پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ کے سات حلقوں میں پولنگ ملتوی، مقامی ووٹرز کیا چاہتے ہیں؟

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ پونچھ ڈویژن میں کشیدگی کے باعث 10 اگست کو 11 میں سے صرف چار حلقوں میں پولنگ ہو گی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی طرف سے خدشات کے اظہار کے بعد خطے کی ریاستی اسمبلی کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ہونے والے انتخابات کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 10 اگست (پیر) سے پونچھ ڈویژن میں قانون ساز اسمبلی کی 11 نشستوں میں سے سات پر پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے اور اب اس ڈویژن کے صرف چار حلقوں پر سابقہ شیڈول کے مطابق انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

پونچھ ڈویژن کے جن سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں وہ راولاکوٹ اور پلندری کے اضلاع میں واقع ہیں۔ جبکہ ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کے ایک حلقے میں الیکشن شیڈول کے مطابق ہو گا۔

باغ اور حویلی میں واقع ان چار حلقوں میں ووٹرز کی کل تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے اور ان حلقوں میں ایک موجودہ اور دو سابق وزرائے اعظم بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اگر پونچھ ڈویژن کی بات کی جائے تو باغ اور حویلی میں امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہے اور وہاں پر امیدوار کسی حد تک اپنی انتخابی مہم چلانے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ لیکن راولا کوٹ اور سدھنوتی میں حالات کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتوں کا کوئی بھی رہنما اِن علاقوں میں الیکشن مہم کے لیے نہیں گیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا پونچھ ڈویژن لگ بھگ گذشتہ دو ماہ سے خبروں میں ہے اور یہیں سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نےاپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو پونچھ ڈویژن کے شہر راولا کوٹ میں ہی روک لیا تھا اور گذشتہ دو ماہ سے سینکڑوں مظاہرین راولا کوٹ کے نزدیک ’دریک‘ کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

اسی مقام پر مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے اُن کے کارکنوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہے تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے ترجمان شوکت جاوید میر نے ہلاکتوں سے متعلق اس دعوے کی تردید کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اِسی علاقے میں رینجرز اور پولیس کے چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

ضلع راولاکوٹ میں قانون ساز اسمبلی کی پانچ نشستیں ہیں جن میں سے سب سے زیادہ حساس علاقے وہ ہیں جہاں پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنان دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

بی بی سی نے کشمیر کے ایک مقامی صحافی سے بات کی ہے جو دو روز قبل راولا کوٹ اور سدھنوتی گئے تھے۔ اُن کے مطابق راولاکوٹ شہر کے جن علاقوں میں وہ گئے وہاں انھیں انتخابی امیدواروں کا ایک بھی بینر یا پوسٹر نظر نہیں آیا جبکہ سدھنوتی میں امیدواروں کے بینرز اور پوسٹرز انتہائی کم دکھائی دیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ رینجرز اور پولیس اہلکار راولاکوٹ میں مسلسل گشت کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مرحلہ وار انتخابات کے تحت میر پور اور مظفر آباد ڈویژن میں انتخابات ہو چکے ہیں

’یہاں گذشتہ دو ماہ سے کرفیو جیسی صورتحال ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی نے پونچھ ڈویژن کے ووٹرز سے بات کی ہے جہاں کچھ حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ دیگر میں ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

راولاکوٹ میں بھی 10 اگست کو انتخابات نہیں ہو رہے۔ وہاں کے حلقہ ایل اے 23 کے رہائشی محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ اُن کے علاقے میں گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے کرفیو جیسی صورتحال ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث اُن کے حلقے میں کسی بھی جماعت کے امیدوار کی جانب سے انتخابی مہم چلانا تو دور کی بات، کسی امیدوار نے اپنے بینرز اور پوسٹرز بھی نہیں لگائے۔

محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ اُن کے حلقے کے زیادہ تر ووٹرز کو تو امیدواروں کے نام بھی معلوم نہیں ہیں۔

ان کے مطابق اُن کے علاقے کی صورتحال یہ ہے کہ لوگ اشیا خوردونوش کی خریداری کے لیے ہی تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ ’اگر الیکشن ہو بھی جاتے تو کوئی ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ نکلتا۔‘

حلقہ ایل اے 22 کے رہائشی فاضل راٹھور کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں انٹرنیٹ گذشتہ ڈھائی ماہ سے بند ہے جبکہ موبائل سروس بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انھوں نے بھی بتایا کہ اُن کے حلقے میں کسی امیدوار نے نہ تو اپنی انتخابی مہم چلائی اور نہ ہی عوام کو اس انتخابی عمل میں کوئی دلچسپی تھی۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ اور سدھنوتی میں جس طرح لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس پر ہر شخص دکھی ہے۔ راٹھور کے مطابق اُن کے حلقے میں اگر انتخابات ہو بھی جاتے تو شاید صرف امیدوار وں اور اُن کے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ اور کوئی ووٹ نہ ڈالتا۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی روز سے راولاکوٹ میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

Rawlakot

’لوگوں کے پاس یہی آپشن ہوتی ہے کہ وہ پانچ سال بعد نظام کی تبدیلی کے لیے ووٹ دیں‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں 10 اگست کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ وہاں سے تعلق رکھنے والے شہری آصف کیانی کا کہنا ہے کہ ’جس گھٹن کے ماحول میں انتخابات ہو رہے ہیں تو ایسے ماحول میں وہ اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ اُن کے ووٹ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ ایسے نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس پر لوگوں کے شکوک و شبہات بالکل واضح ہوں۔

تاہم آصف کیانی کے برعکس حویلی کے ایک رہائشی جمیل کا کہنا ہے کہ وہ اِن انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی ضرور استعمال کریں گے کیونکہ لوگوں کے پاس واحد یہی آپشن ہوتی ہے کہ وہ پانچ سال کے بعد نظام یا حکومت کی تبدیلی کے لیے ووٹ دیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس امید پر ووٹ دیں گے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت برسراقتدار آئے وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کر کے اس مسئلے کا حل نکالے گی، کیونکہ گذشتہ دو ماہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جو حالات ہیں اس پر پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

دوسری جانب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ اُن کی تنظیم کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور عوام دیگر حلقوں میں اسی طرح اس انتخابی عمل کا بائیکاٹ کریں گے جس طرح انھوں نے انتخابات کے پہلے دو مرحلوں میں انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس انتخابی عمل کی کوئی ساکھ نہیں ہے کیونکہ اسے عوام میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے بی بی سی کو بتایا کہ جن سات حلقوں میں انتخابات کو ملتوی کیا گیا ہے وہاں پر امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی پولنگ کی نئی تاریخ دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ جن حلقوں میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی وہاں پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جن حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں پر لوگ بڑی تعداد میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

راولاکوٹ میں حالات بدستور کشیدہ

بی بی سی میڈیا کا وہ پہلا ادارہ ہے جسے گذشتہ دنوں راولاکوٹ تک رسائی حاصل ہوئی تھی اور احتجاج کے مرکز میں لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا ہے۔

چار اگست 2026 کو اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے لیے بی بی سی نے راولا کوٹ میں متعدد خاندانوں سے بات کی تھی جن کا کہنا تھا کہ اُن کے پیاروں کو مظاہروں کے دوران گولیاں لگیں اور وہ ہلاک ہوئے۔

تاہم پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر اندھا دھند گولی چلائی۔

حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جنھوں نے اُن پر حملے کیے، عوام کی جان کو خطرے میں ڈالا یا حکومت کی رٹ کے راستے میں رکاوٹ ڈالی۔

بی بی سی نے اپنی تازہ رپورٹ کے لیے اب راولا کوٹ ہی سے تعلق رکھنے والے دو مزید ایسے خاندانوں سے بات کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پیارے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔

راولا کوٹ کے رہائشی معیز شوکت کہتے ہیں کہ ’اُن کے والد اپنے حق کی خاطر لڑتے ہوئے مارے گئے جس پر انھیں کوئی افسوس نہیں۔‘

معیز کے مطابق اُن کے والد شوکت حیات راولاکوٹ میں بس ٹرمینل کے قریب 27 جولائی کو سکیورٹی حکام کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے معیز شوکت کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے والد پاکستان ایئر فورس میں ملازم تھے اور بعدازاں وہ سعودی عرب چلے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اُن کے والد کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور فی الحال راولپنڈی میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔

Pakistan Kashmir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

معیز شوکت کے مطابق جب اُن کے والد کو معلوم ہوا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حق کے لیے مظاہرہ کر رہی ہے تو وہ ملازمت کو خیرباد کہہ کر واپس راولاکوٹ آگئے تھے۔

معیز شوکت کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اُن کے والد دیگر سینکڑوں کے افراد کے ہمراہ نکلے تھے اور اُن کے والد کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔

معیز شوکت کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں اُن کے والد کو تین گولیاں ٹانگوں پر لگیں۔

انھوں نے کہا کہ جب فائرنگ کا سلسلہ رُکا تب تک اُن کے والد زیادہ خون بہنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

شوکت حیات کی ہلاکت کے بارے میں جب راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ سے پوچھا گیا کہ ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چونکہ یہ واقعہ سورج ڈھلنے کے بعد کا ہے اس لیے وہ شوکت حیات کے خاندان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ شوکت حیات سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

Rawlakot

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

’کچھ شرپسند عناصر ہماری صفوں میں داخل کیے گئے ہیں‘

بی بی سی کی چار اگست کو شائع ہونے والی تحریر کے لیے کشمیر میں حکام نے بتایا تھا کہ کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ’پرتشدد گروہ‘ ہے اور ان کی جانب سے ڈرون کی مدد سے حاصل شدہ فوٹیج بھی دکھائی گئی ہے جس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے اس فوٹج میں مسلح افراد عمارتوں پر نظر آ رہے ہیں۔

ماضی قریب میں نیوز کانفرنسز کے دوران پولیس حکام نے ایسی رائفلیں بھی دکھائی ہیں جو ان کے مطابق گروہ کے اراکین سے ضبط کی گئی ہیں، ان کانفرنسس میں سکیورٹی حکام کی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

اُن کے مطابق تفتیش کے دوران ایک شخص نے بیان دیا کہ اسے کسی پیرا ملٹری فورس کے اہلکار کو قتل کرنے کے عوض ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

تاہم اسی رپورٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عمر نذیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی تھی اور کہا تھا ’میرے خیال میں چند مخصوص عناصر، جو اُن کے زیرِ اثر ہیں، ہماری صفوں میں داخل کیے گئے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً ہمارے درمیان موجود ہیں۔‘

’میرا ماننا ہے کہ ایسے افراد نے یہ کام کیا تاکہ اُن کے بیانیے کو درست قرار دیا جائے۔ میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کرتا لیکن ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ ہماری جانب سے ایسی پرتشدد کارروائی ہوئی۔‘

عمر نذیر نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کی غرض سے کوئی شواہد نہیں دکھائے کہ اُن کی صفوں میں مبینہ طور پر لوگ گھس آئے ہیں۔

Rawlakot

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جس دن شوکت حیات کی موت ہوئی، اُسی روز اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی کا ایک طالبعلم بھی راولا کوٹ میں ہلاک ہوا تھا۔

ہلاک ہونے والے اُسامہ جمیل کے بھائی اسد جمیل کا الزام ہے کہ اُن کے چھوٹے بھائی کو ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا گیا۔

اسد جمیل کے مطابق ’میرے چھوٹے بھائی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہا تھا اور اسی لیے اسے ٹارگٹ کیا گیا اور سر پر گولی ماری گئی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کا چھوٹا بھائی اُسامہ جمیل اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا اور اب اس کا ریسرچ ورک شروع ہونا تھا۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ یونیورسٹی میں موسم گرما کی چھٹیاں تھیں اس لیے وہ اپنے ابائی علاقے منگ میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آیا ہوا تھا۔

اسد جمیل کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی اور دیگر گھر والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بس ٹرمینل کے قریب دیے گئے دھرنے میں روزانہ جاتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 27 جولائی کو جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان ہوا تو اس وقت اُن کا بھائی اُسامہ اس لانگ مارچ کو لیڈ کرنے والے افراد میں شامل تھا۔

اپنی معلومات کے نتیجے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے بھائی سمیت اس موقع پر موجود کارکنان کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔

اس ہلاکت کے بارے میں بھی راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا یہی موقف ہے کہ چونکہ رات کے اندھیرے میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، اس لیے وہ ان ہلاکتوں کی نہ تو تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی مظاہرین کے اس دعوے کو تسلیم کر سکتے ہیں کہ ان کے کارکنان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔