ترکی: کوئلے کی کان میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی، متعدد لاپتہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی ترکی کے صوبے بارتین میں ایک کوئلے کی کان میں دھماکے سے کم از کم 40افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
دھماکے کے وقت کان میں 300 میٹر گہرائی میں تقریباً 110 افراد کام کر رہے تھے۔
ترکی کے وزیرِ صحت فہرتین کوشا نے بتایا کہ 11 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے اور ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
امدادی کارکنان پوری رات چٹانیں ہٹا کر متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بحرِ اسود کے ساحلی شہر اماسیا میں واقع اس کان سے پراگندہ حال کان کن باہر نکل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گمشدہ افراد کے دوستوں اور رشتے داروں کو بھی کان کے پاس اپنے پیاروں کی خبر سننے کے لیے بے تاب کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دھماکہ 300 میٹر کی گہرائی میں ہوا۔ ترک وزیرِ داخلہ سلیمان سوئلو نے کہا کہ 300 سے 350 میٹر کی ’پرخطر‘ گہرائی میں کوئی 49 افراد کام کر رہے تھے۔ سوئلو نے موقع پر موجود میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ ’ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں ہم نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دھماکے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور مقامی حکام نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ترکی کے وزیرِ توانائی نے کہا کہ ابتدائی اشاروں کے مطابق یہ دھماکہ فائرڈیمپ کی وجہ سے ہوا جو کوئلے کی کان میں میتھین گیس سے بننے والا دھماکہ خیز ملغوبہ ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُنھوں نے کہا کہ ’ہم انتہائی افسوسناک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔'‘
وزیرِ توانائی فاتح دونمز نے کہا کہ کان کے اندر جزوی طور پر انہدام ہوا ہے مگر یہ کہ فی الوقت کوئی آگ نہیں لگی ہوئی جبکہ ہوا کا گزر بھی موجود ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان متوقع طور پر سنیچر کو اس جگہ کا دورہ کریں گے۔
اماسیا کے میئر رشائی شاکر نے کہا کہ بچ جانے والے کئی افراد ’شدید زخمی‘ ہیں۔
کان سے خود کوشش کر کے باہر نکلنے والے ایک کان کن نے بتایا: ’مٹی اور دھواں بہت زیادہ تھا، ہم نہیں جانتے کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔‘
یہ کان ریاستی کمپنی ٹرکش ہارڈ کول انٹرپرائزز کی ملکیت ہے۔
ترکی کی تاریخ میں کوئلے کی کان کا بدترین سانحہ سنہ 2014 میں ہوا تھا جب مغربی شہر سوما کی ایک کان میں دھماکے سے 301 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
























