امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ: محمد بن سلمان کی ’سفارتی فتح‘ یا مشرقِ وسطیٰ کے لیے نیا امتحان؟

    • مصنف, ڈینیئل بُش
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ٹرمپ انتظامیہ کا سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا جوہری معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ایک اہم اتحادی (سعودی عرب) کے حوالے سے امریکہ کے کئی برسوں پر محیط مؤقف میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماضی میں امریکی صدور اِس بات پر اصرار کرتے رہے تھے کہ سعودی عرب کو امریکی سول جوہری توانائی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے بدلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے ہوں گے۔

تاہم حالیہ معاہدے کی مبینہ تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو وہ مراعات فراہم کر دی ہیں جن کا وہ طویل عرصے سے خواہاں تھا، بغیر اس کے کہ اسرائیل کے لیے کسی قسم کی رعایت یا سفارتی پیش رفت بطور شرط حاصل کی جاتی۔

یہ اقدام ان ناقدین کے اعتراضات کے باوجود کیا گیا، جن کا مؤقف تھا کہ ایسا معاہدہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ جوہری معاہدہ اس شرط سے مشروط تھا کہ سعودی عرب ابراہم اکارڈ (ابراہیمی معاہدے) میں شامل ہو۔ ابراہم اکارڈ، متعدد ایسے معاہدوں کا سلسلہ ہے جو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پایا تھا اور جس کے تحت اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے تھے۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ شرط معاہدے کے متن میں شامل ہے یا نہیں، کیونکہ سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ سعودی عرب نے اس شرط کو قبول کیا ہے، یا یہ رعایت دینے کے بعد اب اسے ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ بظاہر اس بات کی تازہ مثال ہے کہ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ کی روایتی پالیسی سے ہٹنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ امریکہ کی یہ روایتی پالیسی مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو مرکزیت دینے اور اسرائیل، فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے حصول پر مبنی رہی تھی۔

اپنے دوسرے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے بنیادی طور پر امریکہ کے معاشی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے تاکہ چین اور دیگر حریف طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کو اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے، چاہے اس مقصد کے حصول میں اسرائیل کی ناراضی کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔

امینا سٹریٹیجیز نامی کمپنی میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر یوسف کان کہتے ہیں کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنے جوہری بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا چاہتے ہیں اور وہ یہ کام امریکہ کی شمولیت کے بغیر بھی کریں گے۔ واشنگٹن اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ دراصل یہ پیغام دے رہا ہے کہ آپ کو چین کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔‘

ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں سودے بازی پر مبنی خارجہ پالیسی (ٹرانزیکشنل فارن پالیسی) ایک نمایاں خصوصیت بن کر سامنے آئی ہے۔

عالمی معاملات میں اپنے ’امریکہ فرسٹ‘ نظریے کو دوبارہ نافذ کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے آرکٹک اور دنیا کے دیگر خطوں میں چین اور روس جیسے حریف ممالک کے ساتھ معاشی مسابقت کو مزید تیز کیا ہے۔

تاہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری معاہدے پر دستخط کرنا ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ اقدام تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ تنازع میں الجھا ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ ایک ایسے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے جو پہلے ہی شدید جغرافیائی اور سیاسی تناؤ کا شکار ہے۔

یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، جو مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی اپنی وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت کئی برسوں سے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے خواہاں تھے۔

محمد بن سلمان، جنھیں عام طور پر ایم بی ایس کہا جاتا ہے، نے سنہ 2018 میں کہا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے تو سعودی عرب کو بھی ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

امریکی انتظامیہ نے معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں، تاہم اطلاعات کے مطابق اس معاہدے میں ایسے سخت نگرانی والے اقدامات شامل نہیں ہیں، جو مستقبل میں سعودی عرب کو فوجی نوعیت کا جوہری پروگرام تیار کرنے سے روک سکیں۔

اس اعتبار سے یہ معاہدہ 2009 میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے جوہری تعاون کے معاہدے سے مختلف ہے، جس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے سخت نگرانی اور معائنوں کی شقیں شامل تھیں۔

سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے ناقدین ایک اور اہم فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر خود یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو ایک ایسا اختیار ہے جسے مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی جانب ممکنہ قدم کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سعودی عرب فوری طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی دوڑ میں شامل نہ بھی ہو، تب بھی ایسی صلاحیت حاصل کرنے کا ممکنہ امکان اسے خطے میں ایک ڈیٹرینٹ فراہم کر سکتا ہے۔

اٹلانٹک کونسل کے فیلو اور امریکی محکمۂ دفاع کے سابق پالیسی مشیر عمران بیومی کہتے ہیں کہ ’یہ معاہدہ مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے۔‘

توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کو اپنے توانائی کے شعبے میں تنوع پیدا کرنے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

کنسلٹنگ فرم چارلس ریور ایسوسی ایٹس میں توانائی امور کے ماہر کرسٹوفر روسو کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی حاصل کرنے سے سعودی عرب طویل مدت میں تیل پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے، جس سے اسے عالمی تیل منڈی میں آنے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے نسبتاً تحفظ ملے گا۔

کرسٹوفر روسو کہتے ہیں کہ ’تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کے ذخائر یا تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں، آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز بھی پھنس سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے برعکس جوہری توانائی کا نظام بڑی حد تک خود کفیل ہوتا ہے۔‘

تاہم سعودی عرب کو اس معاہدے کے معاشی فوائد فوری طور پر حاصل نہیں ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور انھیں مکمل طور پر فعال ہونے میں کم از کم ایک دہائی اور ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم اس معاہدے کا فوری سیاسی فائدہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔

سعودی عرب، جو پہلے ہی خلیج کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس معاہدے کے ذریعے خطے میں اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

مزید یہ کہ سعودی عرب نے یہ معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر حاصل کیا ہے اور اسے اپنے اس مؤقف سے بھی دستبردار نہیں ہونا پڑا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا کوئی بھی حتمی معاہدہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہونا چاہیے۔

یہ رعایت بظاہر ٹرمپ انتظامیہ کے اس اندازِ فکر کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کوئی بڑی سفارتی پیش رفت فی الحال ممکن نہیں ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے دور میں دونوں ممالک مذاکرات کے لیے آمادہ دکھائی دیتے تھے، لیکن غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اور بعد ازاں ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تنازع کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے کے اعلان کے وقت کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی اور حکام نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ اس مرحلے پر یہ جوہری معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع نے غالباً اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ واشنگٹن جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ تہران کی جانب سے ان خلیجی ممالک کو بھی خطرات لاحق رہے ہیں۔

جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی عرب نے مختصر مدت کے لیے امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا تھا، جبکہ ریاض مسلسل امریکہ اور ایران دونوں پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل اختیار کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔

امریکی کمپنیوں کو بھی اس جوہری معاہدے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، اگرچہ اس کے اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔

اس معاہدے کے تحت سعودی عرب اپنی سول جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے امریکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرے گا، جس سے ویسٹنگ ہاؤس جیسی کمپنیوں کے لیے ایک منافع بخش نئی منڈی کھلے گی۔ یہ کمپنیاں بڑے پیمانے پر روایتی جوہری ری ایکٹرز کی تیاری اور تنصیب میں مہارت رکھتی ہیں۔

تاہم اس معاہدے کو پہلے ہی اسرائیل اور امریکہ دونوں میں تنقید کا سامنا ہے۔

بدھ کے روز جب معاہدے کی خبریں سامنے آئیں تو بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سعودی عرب مستقبل میں خطے میں ایک نئی جوہری طاقت یا ممکنہ جوہری خطرے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے بارے میں وسیع پیمانے پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، اگرچہ اس نے کبھی عوامی سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مشترکہ خدشات کے باعث اسرائیل نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔

اسرائیلی پارلیمان کے رکن اور سابق وزیرِ دفاع اویگڈور لیبرمین نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک خطرناک جوہری اسلحہ جاتی دوڑ کو جنم دے گا۔‘

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک قانون سازوں نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ معاہدہ دراصل سعودی عرب کو دی جانے والی ایک بڑی رعایت ہے اور اس سے ایران کے عزائم کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ اسرائیل کے حوالے سے بھی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک دانشمندانہ پالیسی نہیں ہے۔‘

تاہم امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکی معیشت کو فائدہ پہنچائے گا اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

رائٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ معاہدہ ’جوہری تحفظ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے گا۔‘

تاہم بدھ کے روز معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہ کیے جانے کے باعث انتظامیہ نے خود اس کے بارے میں شکوک و شبہات کو تقویت دی۔

اور شاید ایک معنی خیز اشارہ یہ بھی تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو باضابطہ بنانے والی دستخط کی تقریب کی خود سربراہی نہیں کی۔

اس کے بجائے ٹرمپ نے ایران میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی، جس کے بعد انھوں نے ریاست جارجیا میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔

اس موقع پر انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی پالیسیاں مشرقِ وسطیٰ کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم بنا رہی ہیں۔