صومالیہ میں قحط سے لاکھوں کی موت

وقت اشاعت

ایک تحقیق کے مطابق دو ہزار دس سے دو ہزار بارہ کے درمیان صومالیہ میں قحط کی صورت حال سے تقریبا دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

غذائی امور سے متعلق اقوام متحدہ کی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان میں نصف تعداد بچوں کی ہے جن کی عمر پانچ برس سے بھی کم کی تھی۔

سنہ انیس سو بانوے میں خشک سالی سے تقریباً سوا دو لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے جس سے یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

اس بار سخت ترین قحط کے ساتھ ساتھ خطّے میں اقتدار کی جنگ اور عسکری تنظیم الشباب کی سرگرمیوں نے حالات کو مزید خراب کردیا جس سے حالات اور خطرناک ہوئے۔

غذا اور زراعت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ ’فوڈ اینڈ اگریکلچر اورگنائزیشن‘ سے وابستہ سینیئر ماہر اقتصادیات مارک سملڈرس کا کہنا ہے کہ قحط سے متعلق امریکی ادارہ ( فیمن ارلی وارننگ سسٹم نیورک) کے ساتھ مشترکہ ’سٹڈی سے اس انسانی المیہ کی وسعت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

امریکی ادارہ کے ایک افسر کرس ہل برنر کا کہنا ہے ’اس سے پتہ چلتا ہے کہ صومالیہ میں جو بھی کچھ ہوا وہ گزشتہ پچيس برسوں میں سب سے خطرناک قسم کا قحط تھا۔‘

اقوام متحدہ نے صومالیہ کے جنوبی علاقے کو پہلی بار دو ہزار گيارہ میں قحط زدہ علاقہ قرار دیا لیکن وہ علاقہ جو الشباب کے کنٹرول تھا اسے اس میں شامل نہیں کیا اور مغربی امدادی ایجنسیوں کو وہاں امدای کام کرنے سے روک دیا تھا۔ لیکن قحط کا اثر ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلتا گيا۔

صومالیہ کے لیے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی رابطہ کار فلپ لیزرینی کا کہنا ہے کہ ’رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ قحط زدہ علاقہ قرار دیے جانے سے پہلے ہی ہمیں بہت کچھ کرنا چاہیے تھا۔‘

ان کے مطابق اس سلسلے میں دو ہزار دس میں اس سے متعلق جو واننگ دی گئی اس کی بنیاد اس پر کام کچھ بھی نہیں کیا گيا۔

سخت ترین قحط دو ہزار گيارہ میں دیکھنے کو ملا جس سے تقریبا ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور غذا کی تلاش میں لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

صومالیہ میں کئی برسوں سے اقتدار کی جنگ بھی چھڑی ہے اور الشباب نامی عسکری تنظیمیں میں بھی سر گرم ہیں جس سے حالت اور خراب ہیں۔