شیرنی کے حملے میں خاتون سیاح ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی افریقہ کے ایک پارک میں ایک شیرنی نے دو سیاحوں کی گاڑی پر حملہ کر کے ایک خاتون سیاح کو ہلاک کر دیا ہے ۔ خیال ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون امریکی شہری ہے۔
پارک کے ایک اہلکار سکاٹ سمسن نے بی بی سی کو بتایا کہ شیرنی نے سیاح جوڑے کی گاڑی کی کھڑکی میں چھلانگ لگائی اور خاتون کو دبوچ لیا۔
جب طبی عملہ وہاں پہنچا تو شیرنی امریکی سیاح کو بری طرح زخمی کر چکی تھی اور زخمی خاتون جانبر نہ ہو سکی۔ ہلاک ہونے والی خاتون کا شوہر بھی زخمی ہے جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
یہ پارک جسے ’لائن پارک‘ یا ’شیروں کا پارک‘ کہا جاتا ہے، جوہانسبرگ سے 19 میل شمال کی طرف واقع ہے۔
بی بی سی کے ملٹن نکوسی کے مطابق کہ پارک کے ضوابط کے مطابق وہ جگہ جہاں شیر رکھے جاتے ہیں گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ نیچے کرنا ممنوع ہے۔
پارک کے منتظمین نے واقعے کے فوراً بعد شیرنی کو حملے کی جگہ سے دور ہٹا دیا ہے لیکن فی الحال یہ پتہ نہیں کہ آیا شیرنی کو ختم کیا جائے گا یا نہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق خاتون سیاح کی ہلاکت گذشتہ چار ماہ میں پارک میں ہونے والا اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
جوہانسبرگ سے بی بی سی نیوز کے ملٹن نکوسی کے مطابق پیر کی دوپہر شیروں کے پارک میں پیش آنے والا واقع نہ صرف سیاحوں کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی صدمے سے کم نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ لکھتے ہیں ’میں اس پارک میں اکثر جاتا ہوں۔ یہ فیملی کو ساتھ لے جانے کے لیے زبردست پارک ہے اور میں ایک عرصے سے اپنے بچوں کو اس پارک میں لے کر جاتا ہوں۔ دیگر ملکوں کے لوگ جو افریقہ کی جنگلی حیات کو دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ہم انھیں سینکڑوں میل گاڑی چلا کر جنگلوں میں لے جانے کے بجائے یہیں لے آتے ہیں۔ یہ پارک جوہانسبرگ سے قریب ہے اور یہاں ان سیاحوں کا آنا آسان ہے جو کاروباری ملاقاتوں یا کانفرنسوں میں شرکت کے لیے مختصر دورے پر اس شہر آتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کی سرکاری ویب سائٹ اس پارک کو چڑیا گھر اور کھیل کے مقام کے درمیان کی چیز قرار دیتی ہے جبکہ ’لائن پارک‘ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہاں جانور انتہائی قریب سے دیکھنے کو ملیں گے۔
’لائن پارک‘ خطے کی انتہائی مقبول جگہ ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں آنے والے مشہور لوگوں میں کولمبیا کی گلوکارہ شکیرا، ہالی ووڈ کی اداکارہ نتالی پورٹمین اور سنہ 2010 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے عالمی فٹبال کپ سے پہلے جرمنی کی پوری ٹیم شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters



















