آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات سے قبل احتجاج اور درجنوں ہلاکتیں کیوں؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، مظفرآباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
نقاش زرداد محض غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھے۔
محکمۂ تعلیم کے ملازم نقاش پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں اپنے مویشی فارم پر تھے جب قریب ہی پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں۔
فارم کے اطراف سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے وہ گھر واپس نہ جا سکے، پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔
ان کے چچا الطاف حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دوران ایک گولی 30 سالہ نقاش کو لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
نقاش ان کم از کم 40 افراد میں شامل ہیں جو پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 34 افراد مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار تھے۔
راولاکوٹ میں سب سے زیادہ تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین نے سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ اور مظاہروں میں شریک افراد کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگرچہ خود انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی نہیں رکھتی لیکن اس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی میں اُن مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خلاف احتجاج کریں جو کئی دہائیاں قبل انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔
حکومت نے اس کے جواب میں انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کر دی اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی تناظر میں ڈیڑھ ماہ تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بیشتر علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی جس کی جزوی بحالی کا عمل 23 جولائی سے ہی شروع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی ہے جہاں 27 جولائی کو الیکشن ہو رہا ہے۔
12 نشستوں کا تنازع
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی مخصوص حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔
کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بےگھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی قانون سازی میں رکھی گئی تھی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ وار آغاز 27 جولائی سے ہو رہا ہے اور یہ عمل 10 اگست کو مکمل ہو گا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر مصطفی مغل کے مطابق سب سے پہلے میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہو گی۔ اس کے بعد مظفر آباد اور مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں پر پولنگ دو اگست کو ہو گی جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انتخات مرحلہ اور ہو رہے ہیں اس طرح ان انتخابات کے نتائج بھی روایتی انداز کے بجائے مرحلہ وار ہی جاری کیے جائیں گے۔
2021 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ تاہم 2022 میں پارلیمان میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے یہ حکومت ختم ہو گئی اور تب سے یہ خطہ چار برسوں میں چار وزرائے اعظم دیکھ چکا ہے۔
اس مرتبہ نتیجے کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
سیاسی جلسے اور تشدد
بی بی سی نے انتخابات سے قبل ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کا دورہ کیا جہاں کشیدگی اور خوف کی فضا واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی اور زیادہ تر لوگ انتخابات پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
کچھ لوگوں کو خوف تھا کہ اگر انھوں نے انتخابات یا کسی مخصوص امیدوار کی حمایت کا اظہار کیا تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی انھیں غدار یا ’سہولت کار‘ قرار دے سکتی ہے۔
دوسری جانب ایکشن کمیٹی کے حامیوں کو خدشہ تھا کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس حکام کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس دوران انتخابی مہم پرتشدد بھی رہی ہے اور جہاں امیدواروں کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو نذرِ آتش کیا گیا وہیں بعض امیدواروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
ان تمام واقعات کے الزامات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد کیے گئے لیکن ان واقعات کا نتیجہ یہ نکلا کہ امیدواروں نے محدود نوعیت کی انتخابی مہم چلائی ہے۔
سیاسی اجتماعات نجی ڈرائنگ روموں یا گلی محلوں کے کونوں تک محدود رہے اور بہت سے لوگ موجودہ ماحول پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
ملک کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے والی واحد خاتون امیدوار نورین عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی اپیل کے باعث انھوں نے عوامی جلسوں کے بجائے گھر گھر جا کر سیاسی ملاقاتیں کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار خان نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہے اس لیے ان کے پاس بھی ’محدود مہم‘ چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابی امیدوار کو اپنے حلقے کے لوگوں کے مزاج کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔‘
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے آخری ہفتے ہی خطے میں جلسے کیے، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ایک نمایاں فرق تھا۔
لیکن کشیدہ ماحول اور محدود انتخابی مہم کے باوجود پاکستان میں امورِ کشمیر کے وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کا خیال ہے کہ انتخابات کا انعقاد ہی واحد حل ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’لوگ جسے ووٹ دیں، اسے اقتدار میں آ کر ان کے مستقبل اور تقدیر سے متعلق فیصلے کرنے چاہییں۔ یہ اختیار صرف چند سو یا چند ہزار افراد کے پاس نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہاں کشمیر میں رہنے والے لاکھوں باشندوں کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کس کو آگے لانا چاہتے ہیں۔‘
تاہم خطے کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ انتخابات کے انعقاد کا مناسب وقت نہیں۔ مظفرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ زاہد امین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر انتخابات کرائے بھی گئے تو ’ان کی کوئی ساکھ نہیں ہو گی۔‘
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی حال ہی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’کشمیر کو 40 روز سے فون اور انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں ڈیجیٹل میڈیا پر انتخابی مہم کو کیسے چلایا جا سکتا ہے؟‘۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’اگر ایسے ہی حالات رہے تو پھر اِن انتخابات کی کیا ساکھ رہ جائے گی۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئیشن‘ کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہو کہ حکومت دونوں اس صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے فریقین سے اپیل کی کہ ’عام لوگوں کو سزا دینا بند کریں۔‘
تحقیقات کے مطالبات میں اضافہ
دریں اثنا خطے میں تشدد بین الاقوامی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
17 جولائی کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مطالبہ کیا کہ ’بدامنی کے باعث ہونے والی تمام ہلاکتوں کی فوری، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، خواہ وہ مظاہرین کی ہوں یا سکیورٹی فورسز کے ارکان کی۔‘
انھوں نے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’کسی سول سوسائٹی تنظیم کو مجرمانہ قرار دینا اور اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کرنا اظہارِ رائے، پرامن اجتماع کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔‘
پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا نے اس تشدد کا ذمہ دار ’بنیادی حقوق سے محرومی اور عشروں پر مشتمل منظم استحصال‘ کو قرار دیا ہے۔
ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا جیسی ریاست کے لیے، جس نے مسلسل انڈیا کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیے گئے جموں و کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کیا ہے، کشمیریوں کے حقوق پر خدشات کا دعویٰ کرنا ناقابل قبول ہے۔‘
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ انڈیا ایسے بیانات کے ذریعے ’جموں و کشمیر کی غیر حل شدہ حیثیت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے خراب ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’صورتحال جمہوری اور آئینی فریم ورک کے تحت حل ہو رہی ہے۔‘