کلب کیو کولاراڈو شوٹنگ: امریکہ میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے میں پانچ افراد ہلاک، مشتبہ شخص زیرِ حراست

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بین ٹوبیئس اور ایلسا میشمین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
امریکی ریاست کولاراڈو میں ہم جنس پرست کمیونٹی کے کلب میں فائرنگ کے باعث پانچ افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک مشتبہ شخص اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور زیرِ علاج ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کلب میں موجود دو ’بہادر‘ افراد نے حملہ آور کو روکا۔
حراست میں موجود مشتبہ شخص کی شناخت اینڈرسن لی ایلڈرک کے طور پر کی گئی ہے۔
کولاراڈو سپرنگز میں کلب کیو کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر لکھا گیا کہ انھیں اپنی کمیونٹی پر ہونے والے ’بلاجواز حملے سے شدید دھچکا پہنچا ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی باشندے ’نہ نفرت برداششت کریں گے، نہ انھیں کرنی چاہیے۔‘
پولیس کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کرنے اور ان کی تعداد ظاہر کرنے کے حوالے سے وقت لیا جا رہا ہے۔
پولیس نے لوگوں سے اس دوران صبر کرنے کی اپیل کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ کچھ افراد خود ہی ہسپتال روانہ ہو گئے تھے۔
پولیس کو کلب میں اسلحہ بردار شخص کے بارے میں سنیچر کی رات 11 بج کر 57 منٹ پر ابتدائی ایمرجنسی کال موصول ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشتبہ شخص کو کلب کے اندر سے ہی پکڑا گیا تھا۔ پولیس کو جائے وقوعہ پر دو گنز ملی ہیں اور یہ گمان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور کی جانب سے لانگ رائفل استعمال کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس کی جانب سے اس شوٹنگ کا کوئی جواز تو نہیں بتایا گیا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات دیکھی جائے گی کہ آیا یہ نفرت کی بنیاد پر کیا گیا حملہ تھا اور کیا اس میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔
اس کلب سے ملحقہ علاقے ڈینور کی پولیس اور ایف بی آئی کے درمیان اس حملے سے متعلق تعاون کیا جا رہا ہے۔
پولیس چیف ایڈریئن ویسکیز نے کلب جانے والے دو افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے شوٹر کو روکا۔
انھوں نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ’ابتدائی شواہد اور انٹرویوز نشاندہی کرتے ہیں کہ مشتبہ شخص کلب میں داخل ہوا اور اس نے فوری طور پر وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی اور وہ اس دوران کلب میں آگے بڑھتا رہا۔‘
’جب یہ مشتبہ شخص کلب میں موجود تھا تو دو بہادر افراد نے اسے روکا اور اس کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اسے مزید افراد کو ہلاک کرنے اور انھیں نقصان پہنچانے سے روکنے میں کامیاب ہوئے۔ ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں۔‘
کلب کیو کے فیس بک پیج پر ایک بیان میں انھوں نے بہادر کسٹمرز کا فوری ردِعمل دینے پر شکریہ ادا کیا جنھوں نے حملہ آور پر قابو پایا اور اس نفرت پر مبنی حملے کا خاتمہ کیا۔
کلب کی جانب سے اس وقت ایک ڈانس پارٹی کی میزبانی کی جا رہی تھی اور اتوار کے روز یہاں ٹرانس جینڈر ڈے آف ریممبرنس کا جشن منایا جانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGoogle Street View
34 سالہ جوشوا تھرمین شوٹنگ کے وقت کلب میں موجود تھے۔ انھوں نے امریکی جریدے کولاراڈو سن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے انھیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ گولیاں دراصل میوزک کا حصہ ہیں تاہم بعد میں انھوں نے کلب کے ڈریسنگ روم میں جا کر پناہ لی۔
انھوں نے کہا کہ ’جب میں باہر آیا تو زمین پر لاشیں گری ہوئی تھیں، شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، ٹوٹے ہوئے کپ تھے اور لوگ رو رہے تھے۔‘
’اش شخص کو ہمیں قتل کرنے سے روکنے کے لیے وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہونا تھا؟ کیوں؟ لوگوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ کیوں دھونا پڑا۔‘
مسٹر تھرمین جو کلب کے نزدیک ہی رہتے ہیں بتاتے ہیں کہ یہ کلب مقامی ہم جنس پرست برادری کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ ایک ایسے شخص کو خود جانتے تھے جس کی اس شوٹنگ میں ہلاکت ہوئی ہے۔
کولوراڈو سپرنگز کے میئر جان سودرز نے اس واقعے کو ایک سانحہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک مضبوط کمیونٹی ہیں جس نے نفرت اور تشدد کے سامنے بہادری کا مظاہرہ پہلے بھی کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرتے رہیں گے۔

























