سپیکر کی رولنگ ’مسترد‘ کر کے گورنر پنجاب نے پرویز الہی کو کیا پیغام دیا؟

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
- وقت اشاعت
گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان سے کہا ہے کہ ان کی اجلاس نہ بلانے کی رولنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات نے وزیراعلٰی پرویز الہی کو آئین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے سے روکا ہے، لہذا اس غیر آئینی اقدام کو مسترد کیا جاتا ہے۔
سپیکر کو بھیجے گئے خط میں بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کے تحت وہ غیر جانبدار رہنے کے پابند ہیں، ورنہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب بنیں گے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ان کی رولنگ پنجاب اسمبلی کے رولز کے خلاف ہے کیونکہ 20 دسمبر کے دوران ہاؤس میں کسی پوائنٹ آف آرڈر کا اعلان نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے حکم کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ اور اجلاس کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
’گورنر نے جواب میں یہ نہیں لکھا کہ وزیرِاعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کیا جا رہا ہے‘
وکیل عابد ساقی کے خیال میں آئینی طور پر گورنر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اگر سمجھتے ہیں کہ وزیرِاعلٰی ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں تو وہ انھیں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’اور اگر وزیرِاعلٰی ان کی ہدایت کے مطابق اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ وہ ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اس کے بعد گورنر ان کو ڈی نوٹیفائی کر سکتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان پہلے ہی ایک رولنگ کے ذریعے گورنر پنجاب کے حکم نامے کا مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی سے چل رہا ہے اس لیے اس دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔
اپنی رولنگ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’گورنر کا حکم قابل عمل نہیں ہے اس لیے مسترد کیا جاتا ہے۔‘
اس سوال پر وکیل عابد ساقی سمجھتے ہیں کہ ’سپیکر پنجاب اسمبلی کی یہ دلیل کمزور محسوس ہوتی ہے۔ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی سارا سال ایک اجلاس کو چلاتا رہے تو اس کے خلاف اعتماد کا ووٹ لینے کی تحریک آ ہی نہیں سکتی۔‘
ان کے خیال میں اگر اسمبلی کا اجلاس چل بھی رہا ہو تو اس میں وزیراعلٰی گورنر کے احکامات کے مطابق اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے منگل کے روز اسمبلی کا اجلاس جمعے تک ملتوی کر دیا تھا۔
بدھ کے روز گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی رولنگ پر انھیں ایک جواب بھجوایا جس میں انھوں نے سپیکر کی رولنگ کو 'غیر آئینی اور غیر قانونی' قرار دیا۔
اس جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق سات کے مطابق گورنر کو اختیار حاصل ہے وہ وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے۔ ’آپ نے جن توجیہات کی بنیاد پر میرے آرڈر کو مسترد کیا ہے وہ ناقص اور غلط ہیں۔‘
گورنر بلیغ الرحمان نے لکھا ہے کہ ان کے حکم نامے میں ’اجلاس بلانے کا‘ ذکر ہے اس سے مراد یہ تھی کہ اگر سپیکر موجودہ اجلاس بدھ کے روز چار بجے سے قبل ختم کردیں تو وزیراعلٰی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے نیا اجلاس چار بجے بلایا جائے۔
گورنر کے مطابق موجودہ سیشن کے دوران بھی ان کے مقررکردہ دن اور وقت پر پنجاب اسمبلی کی بیٹھک کی جا سکتی تھی یا ایک سپیشل سیشن صرف وزیراعلٰی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے بلایا جا سکتا تھا۔
گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے مطابق ’آئین کہیں بھی آرٹیکل 130 کی شق 7 کو لاگو ہونے سے نہیں روکتا اگر اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی سے چل رہا ہو۔‘
اپنے خط میں گورنر پنجاب نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو لکھا ہے کہ ان کی رولنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات نے وزیراعلٰی کو آئین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے سے روکا ہے۔
’وزیراعلٰی کو اعتماد کے ووٹ لینے سے روکنے میں مدد کر کے اور آئینی عمل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے روکنے پر پنجاب اسمبلی کے قواعد کے رول 22 کی شق سات کے مطابق کارروائی ہو سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
وکیل اور قانونی ماہر اسد رحیم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خیال میں وزیر اعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے اور اس کے جواب میں سپیکر کی طرف سے ان کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔
’آئین کا آرٹیکل 130 شق سات یہ کہتا ہے کہ وزیرِاعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے کے لیے گورنر کا مطمئن ہونا ضروری ہے کہ وزیراعلٰی اعتماد کھو چکے ہیں۔ اب یہ لفظ مطمئن کی تشریح کرنا ضروری ہے کیونکہ اس پر ماضی میں عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ گورنر کی نیت کو دیکھا جائے گا۔‘
تاہم دوسرے سوال پر وکیل اسد رحیم خان کا کہنا ہے کہ گورنر بلیغ الرحمان کی طرف سے سپیکر کی رولنگ کے جواب میں جو نقطہ اٹھایا گیا ہے کہ آئین کہیں بھی آرٹیکل 130 شق سات کو لاگو ہونے سے نہیں روکتا اگر اسمبلی اجلاس پہلے سے چل بھی رہا ہو، ’وہ درست محسوس ہوتا ہے۔‘
اسد رحیم سمجھتے ہیں کہ گورنر نے اپنے جواب میں یہ نہیں لکھا کہ وہ وزیرِاعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کر رہے ہیں بلکہ انھوں نے صرف اس ذکر کیا ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔
’اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گورنر اب بھی چاہتے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ان کی ہدایت پر عملدرآمد کریں۔‘
تاہم قانونی ماہر اسد رحیم سمجھتے ہیں کہ دونوں فریقین کی طرف سے آئندہ کوئی بھی قدم اٹھائے جانے کی صورت میں معاملہ عدالت میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔
’مجھے تو حیرت ہے کہ معاملہ ابھی تک عدالت میں گیا کیوں نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں فریقین چاہ رہے کہ معاملے کو طول دیا جائے۔‘
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اب یہ گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ کب پرویز الہی کو ڈی نوٹیفائی کریں گے۔ ’بہتر ہے کہ پرویز الہی خود مستعفی ہو جائیں۔‘
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے لیے ’اعتماد کا ووٹ‘ اور تحریک ’عدم اعتماد‘ ایک ہی وقت میں کیوں؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جوڑ توڑ کا موسم ہے۔ آخری مرتبہ لگ بھگ تین ماہ قبل پاکستان مسلم لیگ ن، اس کی اتحادی جماعتوں اور پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی نظر آئی تھی۔
اس وقت پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت قائم رکھنے کی تگ و دو میں تھی اور ن لیگ اس سے حکومت چھیننے کی کوشش کر رہی تھی۔
ابتدائی ناکامی، عدالتی جنگوں اور ضمنی انتخابات کے بعد سابق وزیرِاعظم عمران خان کی جماعت سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان کے اتحادی ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی نے ان کا ساتھ دیا اور بدلے میں پنجاب کے وزیرِاعلیٰ بن گئے۔
تاہم اس مرتبہ پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی ہی حکومت ختم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس کو یوں بھی نہیں چاہتی کہ پنجاب کی باگ ڈور کسی دوسرے کے ہاتھ منتقل ہو۔ وہ موجودہ اسمبلی ہی ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ نئے انتخابات کروائے جائیں۔
صوبے میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو اسمبلی تحلیل کرنے سے روکنا چاہتی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اعلان کر چکے ہیں کہ 23 دسمبر کو پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔
اس تناظر میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیرِاعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ ساتھ ہی گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیرِاعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی ہے۔
اپنے ہدایت نامے میں گورنر نے بدھ کے روز چار بجے اسمبلی کا اجلاس بلا کر وزیراعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے یعنی انھیں یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ انھیں اسمبلی کے 186 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
تاہم پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے نزدیک گورنر کی ہدایت ’قانونی اور آئینی نہیں۔‘ اپنی رولنگ میں ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی چل رہا ہے، اس لیے ایک چلتے ہوئے اجلاس میں نیا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے۔
منگل کے روز بھی انھوں نے اجلاس کی کارروائی کو جمعے کے روز تک مؤخر کیا لیکن اجلاس کو ختم نہیں کیا۔
اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر گورنر کی ہدایت کے مطابق اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جاتا تو کیا ہو گا؟ اور اگر اجلاس نہیں ہوتا تو کیا وزیرِاعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہو چکی ہے؟
دوسری صورت میں اگر گورنر کی ہدایت پر اعتماد کا ووٹ لیا جاتا ہے اور وزیرِاعلٰی ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا تحریکِ عدم اعتماد ختم ہو جائے گی؟
اور اگر ایسا ہے تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے لگ بھگ ایک ہی نوعیت کی دو تحریکیں ایک وقت میں لانے کی حکمتِ عملی کیوں اپنائی؟
آئینی ماہرین کے مطابق ان میں سے چند معاملات بحث طلب ہیں۔

وزیراعلٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا کیا مطلب ہے؟
گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پیر کے روز وزیرِاعلی پنجاب کو اعتماد کو ووٹ لینے کے حوالے سے جاری کیے جانے والے اپنے ہدایت نامے میں گذشتہ چند روز میں سامنے آنے والے چند واقعات کو بنیاد بنایا ہے۔
حال ہی میں وزیرِاعلٰی پنجاب کی طرف کابینہ میں ایک رکن کا اضافہ اور اس کے حوالے سے چیئرمین عمران خان کا لا علمی کا بیان اور وزیراعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کے حالیہ ٹی وی انٹرویوز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے لکھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اتحاد میں دراڑیں نمودار ہو رہی ہیں اس لیے میں مطمئن ہوں کہ وزیراعلٰی ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔‘
اس لیے انھوں نے وزیراعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینا کا کہا ہے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے چوہدری پرویز الہی کو 186 ممبرانِ اسمبلی کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اتحاد کے پاس 190 نشتیں ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کو 180 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ یوں اگر کوئی جوڑ توڑ نہ ہو تو چوہدری پرویز الٰہی کے لیے 186 اراکین کی حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
آئینی ماہرین کے مطابق دونوں تحریکوں میں قدرے مشترک یہ ہے کہ دونوں کا نتیجہ لگ بھگ ایک ہی جیسا ہے یعنی دونوں میں وزیراعلٰی کو ایوان کا اعتماد جیتنا ہے یا ہارنا ہے۔
وکیل اور آئینی ماہر حافظ احسن احمد کھوکھر کے مطابق گورنر کی ہدایت پر وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی صورت میں یہ حکومتی جماعت یا وزیرِاعلٰی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ 186 ممبران کی حمایت ثابت کریں۔
’جبکہ حزبِ اختلاف کی طرف سے لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں یہ حزبِ اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وزیراعلٰی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل نہیں۔‘
اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایوان میں حکومتی جماعت کو بظاہر عددی برتری حاصل ہے لیکن تحریکِ عدم لانے والی حزبِ اختلاف یہ سمجھتی ہے کہ حکومتی جماعت کے چند اراکین یا اتحادی اب ان کے ساتھ نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تو بیک وقت ایک جیسی دونوں تحریکیں کیوں لائی گئیں؟
سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور آئینی ماہر حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ دونوں تحریکیں بیک وقت نہیں لائی جا سکتیں کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔
’حزبِ اختلاف کی طرف سے یہ دونوں تحریکیں بیک وقت لانا ان کی میلافائیڈی یعنی نیت میں بے ایمانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ وزیراعلٰی ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں تو صرف گورنر ان کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیتے، ساتھ ہی عدم اعتماد لانے کی کیا ضرورت تھی۔‘
حامد خان کے خیال میں اعتماد کے ووٹ ہی میں پتا چل جاتا کہ وزیراعلٰی کے پاس اکثریت کی حمایت ہے یا نہیں رہی۔
حامد خان خود بھی پاکستان تحریک انصاف کے بانی ممبران میں شامل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب کے خلاف دونوں تحریکیں بیک وقت لانے میں ’حزبِ اختلاف کا واحد مقصد یہ ہے کہ 23 تاریخ کو متوقع اسمبلی تحلیل کو روکا جا سکے اور انھیں جوڑ توڑ کا وقت مل جائے۔‘
آئینی ماہر حامد خان کے مطابق حزبِ اختلاف ’جوڑ توڑ‘ کرنے کے لیے گورنر کے ذریعے اعتماد کے ووٹ کی تحریک سامنے لائی ’کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک میں انھیں کامیابی ملنا مشکل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو عدم اعتماد کی تحریک لانے سے حزب اختلاف کو کیا فائدہ ہو گا؟
آئین کے مطابق اگر وزیرِاعلٰی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی جاتی ہے تو اس کے بعد وہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے۔
تحریک جمع ہونے کے تین دن بعد اور پھر سات دن کے اندر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ قانونی و آئینی ماہر حامد خان کے مطابق ’عدم اعتماد کی تحریک لانے سے حزب اختلاف کا مقصد یہی ہے کہ وزیرِاعلٰی اسمبلی تحلیل نہ کر پائیں۔‘
اس کے علاوہ اس تحریک کے ذریعے ان کے لیے یہ ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو گا کہ وزیرِاعلٰی کے پاس اکثریت کی حمایت نہیں کیونکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پاس درکار نمبرز پورے ہیں اور ان میں جوڑ توڑ ممکن نہیں۔
ماضی میں پاکستان میں جو عدم اعتماد کی تحریکیں سامنے آئی ہیں، ان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حزبِ اختلاف حکومتی اتحاد کے چند ممبران کو اپنے ساتھ ملا لیتی تھی۔ وہ اپنی ہی جماعت کے خلاف ووٹ کر دیتے تھے۔
تاہم سپریم کورٹ کے حالیہ ایک فیصلے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔ عدالتِ عظمٰی کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی ممبر اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ کرے گا تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہو گا بلکہ اس کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔
کیا اعتماد کے ووٹ میں جوڑ توڑ ممکن ہے؟
ایک خیال یہ بھی ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ گورنر کے ذریعے اعتماد کے ووٹ کی تحریک اس لیے بھی لائی کہ اس میں ان کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کرنا ممکن ہو گا۔
یعنی وہ حکومتی اتحاد کے چند ممبران کی خفیہ حمایت حاصل کر لیں اور وہ ممبران ووٹنگ کے دوران غیر حاضر ہو جائیں تو اس طرح وہ وزیراعلٰی کو اعتماد کے ووٹ میں شکست دلوا سکتے ہیں۔
آئینی ماہر حامد خان سمجھتے ہیں کہ ’حزب اختلاف کی طرف سے اس چال کا بظاہر یہی مقصد نظر آ رہا ہے۔‘
تاہم قانونی اور آئینی ماہر حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس حوالے سے آرٹیکل 62 اے کی فیصلے کی تشریح اعتماد کے ووٹ کے عمل پر بھی لاگو ہو گی۔
’اگر کوئی ممبر اپنی پارٹی کے واضح فیصلے کے باوجود ووٹ ہی نہیں دیتا تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ پارٹی فیصلے کے خلاف گیا اور اس کے خلاف بھی وہی کارروائی ہو گی جو عدم اعتماد کی تحریک میں پارٹی کے مخالف ووٹ دینے والے کے خلاف ہو گی‘ یعنی اس کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
تو کیا گورنر کے حکم پر بدھ کو اعتماد کا ووٹ ہو گا؟
پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے گورنر کی ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ منگل کی رات جاری کی گئی سپیکر کی رولنگ میں انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل رہا ہے، اس دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔‘
سپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق ’اسمبلی کے قواعد اور آئین کی رو سے گورنر نہ حکم قانونی نہیں۔ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں، اس لیے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔‘
آئینی اور قانونی ماہر حامد خان سمجھتے ہیں کہ ایک جاری اجلاس کے دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔ ’پہلے اس اجلاس کو ختم ہونا ہو گا اس کے بعد گورنر کی ہدایت پر نیا اجلاس بلا کر اس میں اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔‘
ان کی رائے یہ بھی ہے کہ ’ایک ہی طرح کی دو تحریکیں ایک ہی ساتھ پیش کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔‘
تاہم وکیل اور آئینی ماہر حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ ’آئین کی شق 130 کی ذیلی شق سات میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا تاہم گورنر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایک معقول وقت کا تعین کر کے اس کے اندر وزیراعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔‘
حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ اگر گورنر کے پاس اس کو معقول جواز ہو اور وہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے تو وزیراعلٰی کے لیے یہ ووٹ لینا ضروری ہو گا۔
چند آئینی ماہرین کے مطابق اس معاملے پر ابہام موجود ہے اور اس حوالے سے سپیکر کی رولنگ اہمیت کی حامل تصور کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہPUNJAB ASSEMBLY WEBSITE
’وزیراعلٰی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہو سکتا ہے‘
سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے گورنر کی ہدایت کو مسترد کرنے کے بعد اگر وزیراعلٰی گورنر کی طرف سے مقرر کرد وقت پر اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’وزیرِاعلٰی پرویز الٰہی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہو سکتا ہے۔‘
تاہم قانونی ماہرین کے خیال میں یہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے۔
قانونی ماہر حامد خان کے مطابق ’جب یہ معاملہ عدالت میں جائے گا تو عدالت کے سامنے پہلا سوال اجلاس بلانے کے حوالے سے ہو گا۔ اس کے بعد وہ دو تحریکوں کے معاملے کو بھی شامل کر سکتی ہے۔‘
ان کے خیال میں معاملہ عدالت میں جانے سے حزبِ اختلاف کو یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کو معاملہ مزید آگے چلا جائے گا۔
نمبرز پورے ہیں تو وزیراعلٰی اعتماد کو ووٹ کیوں نہیں لے رہے؟
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ حکومتی جماعت کی طرف سے اعتماد کا نہ کروانے کی بظاہر وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ’اس میں انھیں اپنا نمبر پورا کرنا ہو گا اور اگر وہ اس سے بھاگ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے انھیں خوف ہے کہ ان کے نمبر پورے نہیں۔‘
تاہم قانونی ماہر حامد خان کے مطابق حکومتی اتحاد کی طرف سے اعتماد کو ووٹ کے لیے اجلاس طلب کرنا نہ صرف قانونی مسئلہ ہے بلکہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح حزبِ اختلاف بلا وجہ اسمبلی کی تحلیل کو طول دینا چاہتی ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے منگل کی رات لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت سپیکر کی رولنگ پر عملدرآمد کرے گی۔
’اپوزیشن صرف الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے لیکن وہ کچھ بھی کر لیں اسمبلی تحلیل کو نہیں روک سکتے۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپیکر کا استحقاق ہے کہ وہ وزیراعلٰی کے خلاف کون سی تحریک پر ووٹنگ پہلے کرواتے ہیں۔
’جمعے کے روز جب اجلاس ہو گا اس میں تحریکِ عدم اعتماد نمٹا دی جائے گی۔ اس کے بعد وزیرِاعلٰی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھجوا دیں گے۔‘
یاد رہے کہ اگر وزیرِاعلٰی گورنر کو سمری بجھوا دیتے ہیں تو ان کے لیے اس پر عملدرآمد لازم ہے۔ اگر وہ نہ بھی کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی تحلیل تصور کی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اعتماد کا ووٹ نہ ہونے کی صورت میں پرویز الہی وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے۔

























