے، اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میں نے اسے ایک منٹ پہلے دیکھا یا ایک گھنٹے پہلے۔

،تصویر کا ذریعہMary Wathen
ذہن کی آنکھ
پروفیسر زیمان نے اس کیفیت کی دریافت اس وقت کی جب ان کے ایک مریض کو ایسے ہی مسائل کا سامنا ہونا شروع ہوا۔
اس مریض کے بارے میں جب انھوں نے لکھا تو ان سے اور لوگوں نے بھی رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کو ہمیشہ سے ہی ایسی کیفیت کا سامنا رہا۔
پروفیسر زیمان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کیفیت سے متاثرہ افراد اپنے ذہن میں تصاویر کو اتنا واضح طریقے سے دیکھتے ہیں کہ ان کے لیے یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا یہ اُن کا خیال تھا یا وہ اصل میں کوئی چیز دیکھ رہے تھے۔ دنیا بھر میں تقریباً تین فیصد افراد میں یہ کیفیت موجود ہوتی ہے۔
پروفیسر زیمان نے اس کیفیت کو نام دینے کے لیے ارسطو کی تحریر سے ایفینٹیزیا کا لفظ مستعار لیا جس کا مطلب ہوتا ہے ذہن کی آنکھ۔
آپ کے خوابوں میں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پروفیسر زیمان کہتے ہیں کہ دماغ کے حصوں کے درمیان رابطے میں فرق اس کی وجہ بتا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر زیادہ تر لوگ متعدد مراحل سے گزرتے ہیں، بشمول دماغ کو یہ یاد رکھنے کے لیے مجبور کرنا کہ سیب کیسا نظر آتا ہے اور دماغ کو فعال کرنا اس کی تصویر بناتا ہے۔
لیکن ایفینٹیزیا کے شکار افراد میں، یہ عمل کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔
پروفیسر زیمان کہتے ہیں کہ ’خیالات اب بھی خیالات ہی ہیں جبکہ دوسروں کے لیے سوچ حسی اصطلاحات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‘۔
پروفیسر زیمان کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایفینٹیزیا سے متاثر بہت سے افراد خواب دیکھتے ہوئے تصاویر کا تصور کر سکتے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دماغ کی گہرائیوں سے شروع ہونے والا ایک زیادہ بے ساختہ کام ہے۔
ایفینٹیزیا کے فوائد بھی ہیں۔ یہ کسی کی ذہنی صحت کو محفوظ رکھنے کا کام دے سکتے ہیں کیونکہ وہ ان کا اس لمحے میں رہنے کا زیادہ امکان ہے اور ان کا مثال کے طور پر خوفناک یا تناؤ والے واقعات کا تصور کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
پروفیسر زیمان کے لیے ’سب سے بڑی حیرت‘ ایفینٹیزیا آرٹسٹوں کو دیکھ کر تھی، جنھوں نے انھیں بتایا کہ تصورات کو دیکھنے کی ان کی جدوجہد نے انھیں کینوس کو اپنے دماغ کی آنکھ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک آرٹ پیس بنانے کی اضافی ترغیب دی ہے۔
عام طور پر یہ ہائپر ایفینٹیزیا ہے جن کی تخلیقی حس زیادہ بہتر ہوتی ہے جیسے جیرالڈین وان ہیمسٹرا۔

،تصویر کا ذریعہPaul Bokslag
جیرالڈین، ایک ایسی آرٹسٹ ہیں، جو بچپن سے ہی ایک ’تخیل‘ کو دل و دماغ میں چھپائے ہوئے تھیں، اُن کا ایک خیالی یا تصوراتی گاؤں۔
انھوں نے ہمیشہ حروف تہجی، اعداد یا ہندسوں حتیٰ کے دنوں کو بھی رنگوں میں دیکھا۔
سکول میں، جیرالڈین ریاضی کے مسائل کے جوابات تبدیل کرتی تھی کیونکہ ان کے ذہن میں نمبروں اور اُن کے رنگ غلط لگ رہے ہوتے تھے۔
نقل مکانی محسوس ہوتی ہے
جیرالڈین کا کہنا ہے کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے موسیقاروں سے پوچھا تھا کہ وہ موسیقی کو محسوس کرتے یا کیسے دیکھتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ میرا مطلب کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ تمام موسیقاروں نے نوٹس کو رنگوں میں دیکھا۔‘ (نوٹس یعنی موسیقی کو تحریر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص حروف)
جیرالڈاین کو پینٹنگ کرتے وقت اسی طرح کا تجربہ ہوتا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں چل سکتی ہوں، خاکہ بنا سکتی ہوں، منظر نامے کو دیکھ سکتی ہوں اور بعد میں اس تجربے کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہوں۔‘
یہاں تک کہ جب کچھ کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں تو، جیرالڈین اپنے آپ کو مستقبل میں محسوس کرتی ہیں۔
جیرالڈین کا دماغ کبھی کبھی حد سے زیادہ بوجھ محسوس کرسکتا ہے، جس سے سونا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایفینٹیزیا اور ہائپرایفینٹیزیا کے بارے میں بہت سے سوالات ابھی باقی ہیں، جیسے مختلف ذیلی اقسام کیا ہیں اور اس کی وجہ جینیاتی کیوں ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGeraldine van Heemstra
اندر کی زندگی
ٹرینڈز ان کوگنیٹو سائنسز میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایفینٹیزیا خاندانوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ ایفینٹیزیا کے شکار افراد میں آٹزم ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
پروفیسر زیمان کہتے ہیں کہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ’ذہن میں کسی چیز کا تصور کرنا اور اسے ایک خاکے کی شکل میں ڈھالنا اس کے لیے کوئی خاص شرط تو نہیں۔‘
اور ہر کوئی اپنے ذہن میں تصاویر کو مختلف انداز میں پیش کرتا، دیکھتا اور بعض اوقات انھیں دیکھ بھی سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا تجربہ معمول نہیں اور دوسرے لوگوں کی اندرونی زندگی مختلف ہو سکتی ہے۔‘
























