انٹارکٹکا پار کرنے کی کوشش میں مہم جو کی موت

،تصویر کا ذریعہShackleton Foundation
برطانوی مہم جو ہینری ورسلی انٹارکٹکا کو پار کرنے کی اپنی کوشش کے دوران شدید تھکن اور پانی کی کمی کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔
55 سالہ سابق فوجی براعظم کو بغیر کسی مدد کے پار کرنے کے اپنے ہدف سے صرف 30 میل دور تھے جب ان کا انتقال ہو گیا۔
ان کی اہلیہ جوانا نے ایک بیان میں کہا کے انھیں ’دل شکن اداسی‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ لندن میں فلہم کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ہینری ورسلی ’مکمل انسانی اعضاء کے فیل ہونے‘ کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔
ڈیوک آف کیمبرچ نے کہا کہ انھیں ہینری ورسلی کی موت کا سن کر ’بہت افسوس‘ ہوا ہے اور فٹبالر ڈیوڈ بیکہم نے بھی انھیں خراج تحسین پیش کیا۔
پرنس ولیئم نے کہا: ’وہ عظیم جرات مند اور پر عزم شخص تھے اور ہم سب کو فخر ہے کہ ہم انھیں جانتے تھے۔‘
جب ہینری ورسلی کو علاج فراہم کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے چلی لے کر جایا جا رہا تھا تو ان کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا جس کے مطابق: ’ انٹارکٹک پر 71 دن اکیلے گزارنے اور 900 میل پار کرنے کے بعد میری جسمانی برداشت آج ختم ہو گئی ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اب میرا سفر ختم ہو چکا ہے، اس وقت جب میں اپنے مقصد سے اتنا قریب تھا۔‘
ہینری ورسلی نے 1770 کلو میٹر کا اپنا سفر گذشتہ سال نومبر میں شروع کیا تھا جس میں وہ اپنی خوراک، خیمے اور سامان کو اپنے پیچھے گھسیٹ کر پیدل چلے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہینری ورسلی نے زخمی اور بیمار فوجی خواتین اور مردوں کی مدد کے لیے یہ قدم اٹھایا جس میں انھوں نے ایک لاکھ پاؤنڈ جمع کرنے کا ہدف بھی پورا کیا۔
گذشتہ سال اکتوبر میں انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس چیلنج کے دوران ان کا وزن تقریباً 13 کلو گرام کم ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ان کا سفر 75 روز پر مشتمل ہوگا اور یہ کہ وہ 80 دنوں کی خوراک اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
اپنے سفر کے بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے اس بات پر حوصلہ افزائی ملے گی کہ میں ان بیمار فوجیوں کے لیے کچھ کر رہا ہوں۔‘






















