’گرین بُوٹس‘ کی 30 برس بعد ایورسٹ سے واپسی: ’میں ان سے پوچھوں گی کہ آپ اتنے برس کہاں رہے؟‘

،تصویر کا ذریعہSupplied
- مصنف, جہانگیر علی
- عہدہ, بی بی سی نیوز ہندی
- مقام, سکربوچن، لداخ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
30 برس سے ’گرین بُوٹس‘ کے نام سے معروف ایک لاش ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے کچھ فاصلے پر برف میں پڑی ہوئی ہے۔
یہ لقب اس انڈین کوہ پیما کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ایک ابھری ہوئی چٹان کے نیچے ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ان کے پاؤں میں سبز کوہ پیمائی کے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ تب سے یہ جوتے چوٹی کی جانب جانے والے کوہ پیماؤں کے لیے راستے کی ایک ہولناک علامت بنے ہوئے ہیں۔
اب انڈیا ان کی لاش واپس لانے کے لیے بلند ترین چوٹیوں پر کام کرنے والی ایک خصوصی ریکوری ٹیم کی تلاش میں ہے۔
تاہم ان کے خاندان کے لیے لاش کی واپسی ایسی تصدیق ہے کہ وہ واقعی وفات پا چکے ہیں، اور شاید اس سے انھیں کسی حد تک ذہنی سکون مل سکے۔

،تصویر کا ذریعہFamily handout
سنہ 1996 میں ایورسٹ کو شمالی، تبتی راستے سے سر کرنے کی انڈیا کی پہلی مہم میں شامل ہونے کے لیے روانگی سے ایک رات قبل، ڈورجے موروپ اپنی اہلیہ کونچک یانگسکٹ کے ساتھ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے لداخ میں اپنے گھر پر بیٹھے تھے۔
انھوں نے اپنی اہلیہ سے وعدہ کیا کہ وہ ایک ہیرو بن کر واپس آئیں گے اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گے۔
کونچک یانگسکٹ نے دور افتادہ ہمالیائی خطے میں اپنے گھر پر بی بی سی کو بتایا کہ ’انھوں نے مجھ سے کہا کہ بچوں کا خیال رکھنا اور واپسی پر ہوائی اڈے پر میرا استقبال کرنے آنا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس لمحے انھیں ایک عجیب سا اندیشہ محسوس ہوا اور وہ سوچنے لگیں کہ شاید وہ انھیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں۔
اسی سال 10 مئی کو موروپ ان چھ کوہ پیماؤں میں شامل تھے جنھوں نے ایورسٹ کی چوٹی تک رسائی حاصل کی۔ یہ چوٹی نیپال اور چین کے زیرِ انتظام علاقے تبت کی سرحد پر واقع ہے۔
زیادہ تر کوہ پیما نیپالی (جنوبی) راستہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ شمالی (تبتی) راستہ زیادہ ڈھلوان اور زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

برفانی طوفان کے باعث مہم کے چھ میں سے تین ارکان واپس لوٹ آئے، مگر موروپ اور انڈو-تبتی بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے دو دیگر ارکان، سیوانگ سمنلا اور سیوانگ پالجوَر، چوٹی کی جانب بڑھتے رہے۔
واپسی کے دوران وہ شدید برفانی طوفان میں پھنس گئے اور ہلاک ہو گئے۔
اس انڈین مہم کے دو ارکان کی لاشیں کبھی نہیں مل سکیں، جبکہ تیسری لاش، یعنی ’گرین بُوٹس‘، تین دہائیوں سے برف میں منھ کے بل جمی ہوئی پڑی ہے۔
ایک صدی قبل وہاں کوہ پیمائی کے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے ایورسٹ کے علاقے میں 300 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، اور ان میں سے بہت سی لاشیں اب بھی پہاڑ پر موجود ہیں۔

چند سال قبل آئی ٹی بی پی نے لاش واپس لانے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کیا۔
کئی برس تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ ’گرین بُوٹس‘ سیوانگ پالجوَر ہیں، مگر 2024 میں حکام نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا۔
سنہ 1996 کی مہم کے زندہ بچ جانے والے ارکان کی گواہی اور کوہ پیماؤں کے ساتھ آخری ریڈیو رابطے کی جگہ نے دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔
اب حکام اس مفروضے پر کام کر رہے ہیں کہ یہ باقیات موروپ کی ہیں۔
ایک آئی ٹی بی پی افسر نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز ہندی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان کے کپڑوں اور سامان نے شناخت میں مدد دی۔‘
افسر کے مطابق اس سے پہلے ریکوری مشن شروع نہ ہو سکنے کی ایک وجہ انتظامی اور عملی مشکلات تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم انھیں کبھی نہیں بھولے۔ یہ صرف وقت کی بات تھی۔ جب ہمارے پاس لاش ہوگی اور تمام کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی تو خاندان کو آگاہ کر دیا جائے گا۔‘
’میرا دل ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ مر چکے ہیں‘
موروپ، جو ایورسٹ سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ مغرب میں واقع لداخ کے گاؤں سکربوچن سے تعلق رکھتے تھے، انڈو-تبتی بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) میں لانس نائب، یعنی لانس کارپورل، تھے۔
سنہ 1948 میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہونے والے موروپ نے غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے 1969 میں آئی ٹی بی پی میں شمولیت اختیار کی اور 1971 میں یانگسکٹ سے شادی کی۔
ان کی تعیناتی زیادہ تر سرحدی علاقوں میں رہی، جس کے باعث یانگسکٹ نے اپنے بیٹوں کی پرورش اکیلے کی۔

اب تقریباً 75 سال کی یانگسکٹ، جو ذیابیطس کی مریضہ اور جزوی طور پر بہری ہیں، اپنی شادی کا دن بھی مشکل سے یاد کر پاتی ہیں۔
تاہم سانحے کے بعد کے دن آج بھی ان کے ذہن میں نقش ہیں۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ابتدا میں خاندان میں کسی نے مجھ سے کچھ نہیں کہا۔‘
بعد ازاں آئی ٹی بی پی کے ایک وفد نے خاندان کو بتایا کہ موروپ غالباً وفات پا چکے ہیں۔
موروپ کے بھائی، ریٹائرڈ انڈین فوجی تاشی سونم، کہتے ہیں کہ ’جب میں نے حکام سے ان کی لاش کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اسے واپس لانا ناممکن ہے۔‘
بعد میں خاندان نے بغیر لاش کے آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
یانگسکٹ، جو کبھی سکول نہیں گئیں، اپنے شوہر کی مہم کے خطرات سے زیادہ واقف نہیں تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ پہاڑ پر طوفان آیا تھا۔ اگرچہ ہم نے گھر میں تعزیتی دعائیں کرائیں، لیکن میرا دل ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ مر چکے ہیں۔‘
آنسو بہاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ان کی لاش نہیں دیکھی تھی، اس لیے میرے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل تھا۔‘
لاش واپس لانا کتنا مشکل ہوگا؟

ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے، جس کی بلندی 8,849 میٹر ہے، جبکہ لاش تقریباً 8,500 میٹر کی بلندی پر موجود ہے۔
آئی ٹی بی پی ستمبر تک لاش واپس لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
شرپا ذرائع نے بی بی سی نیوز نیپالی کو بتایا ہے کہ خزاں کے کوہ پیمائی سیزن (ستمبر) میں لاش واپس لانے کے لیے رسیاں نصب کرنا اور دیگر معاون ڈھانچے قائم کرنا ضروری ہوگا، جس سے یہ کام مزید مشکل ہو جائے گا۔
کوہ پیما عموماً مارچ سے مئی کے درمیان بہار کے سیزن میں چڑھائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
’ڈیتھ زون‘ سے لاشیں واپس لانا، جہاں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے اور آکسیجن کی سطح سمندر کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہوتی ہے، نہایت خطرناک اور مہنگا کام ہے، جو بیشتر خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لاش نیچے لانے پر 40 ہزار سے 80 ہزار امریکی ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے۔
یہ انتہائی مشکل کام بھی ہے کیونکہ لاش کو جسمانی طور پر نیچے لانا پڑتا ہے، جس کے لیے چھ سے دس یا اس سے بھی زیادہ شرپاؤں کی ٹیم درکار ہو سکتی ہے۔

نمایاں نیپالی کوہ پیما اور مہماتی رہنما تشیرنگ جانگبو شرپا کا کہنا ہے کہ 30 برس سے پہاڑ پر جمی ہوئی لاش کو واپس لانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’موسم اور برف کی صورتحال انتہائی اہم ہوگی۔ شمالی جانب برفانی دراڑیں کم ہیں، مگر یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اگر نیپالی سمت میں کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری انخلا ممکن ہوتا ہے، لیکن چینی جانب ایسا کوئی نظام موجود نہیں۔‘
فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکوری کی منصوبہ بندی میں لاش کی جسمانی حالت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
موروپ کا خاندان اب بھی اس بارے میں محتاط ہے کہ لاش کی واپسی ان کے لیے کیا معنی رکھے گی۔
شناخت کی حتمی تصدیق کے لیے کبھی ڈی این اے میچنگ نہیں کی گئی۔
ان کے ایک بیٹے دورجے نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ ’آئی ٹی بی پی نے چند سال پہلے ہمارے خون کے نمونے لیے تھے، لیکن سوشل میڈیا پر ہونے والی باتوں کے علاوہ کسی نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔‘

،تصویر کا ذریعہFamily handout
موروپ کے گھر میں آج ان کے تمغے، ٹرافیاں، ان کی کوہ پیمائی کی مہمات کی چند پرانی تصاویر، کشمیر وادی سے خریدا گیا ایک ٹمبلر یعنی ڈھکن والا سفری مگ اور سب سے اہم چینی حکومت کا ایک سرٹیفکیٹ باقی ہے۔
سرٹیفکیٹ میں درج ہے کہ 10 مئی 1996 کو شام 5:30 بجے موروپ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچے تھے۔
چونکہ انھوں نے تبتی راستے سے چوٹی سر کی تھی، اس لیے چینی حکومت نے ان کی کامیابی کی تصدیق میں یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا۔
آپ اتنے برس کہاں تھے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہر سال 10 مئی کو موروپ کا خاندان ان کی یاد میں بدھ مت کی خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے۔
اگر لاش کی واپسی کا مشن کامیاب ہو گیا تو موروپ کے بیٹے پنچوک دورجے کا کہنا ہے کہ خاندان لداخ کے دارالحکومت لے میں واقع شہدا پارک کے قریب ان کی آخری رسومات ادا کرے گا۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے والد نے ملک کے لیے جان دی تھی اور انھیں ایک شہید کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موروپ کے وہ ساتھی، جو اسی مہم کے دوران جان سے گئے تھے، اسی اعزاز کے مستحق ہیں۔
پنچوک دورجے کے مطابق خاندان موروپ کی یاد میں ایک نشانی اپنے گھر میں بھی محفوظ رکھے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم گرین بُوٹس کو بھی محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔‘ یہ یادگار موروپ کے ایورسٹ سر کرنے کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ رکھی جائے گی۔
یانگسکٹ، سونم اور خاندان کے دیگر افراد پُرامید ہیں کہ یہ مشن کامیاب رہے گا اور موروپ کی باقیات بالآخر گھر واپس لائی جا سکیں گی۔
تاہم ان کے ذہن میں ایک سوال اب بھی موجود ہے: تین دہائیوں تک پہاڑ پر رہنے کے بعد کیا ان کی لاش قابلِ شناخت ہو گی؟
یانگسکٹ جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ ’جب وہ گھر واپس آئیں گے تو میں ان سے پوچھوں گی، آپ اتنے سال کہاں رہے؟‘
بی بی سی نیوز نیپالی کے پردیپ باشیال کی اضافی رپورٹنگ
















