امریکی محکمۂ ڈاک: 28ہزار ملازمین کی چھانٹی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کے محکمۂ ڈاک میں تین ارب ڈالر کی کٹوتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت خدشہ ہے کہ اٹھائیس ہزار ملازمین کو فارغ کردیا جائے گا۔
نئے منصوبے کے تحت درجۂ اول کی ڈاک یعنی اگلے روز مطلوبہ مقام تک دستاویز یا سامان پہنچانے کی سہولت ختم کردی جائے گی۔
دارالحکومت واشنگٹن میں واقع محکمۂ ڈاک کے صدر دفتر میں ڈیوڈ ولیم نے میڈیا کو بتایا کہ خطوط کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔
ان کے بقول بلوں کی ادائیگی اور دیگر رابطوں کے لیے اب صارفین کا انحصار انٹرنیٹ کے استعمال پر بڑھتا جارہا ہے۔
سنہ دو ہزار چھ میں درجۂ اول کی ڈاک کی تعداد تقریباً دس کروڑ کے قریب تھی جو اب آٹھ کروڑ سے بھی کم ہوچکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد سنہ دو ہزار بیس تک نصف تک پہنچ جائے گی۔
مختلف مقامات پر ڈاکخانوں کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اب خطوط کو اپنےمطلوبہ مقام تک پہنچنے سے پہلے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوگا۔
محکمۂ ڈاک کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو اکہتر سے جاری رات ہی رات میں خطوط پہنچانے کی روایت مخصوص حالات کے علاوہ مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
اپریل سے ڈھائی سو سے زیادہ ڈاکخانے بند ہوجانے کے بعد تخمینہ لگایا گیا ہے کہ خطوط اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں دو سے تین دن لیں گے جبکہ جریدے اور اخبارات کو ان کے صارفین تک پہنچانے میں دو سے نو دن بھی لگ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیوڈ ولیم نے کہا ’صارفین اپنی پسند کو تلاش کررہے ہیں اور ہم مارکیٹ کے موجودہ حالات کا سامنا کررہے ہیں اور محکمۂ ڈاک کو ایسی ڈگر پر ڈال رہے ہیں جو مستقبل کی تبدیلیوں سے آشنا ہوسکے۔‘





















