برطانوی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کی تجویز فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار

،تصویر کا ذریعہPA Media
- مصنف, یولاندے نیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، یروشلم
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 2 منٹ
فلسطینیوں نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل میں قائم اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی تجویز کو 'بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم لِز ٹرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یائر لاپید کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران اس نظرِ ثانی سے آگاہ کیا۔
ایسا کوئی بھی اقدام انتہائی متنازع ہو گا۔ سنہ 2018 میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی پر بھی عرب دنیا میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا۔
یائر لاپید نے بھی ایک ٹویٹ میں ’مثبت غور‘ کے لیے لِز ٹرس کا شکریہ ادا کیا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں ملاقات کے بعد اُنھوں نے لِز ٹرس کو اپنی ’اچھی دوست‘ قرار دیا۔
برطانوی وزیر اعظم نے یہ تو نہیں بتایا کہ منتقلی کب ہو گی مگر اس نظرِثانی کی تصدیق کی ہے۔
برطانوی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کے متوقع نتائج پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ لِز ٹرس اس معاملے کی حساسیت سے خبردار اور اسرائیل میں برطانوی سفارت خانے کے محلِ وقوع کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل نے سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مقبوضہ غربِ اردن، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان علاقوں کو تب سے اب تک عالمی طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقے تصور کیا جاتا ہے۔
ٹوئٹر پر برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملط نے کہا کہ یہ ’انتہائی افسوس ناک‘ ہے کہ لِز ٹرس نے اقوامِ متحدہ میں بطور وزیرِ اعظم اپنے پہلے دورے کو ’عالمی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی کا وعدہ‘ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سفارت خانے کی منتقلی ’برطانیہ کی تاریخی ذمہ داریوں‘ کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہو گی جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل خطرے میں پڑ جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ایسا وعدہ غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ‘ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اب تک دیگر زیادہ تر ممالک کی طرح برطانیہ نے بھی اپنا سفارت خانہ متنازع یروشلم کے بجائے تل ابیب میں رکھا ہے۔ برطانیہ کا موقف رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حتمی امن معاہدے کے بعد ہی سفارت خانہ اس مقدس شہر میں منتقل کرے گا۔
برطانیہ کا مشرقی یروشلم میں قونصل خانہ ہے۔
لِز ٹرس نے مبینہ طور پر کنزرویٹو پارٹی کی قائدانہ مہم بھی میں سفارت خانے کی منتقلی کا تصور پیش کیا تھا۔
جب سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کا وعدہ پورا کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا تو اس معاملے پر عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی تھی۔ اس کی وجہ سے پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں درجنوں فلسطینی افراد کو اسرائیلی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔
اس وقت برطانوی وزیرِ اعظم ٹیریزا مے نے امریکی اقدامات کی مخالفت کی تھی۔
تب سے اب تک صرف تین ممالک ہونڈوراس، گوئٹے مالا اور کوسووو نے امریکی تقلید کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں دو ریاستی حل کے لیے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاہم اُنھوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا ہے۔


























