’وٹس اپ مین ہاؤ آر یو‘: امریکی نائب صدر کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مکالمہ اور ’انڈیا، پاکستان کے دو انتہائی اہم افراد‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’وٹس اپ مین۔۔ ہاؤ آر یو۔۔‘

یہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران، امریکہ مذاکرات سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ہونے والا مکالمہ ہے۔

اس ابتدائی حال احوال کے دوران پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وفد میں شامل سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے خوشگوار انداز میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، مذاکرات سے قبل کانفرنس ہال میں ایرانی وفد کے سوا پاکستان، امریکہ اور قطر کے وفود موجود تھے اور اطراف میں سوئس اہلکار اور میڈیا نمائندگان اور کیمروں کی بھرمار تھی۔

ایسے میں پہلے شہباز شریف نے اظہارِ خیال کیا اور پھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گفتگو کی اور اس دوران اُنھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق کہا کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جب ان کی میزبانی کی تو اس کے بعد سے وہ اکثر مذاقاً کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم افراد ہیں۔ ایک انڈین اور ایک پاکستانی۔ انڈین ان کی اہلیہ ہیں اور پاکستانی فیلڈ مارشل منیر ہیں۔

’گذشتہ چند مہینوں میں میری فیلڈ مارشل منیر سے جتنی بات ہوئی اتنی شاید کسی اور نہیں ہوئی۔ ان کے سفارتی کردار کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ وہ یقیناً ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن میرے خیال میں انھوں نے خود کو ایک بہترین سفارتکار کے طور پر بھی منوایا ہے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مرکزی ثالث پاکستان کی حالیہ عرصے میں پذیرائی ہوئی ہو اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام کی گونج ہو۔

خود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل کہتے رہے ہیں۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جے ڈی وینس نے نہ صرف فیلڈ مارشل عاصم منیر بلکہ مذاکرات کے لیے ہال میں میں پہنچنے کے دوران پاکستان کے کردار سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’پاکستان بہترین ہے۔ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔‘

امریکی قیادت کی جانب سے گذشتہ تین ماہ کے دوران امریکہ، ایران تنازع میں پاکستان کے کردار کو بار بار سراہا جا رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں بھِی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان سے متعلق خیالات کو پاکستان کو عالمی سطح پر ملنے والی سفارتی اہمیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے فیلڈ مارشل سے متعلق بیان کا سوشل میڈیا پر بھی چرچا ہے اور پاکستانی اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

’اٹلانٹک کونسل‘ کے جنوبی ایشیا سینئر فیلو اور امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ پاکستان کی ایران اور امریکہ ثالثی کی بنیاد ایک سال قبل ایران تنازع کے وقت رکھی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُس وقت آرمی چیف عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا تھا اور پھر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اُن کی میزبانی کی اور کہا کہ وہ ایران کے معاملات کو سمجھتے ہیں۔

Pakistan United States

،تصویر کا ذریعہX/@MichaelKugelman

صحافی رضا رومی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ برگن سٹاک کے مناظر ہیں، جے ڈی وینس فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بغل گیر ہو رہے ہیں اور اُن سے حال پوچھ رہے ہیں۔‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وٹکوف سے کہا کہ ’میرا بھائی اور اُنھیں گلے لگایا۔‘

انڈیا کے سابق سفارتکار کنول سبال نے ایکس پر لکھا کہ امریکی نائب صدر نے غیر ضروری طور پر انڈیا اور پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی اہلیہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’وینس کو ایرانیوں کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا، کیونکہ مذاکرات ان کے ساتھ ہونے ہیں، عاصم منیر کے ساتھ نہیں۔‘

ایک اور انڈین صارف کارتک گور نے لکھا کہ جہاں کریڈٹ بنتا ہو، ضرور دینا چاہیے۔ پاکستان نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کیا اور جو پاکستان کو دلال کہہ کر اس کا مذاق اُڑاتے تھے، نجی محفلوں میں پاکستان اور بالخصوص عاصم منیر کے بڑھتی ہوئی ساکھ کا اعتراف کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’چاہے امن معاہدے کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اس مرحلے پر پاکستان کی موجودگی بذاتِ خود ایک کامیابی ہے۔‘