وہ چینی جوڑا جس نے بحرالکاہل کے جزائر میں ’مِنی سٹیٹ‘ بنانے کی کوشش کی

    • مصنف, فرانسس ماؤ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ایک چینی جوڑے نے بحرالکاہل میں واقع مارشل جزائر میں ایک چھوٹی سی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرنے کی غرض سے ممبران پارلیمان اور حکام کو خطیر رقوم بطور رشوت دیں۔

اس چینی جوڑے نے قانون سازوں کو ایک دور دراز جزیرے کی قانونی حیثیت کو تبدیل کر کے اسے ایک ’نیم خود مختار خطے‘ میں بدلنے کے لیے راضی کرنے کی کوششیں کیں۔

یہ جزائر سنہ 1979 تک امریکہ کے زیر انتظام تھے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات کے باوجود مارشل جزائر کی حکومت نے ابھی تک ان الزامات کی مکمل تحقیق نہیں کی ہے۔

لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چینی جوڑے، کیری یان اور جینا ژاؤ، نے جزیرے پر بسنے والی قوم کی خودمختاری کو مجروح کیا ہے۔

امریکی استغاثہ نے کہا ہے کہ یہ چینی جوڑے کی کوششوں سے ہی ممکن ہو پایا تھا کہ مارشل آئی لینڈز کی پارلیمنٹ میں سنہ 2018 اور سنہ 2020 میں نیم خودمختار علاقے کی تخلیق کی حمایت کرنے والے بلوں پر بحث ہوئی تھی۔

استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ مارشل آئی لینڈ کے متعدد قانون سازوں نے اس کام کے عوض سات ہزار امریکی ڈالر سے لے کر 22,000 امریکی ڈالر تک رشوت لی۔ اس کیس کی چارج شیٹ میں اِن قانون سازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

اس جوڑے کو سنہ 2020 میں تھائی لینڈ میں گرفتار کیا گیا تھا اور گذشتہ ہفتے انھیں نیویارک میں حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اٹارنی دامیان ولیمز کا کہنا ہے کہ یان اور زوؤ نے رشوت دی جو کہ جمہوریہ مارشل جزائر اور اس کی مقننہ کی خودمختاری کی کھلی تضحیک ہے۔

مارشل آئی لینڈز جزیروں کا ایک سلسلہ ہے جو کہ ہوائی اور آسٹریلیا کے درمیان موجود ہے۔ چار دہائیوں تک امریکی انتظامیہ کے ماتحت رہنے کے بعد سنہ 1979 میں ان جزیروں نے امریکہ سے آزادی حاصل کی تھی۔

تاہم آزادی حاصل کرنے کے باوجود یہ جزائر بحرالکاہل میں امریکہ کے لیے ایک اہم سٹریٹیجک اڈے کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ان جزائر میں امریکہ کا مقامی حکومت کے ساتھ سکیورٹی اتحاد ہے لیکن یہاں چین بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ مبینہ سازش کیسے بے نقاب ہوئی؟

امریکی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ یہ چینی جوڑا نیویارک میں قائم ایک این جی اور چلاتے تھے اور اُسی کے ذریعے وہ مارشل آئی لینڈز کے حکام اور قانون سازوں سے رابطے میں تھے اور ادائیگیاں کرتے تھے۔

سنہ 2016 کی شروعات میں انھوں نے ان جزائر کے نمائندوں سے رونگیلپ جزیرے کو خود مختار خطے میں بدلنے کے لیے رابطہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ رونگیلپ وہ جگہ ہے جسے سنہ 1950 کے عشرے میں امریکہ نے ہائیڈروجن بم کے ٹیسٹ کے بعد خالی کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس جوڑے کی کوششوں کا مقصد مارشل جزائر میں رائج قوانین کو بڑے پیمانے پر بدلنا تھا جیسا کہ ٹیکسوں میں چھوٹ اور امیگریشن میں آسانی تاکہ سرمایہ کاروں کو ان جزائر کی جانب راغب کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس جوڑے نے جزائر سے تعلق رکھنے والے کم ازکم چھ عہدیداروں اور قانون دانوں کے نیویارک اور ہانگ کانگ میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، اس کی فلائٹس کے کرائے ادا کیے تاکہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہو سکیں جس کا مقصد نیم خود مختار خطے کے قیام کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانا تھا۔

ایک عہدیدار جس نے رشوت کے عوض یہ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی اسے اس جوڑے نے مارشل جزیروں کے لیے اپنا خصوصی معاون مقرر کیا۔

یہ جوڑا اس جزیرے کے مکینوں کے ساتھ بھی مکمل روابط میں تھا اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ گُھل مل چکا تھا۔

پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ ’سنہ 2018 میں جن قانون سازوں نے رشوت لی تھی انھوں نے اس ضمن میں پارلیمان میں ایک بل بھی متعارف کروایا۔‘

امریکی محکمہ انصاف کی فرد جرم کی شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چینی جوڑے نے بل کے لیے قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رشوت اور دیگر مراعات کی پیشکش کی۔‘

بہرحال یہ بل پارلیمان سے پاس نہیں ہو سکا۔

یہ بل اس لیے پاس نہیں ہو سکا تھا کیونکہ اس وقت کی صدر ہلدا ہین نے اس کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

صدر ہلدا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے سیاسی حریف چین کے ایما پر کام کر رہے ہیں تاکہ جزائر کی حکومت کے اندر ایک علیحدہ ریاست قائم کر سکیں۔

تاہم سنہ 2019 میں جزائر میں ہونے والے عام انتخابات میں صدر ہلدا کو شکست ہوئی اور نئی پارلیمان کے قیام کے بعد سنہ 2020 میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے تحت نیم خودمختار علاقے کے خیال کی توثیق کی گئی، تاکہ اس ضمن میں لائے جانے والے بل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

بہرحال اُسی سال کے آخر میں یان اور زاؤ کو تھائی لینڈ میں گرفتار کر لیا گیا۔

امریکہ میں اُن پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور رشوت دینے جیسے الزامات کے تحت مقدمات درج ہوئے۔

گذشتہ پیر کو سابق صدر مس ہلدا نے یہ مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ اپنی آواز شامل کی کہ مارشل آئی لینڈ کی موجود حکومت اس معاملے کو دیکھے اور اسے حل کرے۔