مرغے لڑانے کا الزام:سابق شہزادی عدالت میں

رومانیہ کی ایک سابق شہزادی مرغے لڑانے کا کاروبار کرنے کے الزام میں امریکہ کی ایک عدالت میں پیش ہوئی ہیں۔
استغاثہ کے وکلا کا کہنا ہے کہ 60 ارینا واکر اور ان کے شوہر نے دو ہزار بارہ اور تیرہ میں اوریگن میں دس مختلف اوقات میں مرغے لڑانے کے مقابلوں کا اہتمام کیا تھا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزام کے مطابق لڑائی کے وقت مرغوں کی ٹانگوں کے ساتھ بلیڈ باندھے گئے تھے اور پیسے دے کر مرغوں کی لڑائی کا تماشا دیکھنے والوں کو خوراک کا سامان بھی فروخت کیا جاتا تھا۔
ارینا واکر رومانیہ کے سابق بادشاہ مائیکل اول کی تیسری بیٹی ہے۔ مائیکل اول رومانیہ کے آخری بادشاہ تھے جنھیں 1947 میں کمیونسٹوں نے بادشاہت سے ہٹنے پر مجبور کر کے جلا وطن کر دیا تھا۔
ارینا واکر اور ان کےشوہر پر غیر قانونی طور پر جوئے کا کاروبار کرنے اور جانوروں سے متعلق وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرنے کی سازش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
رومانیہ کا شاہی خاندان سوئٹزرلینڈ اور برطاینہ میں مقیم رہا ہے جہاں وہ مرغی کے فارم اور لکڑی کا سامان بنانے کی ورکشاپ چلاتے تھے۔
شاہی خاندان کے ویب سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق رومانیہ کے سابق بادشاہ اکانوے سالہ مائیکل نے ان کی بیٹی پر لگائے گئے الزامات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ’بادشاہ سلامت اور شاہی خاندان کو امید ہے کہ امریکہ کا انصاف کا نظام اور اوریگن ریاست کی عدالت اس مقدمے کو جلد اور شفاف طریقے سے حل کر دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارینا اور ان کے شوہر پر لگائے گئے ہر الزام کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال قید اور دو لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق الزامات ثابت ہونے کی صورت میں شاید انھیں اریگان شہر میں اپنا فارم بھی چھوڑنا پڑے۔
ضلع اوریگن کی اٹارنی جنرل آماندہ مارشل نے کہا کہ’مرغے لڑانا نہ صرف ایک وحشیانہ فعل ہے بلکہ اس سے عوام کی صحت اور تحفظ کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس سے دوسرے جرائم جنم لیتے ہیں۔‘





















