خصیوں پر برف رکھنا اور خون کا عطیہ، سپرم بڑھانے سے متعلق مفروضے جن کے طبی شواہد نہ ہونے کے باوجود کچھ مرد ان پر عمل کر رہے ہیں

28 سالہ سائمن اپنی فرٹیلٹی برقرار رکھنے کے لیے روزانہ صبح متعدد مراحل پر مبنی روٹین پر عمل کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشن28 سالہ سائمن اپنی فرٹیلٹی برقرار رکھنے کے لیے روزانہ صبح متعدد مراحل پر مبنی روٹین پر عمل کرتے ہیں
    • مصنف, جیکی ویک فیلڈ
    • عہدہ, گلوبل ہیلتھ رپورٹر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

سائمن روز صبح اٹھنے کے بعد سوانا جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوانا کی گرمی پسینے کے ذریعے جسم میں موجود زہریلے مادّوں کو خارج کرنے میں مدد دیتی ہے لیکن انھیں گرمی سے اضافی تحفظ بھی درکار ہوتا ہے۔

وہ بی بی سی ورلڈ سروس کو بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ ’چل نٹس‘ نامی ایک اور عمل بھی کرتے ہیں جس میں وہ اپنے خصیوں پر آئس پیک رکھتے ہیں تاکہ سپرم کی زیادہ تعداد کو برقرار رکھا جا سکے۔

یہ سب اُن کے سپرم کو بہتر بنانے والے معمول کا حصہ ہے۔ ان کاموں کے مؤثر ہونے کے بارے میں طبی شواہد موجود نہ ہونے کے باوجود وہ ان پر عمل کرتے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ وینیزویلا نژاد امریکی شہری سائمن اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ وہ روزانہ دھوپ میں جائیں اور باقاعدگی سے ورزش بھی کریں۔ وہ مائیکرو پلاسٹک فلٹر کے ذریعے پانی پیتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ زہریلے اثرات سے بچنے کے لیے کاٹن کے انڈروئیر پہنتے ہیں۔

لیکن سائمن کا فی الحال بچے پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ان کا کوئی ساتھی بھی نہیں لیکن وہ اس بات پر زیادہ فکر مند ہیں کہ سپرمز کی کم تعداد ان کی صحت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’فرٹیلٹی میں کمی اینڈوکرائن نظام کو متاثر کر سکتی ہے، آپ کے ٹیسٹوسٹیرون یا دوسرے ہارمونز کی سطح پر اثر ڈال سکتی ہے اور یہ بہت بڑا خوف ہے۔‘

سائمن کا شمار مردوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد میں ہوتا ہے جو اپنے سپرم کاؤنٹ کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

دنیا بھر میں مردانہ بارآوری (فرٹیلٹی) سے متعلق ہیش ٹیگز جیسے کہ سپرمز، میل فرٹیلٹی اور سیمن انیلسس کو ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر کروڑوں بار دیکھا جا چکا جبکہ مردانہ بارآوری سے متعلق ریڈڈٹ فورمز کی تعداد جنوری سے اب تک تین گنا ہو چکی ہے۔

Simon sits in his back garden, looking to the side of the camera. He has a dark beard and dark short wavy hair. He is wearing a dark grey t-shirt.
،تصویر کا کیپشنسائمن کا کہنا ہے کہ وہ سپرم کی تعداد پر دھیان دے کر اپنی صحت کا تحفظ کر رہے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مردوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو سیمن (مادہ منویہ) ٹیسٹ کروانے کی درخواست کرتے ہیں اور مستقبل میں اپنی فرٹیلٹی کو لے کر فکر مند ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی (ٹی آر ٹی) اور سٹیرائیڈز کے بڑھتے استعمال کے علاوہ ماحول میں پائے جانے والے زہریلے مادّوں سے متعلق خدشات ہیں جو مردوں میں فرٹیلٹی سے جڑے ہارمونز کو متاثر کر سکتے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم فرٹیلٹی کے ماہر پروفیسر سُکس منہاس کا کہنا ہے کہ اس توجہ کے ملے جلے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

’مردانہ بانجھ پن کے مسئلے کو اجاگر کرنا اہم ہے لیکن کہیں ہم اس تشویش کو غیر ضروری حد تک تو نہیں بڑھا رہے؟‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اسی تشویش کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انفلوئنسرز اور مختلف مصنوعات کی ایک صنعت بھی ابھر رہی ہے جو مردوں میں پائی جانے والی اس تشویش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دیگر بہت سے افراد کی طرح سائمن نے بھی اس بارے میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر ہی سنا تاہم انھوں نے ابھی تک اپنا سپرم ٹیسٹ نہیں کروایا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی خاص وجہ ہے کہ انھیں اپنی صحت کے بارے میں تشویش ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے عمومی طور پر خوف رہتا ہے، اس لیے میں نے اپنی بارآوری کی حفاظت کا انتخاب کیا۔‘

انفلوئنسر برائن جانسن کا کانٹینٹ دیکھ کر ہی سائمن کو پہلی بار اپنی فرٹیلٹی کے متعلق تشویش لاحق ہوئی تھی۔

ماضی میں سلیکون ویلی سے وابستہ یہ ارب پتی دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کا سپرم کاؤنٹ اوسط شخص سے چار گنا زیادہ ہے۔

وہ ٹیسٹوسٹیرون اور سپرم کاؤنٹ بڑھانے کے لیے سوانا اور آئس پیک جیسے طریقوں کو فروغ دیتے ہیں۔ سائمن بھی ان طریقوں پر عمل کرتے ہیں۔

Bryan Johnson pictured in 2021 - he has swept-back dark hair, blue eyes and is wearing a pale brown shacket.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرائن جانسن دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی بھی اوسط شخص کی نسبت ان کے سپرم کی تعداد چار گنا زیادہ ہے

جانسن کی جانب سے شائع کیے جانے والے مواد کو 60 لاکھ سے زائد لوگ فالو کرتے ہیں۔ جانسن کا مواد ممکنہ صارفین کو ان کی ویب سائٹ ’بلوپرنٹ‘ کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ سپلیمینٹس فروخت کرتے ہیں۔

وہ اس میدان میں اکیلے نہیں۔ دیگر انفلوئنسرز بھی بغیر طبی شواہد کے مختلف طریقے تجویز کرتے ہیں جن میں مخصوص سپلیمینٹس، ریڈ لائٹ تھراپی اور خون عطیہ کرنا شامل ہے تاکہ مبینہ طور پر خون میں شامل مائیکرو پلاسٹکس کو ’فلٹر‘ کیا جا سکے۔

ہیلتھ انفلوئنسرز کا یہ مواد عالمی سطح پر شرحِ پیدائش میں کمی کے بارے میں جاری وسیع بحث کے پس منظر میں سامنے آ رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر صحت آر ایف کے جونیئر نے حال ہی میں ’بارآوری کے بحران‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1970 میں ’مردوں کا سپرم کاؤنٹ آج کے نوجوانوں کے مقابلے میں دوگنا تھا۔‘

تاہم اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ آج کے نوجوانوں کا سپرم کاؤنٹ 1970 کے مردوں سے کم ہے۔ اگرچہ ماضی میں کی جانے والی کچھ بڑی تحقیقات کے تجزیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے بعد سے عالمی سطح پر سپرم کاؤنٹ میں نمایاں کمی آئی لیکن اس موضوع پر تحقیق اب بھی محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپرم کاؤنٹ میں کمی کی وجوہات اور شرحِ پیدائش پر اس کے اثرات ابھی واضح نہیں۔

دوسری طرف اینڈریو ہبرمین جیسے انفلوئنسرز جن کے مواد میں ’مینوسفیئر‘ خیالات کی جھلک ملتی ہے، بھی اپنے پوڈکاسٹس میں مردوں کے سپرم کاؤنٹ میں کمی پر بات کر چکے ہیں۔

مینوسفیئر ایسی ان لائن کمیونٹیز اور افراد کو کہا جاتا ہے جو مردوں کی برتری پر یقین رکھتے ہیں۔

شرحِ پیدائش میں کمی کی کئی وجوہات ہیں جو حیاتیاتی صلاحیت سے ہٹ کر ہیں، جس سے عالمی سطح پر ہر سات میں سے ایک جوڑا متاثر ہے۔ لوگ اکثر معاشی اور سماجی مسائل کو بچے پیدا نہ کرنے کی ایک اہم وجہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

امپیریئل کالج کے پروفیسر چنّا جیسینا کے مطابق اگرچہ ان کے خیال میں تشویش کی کچھ گنجائش ضرور ہے مگر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ چیلنجز ضرور موجود ہیں لیکن یہ اب بھی واضح نہیں کہ ان کی اصل وجوہات کیا ہیں۔‘

ہیلتھ انفلوئنسرز لوکاس کا کہنا ہے کہ ’میں مردوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ روزانہ دو سے تین بار، تقریباً 10 سے 15 منٹ کے لیے اپنے انڈرویئر کے اوپر آئس پیک رکھیں‘
،تصویر کا کیپشنہیلتھ انفلوئنسرز لوکاس کا کہنا ہے کہ ’میں مردوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ روزانہ دو سے تین بار، تقریباً 10 سے 15 منٹ کے لیے اپنے انڈرویئر کے اوپر آئس پیک رکھیں‘

نیچروپیتھ لوکاس اُن ہیلتھ انفلوئنسرز میں سے ایک ہیں جو اپنے مواد کے ذریعے بارآوری کی شرح سے متعلق خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم دنیا بھر میں ایک وبا دیکھ رہے ہیں، مجموعی طور پر بارآوری میں کمی واقع ہو رہی ہے۔‘ وہ اپنے یوٹیوب ناظرین کے سامنے یہ گمراہ کن دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ 33 سال میں مرد بانجھ ہو جائیں گے۔

وہ آن لائن کورسز فروخت کرتے ہیں، انفرادی (ون آن ون) کوچنگ فراہم کرتے ہیں، اور اُن مردوں کے لیے سپلیمینٹس بھی بیچتے ہیں جو اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح اور بارآوری بڑھانا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کا مواد کافی وائرل ہو چکا ہے جس میں وہ بعض غیر ثابت شدہ بارآوری کے طریقوں کو فروغ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں مردوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ روزانہ دو سے تین بار، تقریباً 10 سے 15 منٹ کے لیے اپنے انڈر ویئر کے اوپر آئس پیک رکھیں۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ صارفین نے انھیں بتایا کہ اس طریقے کو آزمانے کے بعد اُن کی ساتھی حاملہ ہو گئی۔

ان کے بعض فالوورز ایک آلے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خصیوں پر یا اُن کی طرف سرخ روشنی (ریڈ لائٹ) بھی ڈالتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا تو یہ ایسا قابلِ عمل طریقہ ہے جسے آزمایا جا سکتا ہے۔‘

جب ان سے ان کے مشوروں کے غیر ثابت شدہ ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو لوکاس کا کہنا تھا اُن کے خیال میں خصیوں پر برف لگانے سے فائدہ ہو سکتا ہے تاہم وہ اس بارے میں مزید تحقیق دیکھنے کے خواہاں ہیں۔

لوکاس صحت مند غذا، مناسب نیند اور ورزش کا بھی مشورہ بھی دیتے ہیں، ایسے اقدامات جن کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود ہیں۔

پروفیسر چنا جیاسینا کہتے ہیں کہ طبی مشورے کے بغیر فرٹیلٹی کی دوائی لینا خطرناک ہو سکتا ہے
،تصویر کا کیپشنپروفیسر چنا جیاسینا کہتے ہیں کہ طبی مشورے کے بغیر فرٹیلٹی کی دوائی لینا خطرناک ہو سکتا ہے

بارآوری سے متعلق یہ مشورے ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب باڈی بلڈنگ اور ظاہری شکل و صورت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے آن لائن رجحانات کے باعث ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے والی ادویات لینے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن سٹیرائیڈز کا استعمال بارآوری کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس نقصان کا مداوا کرنے کی کوشش میں انفلوئنسرز مختلف ادویات کے مجموعے جنھیں ’سٹیکس‘ کہا جاتا ہے، تجویز کرتے ہیں۔ اکثر انفلوئنسرز یہ ادویات اپنی ویب سائٹس پر فروخت بھی کرتے ہیں۔

ان میں ایچ سی جی اور ایچ ایم جی جیسی ادویات شامل ہیں جو مردوں اور خواتین میں بارآوری کے ہارمونز کو ’فعال‘ کرنے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتی ہیں تاہم بنا ڈاکٹر کے مشورے ان ادویات کا استعمال خطرناک ضمنی اثرات پیدا کر سکتا ہے اور مستقل نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

پروفیسر جیسینا کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی خطرناک ہے، (بعض ادویات) خون میں کلوٹنگ کا باعث بن سکتی ہیں اور چھاتی کی غیر معمولی نشوونما کا سبب بن سکتی ہیں جس کا اگر بروقت علاج نہ ہو تو جسمانی ساخت بگڑ سکتی ہے۔

ہم نے دنیا بھر سے سات مختلف مردوں سے بات کی جو ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی (ٹی آر ٹی) لینے کے بعد اپنی بارآوری بحال کرنے کے لیے ایسے ’سٹیکس‘ استعمال کر رہے تھے۔ چونکہ سٹیرائیڈز جیسی ادویات آن لائن خریدنا غیر قانونی ہے اس لیے انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ انھیں یقین تھا کہ وہ ’ایچ ایم جی اور ایچ سی جی‘ کے بھرپور استعمال کے بعد ’بہت سے بچوں کے باپ بن سکیں گے۔‘

جمال نے اپنا مسل ماس بڑھانے کے لیے سٹیرائڈز استعمال کیے
،تصویر کا کیپشنجمال نے اپنا مسل ماس بڑھانے کے لیے سٹیرائڈز استعمال کیے

جمال (فرضی نام) باڈی بلڈنگ کے لیے ٹیسٹوسٹیرون اور سٹیرائیڈز کی زیادہ مقدار لیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی فرٹیلٹی کم ہو گئی۔ گذشتہ سال کے آخر میں انھوں نے اور ان کی ساتھی نے بچوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا جس کے بعد انھوں نے یہ اشیا لینی چھوڑ دیں۔

اُنھیں آن لائن فورمز اور یوٹیوب پر اپنے ہی جیسے مردوں سے فرٹیلٹی سے متعلق مشورے ملے جو ان کی طرح اِن چیزیں کا استعمال کرتے تھے۔ اُنھوں نے جمال کو نام نہاد ’مکمل محفوظ فرٹیلٹی کے طریقے‘ (فول پروف فرٹیلٹی سٹیکس) تجویز کیے۔

جمال کہتے ہیں کہ ’لوگوں نے آن لائن بتایا کہ اس طرح اسے لیا جاتا ہے اور ایسے کرنا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ کسی اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس جانا بہتر ہوتا لیکن میں نے یہ چیزیں ان ہی لوگوں سے خرید لیں۔

جب انھیں ان چیزوں سے فائدہ نہیں ہوا تو انھوں نے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ پروفیسر جیسینا سے ملے۔ اُس وقت تک انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ بنا طبی مشورے کے فرٹیلٹی بڑھانے والی ادویات کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔

پروفیسر جیسینا کے مشورے پر جمال نے تمام دوائیں، بشمول فرٹیلٹی سٹیک بند کر دیں۔ چھ ماہ بعد ان کے قدرتی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بہتر ہو رہی ہے تاہم وہ ہارمون ابھی بھی کم ہے جو سپرم کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے۔ وہ اور پروفیسر پُرامید ہیں کہ اس میں بھی بہتری آئے گی۔

پروفیسر جیسینا خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مردوں میں بارآوری سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ایک مثبت قدم ہے لیکن اس سے معلومات کا خلا بھی پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے جمال جیسے مرد ماہرین تک آسان رسائی نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے مشورے لے لیتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ کم سے کم یہ ہو سکتا ہے کہ یہ مشورے انھیں اُن اقدامات سے دور کر دیں جو ان کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں اور بدترین صورت میں یہ اُنھیں ایسے کام کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں، جو اُن کے لیے نقصان دہ ہوں۔