غلاموں کی تجارت کی قدیم نشانیاں منظرِ عام پر

،تصویر کا ذریعہIZIKO MUSEUM
جنوبی افریقہ کے قریب سمندر میں ڈوبنے والے ایک بحری جہاز سے ملنے والی اشیا کو کیپ ٹاؤن میں پہلی بار منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔
یہ اشیا ایک ایسے بحری جہاز کے ملبے سے ملی ہیں جسے غلاموں کی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو امید ہے کہ ان سے نہ صرف تاریخ پر تحقیق کرنے والے افراد کو مدد ملے گی بلکہ یہ انسانی تجارت کا شکار غلاموں کی یادگار بھی ثابت ہوں گی۔
سولہویں اور انیسویں صدی کے درمیان لاکھوں افریقی باشندوں کو بحرِ اوقیانوس کے پار غلامی کے لیے لے جایا گیا اور ان میں سے بیشتر سفر کے دوران ہی مارے گئے۔
جن چیزوں کو پہلی بار منگل کو کیپ ٹاؤن کے ازیکو سلیو لاج میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ان میں بیڑیوں کے ٹکڑے، لوہے کی سلاخیں اور لکڑی کی ایک چرخی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لوہے کی سلاخیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جہاز غلاموں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا تھا کیونکہ صرف انسانی وزن سمندر میں بحری جہاز کو متوازن رکھنے کے لیے ناکافی ہوتا تھا۔
ان نوادارات میں کچھ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع نیشنل میوزیم آف افریقن امریکن ہسٹری کو بھی نمائش کے لیے مستعار دی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہIZIKO MUSEUM
یہ اشیا امریکہ اور جنوبی افریقہ کے ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے ایک پرتگالی بحری جہاز کے ملبے سے نکالی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بحری جہاز کیپ ٹاؤن کے ساحل سے سو میٹر کے فاصلے پر دسمبر 1794 میں غرقاب ہوگیا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس پر چار سو غلام سوار تھے جنھیں موزمبیق سے برازیل لے جایا جا رہا تھا۔
اس بحری جہاز کو 1980 کی دہائی میں خزانوں کے متلاشی غوطہ خوروں نے دریافت کیا تھا لیکن سنہ 2010 میں ہی محققین کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ غلام لے جانے والا تجارتی جہاز تھا۔
اس انکشاف کے بعد سے جہاز کے ملبے کے پاس غوطہ خوری محدود کر دی گئی تاکہ اس علاقے کو محفوظ کیا جا سکے۔
منگل کو جہاز سے ملنے والی اشیا کی رونمائی کے علاوہ ان ہلاک شدگان کی یاد میں تقریب بھی ہو گی جو اس جہاز پر سوار تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اس پر سوار افراد میں سے نصف مارے گئے تھے جبکہ بچ جانے والوں کو کیپ ٹاؤن میں غلاموں کی منڈی میں بیچ دیا گیا تھا۔
اس بحری جہاز کے ملبے سے کسی قسم کی انسانی باقیات نہیں ملی ہیں۔





















