آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جبری مشقت روکنے میں ناکامی‘: پاکستانی مصنوعات پر 10 فیصد امریکی ٹیرف کا ملکی برآمدات پر کیا اثر پڑے گا؟
امریکہ نے ’جبری مشقت روکنے میں ناکامی‘ پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 5۔12 فیصد تک ٹیرف نافذ کر دیا ہے جس کا اطلاق (آج) جمعے سے ہو گا۔ ان ممالک میں انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔
جن ممالک پر یہ ٹیرف عائد کیے گئے ہیں ان میں برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔
امریکی انتطامیہ نے گذشتہ ماہ یہ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب جمعے سے اسے نافذ العمل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال مختلف ممالک پر نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر درست نہیں تھے اور انھیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹیرف عائد کرنے کے لیے دیگر راستے اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ’جبری مشقت‘ کو جواز بنا کر اب یہ ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔
جمعرات کو امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے دفتر نے ان محصولات کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اب یہ محصولات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
جیمیسن گریر کے دفتر کے مطابق نئے محصولات ان شراکت داروں پر عائد کیے جا رہے ہیں جو ’جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اسے مؤثر طور پر نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
جیمیسن گریر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راستہ روکے گا اور اس سے ہر جگہ کارکنوں کی فلاح و بہبود بہتر بنائی جا سکے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گریر نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کا حوالہ دیا، جو ایسی پالیسیوں کے خلاف امریکی تجارتی نفاذ سے متعلق ہے جو امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہیں یا اسے محدود کرتی ہیں۔
گریر کا کہنا تھا کہ نئے محصولات امریکہ کے سرفہرست 60 تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوتے ہیں، جو امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد کا احاطہ کرتے ہیں۔
اُن کے مطابق صدر ٹرمپ نے جبری مشقت سے تیار کردہ درآمدات پر پابندی اپنانے کو دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدوں کا ایک’اہم‘ حصہ قرار دیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں گریر کا کہنا تھا کہ ’امریکی کارکنوں کو جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کا مقابلہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارے تجارتی شراکت دار ایسی مصنوعات کے لیے اپنے دروازے بند کرنے سے انکار کرتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ محصولات (ٹیرف) عائد کر کے اس غلطی کی اصلاح کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس اگست میں لگ بھگ 69 ممالک سے امریکہ درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد سے لے کر 41 فیصد تک کے نئے ٹیرف کے اطلاق کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پاکستان پر پہلے سے عائد کردہ ٹیرف (یعنی ٹیکس) کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دی گئی تھی۔
اُس وقت پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ ، منڈیوں تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ ٹیرف ایسے وقت میں عائد کیا گیا ہے جب پاکستان کے وزیرِ خزانہ نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا تھا۔
چند روز قبل پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسینٹ سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان پر اس کیا اثر پڑے گا؟
امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت درجنوں ممالک پر جبری مشقت سے تیار کی گئی اشیا پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی لگانے کے بارے میں وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ وزارت تجارت اس ایشو کو دیکھے گی اور اس سلسلے میں آج ایک اجلاس بھی آج بلایا جا سکتا ہے۔
بی بی سی اُردو کے لیے صحافی تنویر ملک سے گفتگو کرتے ہوئے رانا احسان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کا ایک بیک گراونڈ ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ جب امریکہ نے 19 فیصد ٹیرف لگایا گیا تو امریکی سپریم کورٹ نے اسے ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے 10 فیصد کا مساوی ٹیرف لگایا تھا جو 150 دنوں کے لیے نافذ العمل تھا اور وہ اب ختم ہو رہا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’اب یہ نیا راستہ نکالا گیا ہے جس کے تحت 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔‘
پاکستان میں برآمدی شعبے میں بین الاقوامی اصولوں کے تحت لیبر فورس کے بارے میں اُنھوں نے کہا ’پاکستان کا برآمدی شعبہ عالمی اصولوں کے تحت لیبر فورس کی شرائط پر عمل درآمد کر رہا ہے اور پاکستانی ایکسپورٹرز اس سلسلے میں پوری طرح بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔‘
’نیا ٹیرف پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے‘
بین الاقوامی تجارت اور ٹیرف کے ماہر اقبال تابش کہتے ہیں نیا امریکی ٹیرف پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔
اقبال تابش کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا برآمدی شعبہ پہلے سے مشکلات کا شکار ہے جس میں توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، بلند شرح سود کی وجہ سے اضافی فنانسنگ کی لاگت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال ہے۔‘
ان کے مطابق یہ سارے عوامل اور 10 فیصد امپورٹ ڈیوٹی پاکستانی برآمدی شعبے کے لیے مسائل کو بڑھائے گی۔
بنگلہ دیش اور انڈیا کے ساتھ مقابلے پر بات کرتے ہوئے اقبال تابش نے کہا اگرچہ ان پر بھی 10 فیصد ڈیوٹی لگی ہے تاہم وہاں پیداواری لاگت کم ہے، لہذا وہاں زیادہ پریشانی نہیں ہو گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے تجارتی رعایتیں حاصل کرنی چاہییں۔
امریکہ پاکستان کا کتنا بڑا تجارتی پارٹنر ہے؟
پاکستان کی بیرونی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی طور پر پاکستان تجارتی خسارے کا شکار ہے۔
بیرونی تجارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں تجارتی خسارہ 24 ارب ڈالر رہا جس کی وجہ برآمدات کا کم ہونا اور درآمدات کا زیادہ حجم تھا۔ یعنی پاکستان اپنی اشیا کم مقدار میں بیرونی ممالک کو بھیج رہا ہے مگر بیرونی ممالک سے زیادہ مقدار میں اشیا منگوا رہا ہے۔
تاہم پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت کا جائزہ لیا جائے تو تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے یعنی پاکستان کی امریکہ کو برآمدات زیادہ ہیں۔
گذشتہ مالی سال میں پاکستان نے امریکہ کو پانچ ارب 83 کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں۔ دوسری جانب امریکہ سے پاکستان کی درآمدات کی مالیت ایک ارب 74 کروڑ ڈالر رہی۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے بعد تجارتی توازن چار ارب ڈالر سے زائد کے ساتھ پاکستان کے حق میں رہا۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان کن اشیا کی تجارت ہوتی ہے؟
پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت میں پاکستان سے امریکہ کو بھیجی جانے والی اشیا میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے جو کل تجارت کا نوے فیصد بنتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سے امریکہ چمڑے کی مصنوعات، فرنیچر، پلاسٹک، سلفر، نمک، سیمنٹ، کھیلوں کا سامان، قالین، فٹ ویئر اور دوسری اشیا برآمد کی جاتی ہیں۔
جبکہ پاکستان سے امریکہ جانے والی اشیا کے مقابلے میں امریکہ سے پاکستان درآمد کی جانے والی اشیا کا حجم کم ہے۔ امریکہ سے پاکستان آنے والی اشیا میں خام کپاس، لوہا اور سٹیل، مشینری، بوائلرز، پرانے کپڑے، کیمیکلز، ادویات اور کچھ دیگر اشیا شامل ہیں۔
ٹرمپ کی نمایاں پالیسی
ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ محصولات امریکی کارکنوں کا تحفظ کرتے ہیں اور امریکی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔
اپریل 2025 میں ٹرمپ نے عالمی تجارتی شراکت داروں پر 50 فیصد تک محصولات عائد کیے تھے، جسے اُنھوں نے ’یومِ آزادی‘ قرار دیا اور ان کا مقصد ان کے بقول امریکہ کے ساتھ ہونے والے غیر منصفانہ برتاؤ کا ازالہ کرنا تھا۔
فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ان محصولات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا جس کے نتیجے میں دسیوں ارب ڈالر کی رقوم واپس کرنا پڑیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کے بعد درآمدی محصولات عائد کرنے کے متبادل طریقوں پر غور کیا، جن میں ایک وسیع 10 فیصد محصول بھی شامل تھا جو ایک عارضی حل کے طور پر نافذ کیا گیا تھا اور جمعے کو ختم ہو گیا۔
واشنگٹن نے برازیل اور کینیڈا جیسے ممالک پر دیگر محصولات بھی عائد کیے ہیں۔
امریکہ اور چین بھی جوابی محصولات کی جنگ میں الجھے رہے ہیں، جو اس وقت معطل ہے۔
ٹرمپ نے محصولات کو بعض غیر تجارتی مسائل پر بھی ممالک، مثلاً میکسیکو، پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔