مسلمان اور ہندو دوست کی جوڑی جنھوں نے لیسٹر ہنگاموں کے دوران یکجہتی کا پیغام دیا

- مصنف, جیریمی بال
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
امام نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے اپنے بچپن کے ہندو دوست کے ساتھ مل کر لیسٹر میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کے دوران صورتحال کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔
کشیدگی میں بنیادی طور پر دو کمیونٹیز کے نوجوان شامل تھے، جو سنیچر 17 ستمبر کو بدامنی میں بدل گئی۔
اس دوران دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر بوتلیں پھینکیں۔ ایسا ہی کچھ ہندو مندر کے باہر بھی دیکھنے میں آیا جہاں امام احمد اور اجے ناگلا نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
یہ دونوں شہر کے ہائی فیلڈز علاقے میں ایک ہی سڑک پر پلے بڑھے تھے۔
امام نے بتایا کہ وہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنے کے لیے بیلگریو روڈ پر گئے تھے۔
انھوں نے بتایا ’زیادہ سے زیادہ مسلم نوجوان وہاں پہنچے تھے اور صورتحال مزید کشیدہ ہونے لگی تھی۔‘
’ایک شخص میرے پاس آیا، وہ مسلمان تھا، اس نے کہا ’میرے خیال میں کچھ لوگ جھنڈے کو جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’چنانچہ میں اس جگہ گیا اور انھیں روکا۔ میں نے کہا، ’دیکھو، تم جو کچھ کر رہے ہو وہ غیر اسلامی ہے، یہ غلط ہے‘ اور میں نے قرآن کی اس آیت کا ذکر کیا جو عبادت گاہوں کے تحفظ کی تلقین کرتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امام نے تناؤ میں ملوث افراد کو ’بے وقوف‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا۔
ناگلا بتاتے ہیں کہ ’ہجوم میں سے چند ایک ایسے تھے جو جھنڈوں کو ہٹا رہے تھے اور ان میں سے ایک کو آگ لگ گئی۔‘
’یہ وہ جگہ ہے جہاں احمد صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے جا کر اپنے ہاتھوں میں جھنڈا لیا مگر صورتحال کچھ اور کشیدہ ہو گئی۔‘

ناگلا نے بتایا کہ کشیدگی کے دوران انھوں نے لوگوں کو ان کی گاڑیوں اور گھروں تک پہنچنے میں مدد بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ ’ریستوران کے مالکان نے ان میں سے کچھ کو سٹورز میں بند کر دیا تھا کیونکہ انھیں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ میں نے امام کے ساتھ مل کر مالکان کو یقین دلایا کہ ہم سب کو ان کی گاڑیوں تک بحفاظت پہنچانے میں مدد کریں گے۔‘
انھوں نے کہا، اس میں تین ماہ کے بچے کے ساتھ ایک ماں بھی شامل تھی جسے ’چل کر گھر جاتے ڈر لگ رہا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس بدامنی کے دوران 16 افسران اور ایک پولیس کتا زخمی ہوئے، عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے کہا کہ فورس کو ’جارحیت‘ کا سامنا کرنا پڑا جو ایسٹ لیسٹر کے علاقے میں ایک احتجاج کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔

اتوار 18 ستمبر کو ایک اور احتجاج میں تقریباً 100 افراد شامل تھے۔
اس دوران تقریباً 50 گرفتاریاں ہوئیں، 158 پر مقدمات درج کیے گئے اور نو افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔
لیسٹر کے میئر نے آن لائن ڈس انفارمیشن کو کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں ایک شخص (جو پہلے ہی اس کشیگی پھیلانے کی سزا بھگت چکا ہے) نے تسلیم کیا کہ اس کی سوچ پر سوشل میڈیا نے اثر ڈالا۔
رات کو اپنے دوست کو وہاں دیکھنے کے متعلق امام احمد نے کہا: ’مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ اس نے یکجہتی کا پیغام دیا۔‘
ناگلا نے مزید کہا ’ہم لیسٹر میں چار دہائیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم کسی کو امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔‘

























