شام اور سعودی عرب کی کوششیں

شامی صدر بشار الاسد اور سعودی بادشاہ عبداللہ نے لبنان کے مشترکہ دورے مختلف دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی مفاد کی خاطر گروہی اختلافات کو پس پشت ڈال دیں۔
دونوں رہنماؤں نے یہ دورہ سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل پر اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظر میں لبنان میں شیعہ اور سنی گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرانے کے لیے کیا ہے۔
شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے ان اطلاعات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ رفیق حریری کے قتل میں اس پر بھی فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بین الاقوامی عدالت عنقریب اپنے فیصلے میں حزب اللہ کو قصوروار ٹھہرانے والی ہے۔
حزب اللہ لبنان میں حکومت میں شریک ہے اور پارلیمان میں حزب اختلاف کی اہم جماعت ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری جو اب ملک کے وزیر اعظم ہیں گزشتہ ہفتے دمشق کے دورے پر گئے تھے جو ان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ سعد حریری کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے بھی طے پائے تھے۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق لبنان اور شام کو قریب لانے میں سعودی عرب کے بادشاہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب سعد حریری کی جماعت کی سیاسی اور مالی حمایت کرتا ہے۔
شام کی فوج سن دو ہزار پانچ تک لبنان میں تعینات تھی جب اسے داخلی اور خارجی دباؤ کے تحت وہاں سے نکلنا پڑا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















