ایلون مسک کی تائیوان کو چین کا خصوصی علاقہ بنانے کی حمایت پر تائیوان مشتعل

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اینابیل لیانگ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

ٹیسلا اور سپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹیو افسر ایلون مسک کی جانب سے تائیوان کو چین کا خصوصی انتظامی علاقہ بنانے کی حمایت کے بعد جہاں چین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے تو وہیں تائیوان نے اس کی مذمت کی ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص نے فنانشل ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ اُنھیں لگتا ہے کہ دونوں حکومتیں ایک 'معقول حد تک قابلِ قبول' تصفیہ کر سکتی ہیں۔

امریکہ میں چین کے سفیر نے ایلون مسک کی تعریف کی مگر ان کے تائیوانی ہم منصب نے کہا کہ آزادی 'برائے فروخت نہیں۔'

واضح رہے کہ تائیوان خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے تاہم چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے۔

گذشتہ ہفتے ایلون مسک نے ٹوئٹر پر ایک پول بھی کیا تھا جس میں اُنھوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے اور یوکرین کی جانب سے روس کے حق میں علاقوں سے دستبردار ہونے کے بارے میں سوالات تھے، جس پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایلون مسک نے حالیہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ان کی برقی گاڑی ٹیسلا نے چین میں فروخت کا نیا ماہانہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔

اُنھوں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ساتھ جمعے کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں اُنھوں نے دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ چین اور تائیوان کے درمیان تناؤ پر بھی بات کی۔

ایلون مسک نے کہا: 'تائیوان کو معقول حد تک قابلِ قبول ایک خصوصی انتظامی علاقہ بنانے کی میری تجویز سے شاید سب لوگ خوش نہیں ہوں گے۔ اور یہ ممکن ہے، میرا خیال ہے کہ واقعتاً ایک ایسا انتظام طے پایا جا سکتا ہے جو ہانگ کانگ سے زیادہ نرم ہو۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سنیچر کو امریکہ میں چین کے سفیر چِن گینگ نے ایلون مسک کے بیان کا خیر مقدم کیا۔ اُنھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'پرامن انضمام' اور ہانگ کانگ میں نافذ 'ایک ملک، دو نظام' کا ماڈل دونوں ہی 'تائیوان کے مسئلے کے حل کے لیے' چین کے 'بنیادی اصول' ہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ 'اگر چین کی خود مختاری، سلامتی اور ترقی کا تحفظ ہوتا رہے تو انضمام کے بعد تائیوان کو خصوصی انتظامی علاقے کے طور پر پہلے سے زیادہ خود مختاری اور ترقی کے لیے وسیع تر گنجائش دستیاب ہو گی۔'

اس کے جواب میں واشنگٹن میں تائیوان کی ڈی فیکٹو سفیر ہسیاؤ بی کھیم نے ٹوئٹر پر کہا: 'تائیوان کئی چیزیں فروخت کرتا ہے مگر ہماری آزادی اور جمہوریت برائے فروخت نہیں ہے۔'

اُنھوں نے مزید کہا کہ 'ہمارے مستقبل کے لیے کسی بھی پائیدار منصوبے کا تعین پرامن طور پر ہونا چاہیے، جس میں جبر شامل نہ ہو اور تائیوان کے لوگوں کی جمہوری امنگوں کے احترام پر مبنی ہو۔'

ولسن سینٹر میں ڈائریکٹر برائے جیواکنامکس اور انڈوپیسفک امور شیہوکو گوتو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کی تجاویز سے ان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

'یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایلون مسک مبینہ طور پر ٹوئٹر خریدنے کے قریب ہیں۔ ظاہر ہے کہ ٹوئٹر پر چین میں پابندی ہے کیونکہ وہاں آزادی اظہار نہیں ہے۔'

'تو اگر وہ ٹوئٹر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو ان کی کمپنی ممکنہ طور پر ایسے تائیوان میں کام نہیں کر سکے گی جو چین کے دباؤ میں ہو۔ یہ ایلون مسک کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔'

چین تائیوان کو ایسا باغی صوبہ سمجھتا ہے جسے ایک نہ ایک دن چین میں شامل ہونا ہے۔

اتوار کو چائنہ پیسنجر کار ایسوسی ایشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں ٹیسلا نے چین میں 83 ہزار 135 برقی گاڑیاں فروخت کیں۔

اس طرح کمپنی نے جون میں قائم کردہ اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ شنگھائی میں ٹیسلا کے کارخانے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔