میک ردرفورڈ: 17 سالہ پائلٹ چھوٹے طیارے پر دنیا کے گرد چکر لگانے والے سب سے کم عمر مرد بن گئے

نوجوان پائلٹ، میک

،تصویر کا ذریعہREUTERS/STOYAN NENOV

،تصویر کا کیپشنمیک ردرفورڈ کا کہنا ہے کہ وہ تین سال کی عمر سے پائلٹ بننا چاہتے تھے
    • مصنف, ایڈم ڈربن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

ایک نوجوان پائلٹ اپنے چھوٹے طیارے پر دنیا کے گرد تنہا چکر لگانے والا دنیا کا سب سے کم عمر شخص بن گیا ہے۔

17 سالہ میک ردرفورڈ نے پانچ ماہ میں 52 ملکوں کا دورہ کیا اور بلغاریہ میں لینڈنگ کی۔ ان کے والدین برطانوی شہری ہیں مگر ان کی پرورش بیلجیئم میں ہوئی ہے۔

اپنے اس سفر کے دوران میک نے سوڈان میں ریتیلے طوفان کا مقابلہ کیا اور مکمل ویران بحر الکاہل کے ایک جزیرے کے رن وے پر رات گزاری۔

ان کی بڑی بہن زارا دنیا کے گرد چکر لگانے والی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔ انھوں نے رواں سال جنوری میں اپنا سفر مکمل کیا۔ زارا نے بتایا کہ انھوں نے میک کو سفر کے لیے مشورے دیے تھے۔ جب میک اپنے سفر سے واپس آئے تو زارا ان کے استقبال کے لیے بلغاریہ کے شہر صوفیہ گئیں۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ برطانوی پائلٹ ٹریوس لڈلو کے پاس تھا۔ وہ 18 سال اور 150 دن کے تھے جب انھوں نے گذشتہ سال اپنا یہ سفر مکمل کیا۔

مگر اب سب سے کم عمری میں دنیا کے گرد چکر لگانے والے میک نے سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگیں، چاہے آپ کی عمر کچھ بھی ہو۔‘

’سخت محنت کریں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھتے رہیں۔‘

اس سفر میں وہ یورپ، ایشیا، افریقہ، امریکہ اور دو سمندروں کے اوپر سے گزرے۔ انھوں نے بیچ میں برطانیہ میں ٹچ ڈاؤن کیا اور سکاٹ لینڈ کے وِک نامی مقام پر لینڈنگ کی۔ انھوں نے رواں ہفتے لندن کے بگن ہل ایئرپورٹ سے اُڑان بھری تھی۔

نوجوان پائلٹ، میک

،تصویر کا ذریعہREUTERS/STOYAN NENOV

میک کا تعلق پائلٹس کے خاندان سے ہے اور انھوں نے 23 مارچ کو بلغاریہ کے دارالحکومت سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے دبئی کی شدید گرمی سے لے کر انڈیا میں ہوائی اڈروں کی غیر متوقع بندشوں کا سامنا کیا۔

نوجوان پائلٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے بحر الکاہل کے ایک ویران جزیرے کے رن وے پر تنہا رات گزاری۔ اس سے قبل انھوں نے بارش اور نچلی سطح پر بادلوں سے گزرتے ہوئے مشکل سفر طے کیا تھا۔

انھوں نے سی این این کو دوران سفر انٹرویو بھی دیا جس میں انھوں نے بتایا کہ انھیں کینیا کے نیشنل وائلڈ لائف پارکس اور نیو یارک سٹی کی سکائی لائن دیکھنے کا موقع ملا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب بھی ’کچھ دیکھنے کے لیے ہوتا ہے‘ تو وہ کم بلندی پر اپنی پرواز باآسانی جاری رکھ پاتے تھے۔ اس سفر کے دوران انھیں لگاتار 11 گھنٹے تک بھی پرواز جاری رکھنا پڑتی تھی۔

جب ان سے ان کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’میں اُڑتا رہوں گا۔ میں ایئرفورس کے بارے میں سوچ رہا ہوں لیکن میں کسی بھی معاملے میں 100 فیصد مطمئن نہیں۔‘

نوجوان پائلٹ، میک

،تصویر کا ذریعہREUTERS/STOYAN NENOV

’یہ ختم کرنے کے بعد میں سکول میں دھیان دوں گا اور جہاں تک ممکن ہوا اپنی تیاری مکمل کروں گا۔‘

اپنی کوششوں میں انھوں نے گنیز کے دو ورلڈ ریکارڈ توڑے ہیں۔ وہ اکیلے دنیا کے گرد چکر لگانے والے سب سے کم عمر شخص بن گئے ہیں۔ جبکہ وہ اس دوران مائیکرو لائٹ جہاز استعمال کرنے والے سب سے نوجوان شخص ہیں۔

میک نے اپنا سفر شارک پر طے کیا جو اچھی پرفارمنس دینے والا الٹرا لائٹ ایئر کرافٹ ہے۔ یہ 300 کلومیٹر فی گھنٹے کی تیز رفتار پر بھی اُڑ سکتا ہے۔

ان کی بہن زارا ان سے ’مسلسل‘ رابطے میں رہیں اور فضا میں اپنے بھائی کی معاونت کرتی رہیں۔ ان کے مطابق ’ہمارے والدین انھیں روز فون کرتے تھے۔ اور میں اس گفتگو میں شریک ہوتی تھی۔‘

’میں نے انھیں راستے اور پرواز پر مشورے دیے تاکہ میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوسکوں۔‘

میک نے پہلے کہا تھا کہ وہ تین سال کی عمر سے پائلٹ بننا چاہتے تھے اور انھوں نے ستمبر 2020 کو 15 سال کی عمر میں لائسنس کی اہلیت حاصل کی۔

ان کے والد سیم ردرفورڈ پیشہ ورانہ فیری پائلٹ ہیں اور ان کی والدہ بیاٹرس پرائیوٹ پائلٹ ہیں۔

میک اپنی ویب سائٹ پر بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان میں ہوائی سفر کا شوق پانچ نسلوں پرانا ہے۔ ان کی ’پردادی کی والدہ ہوابازی سیکھنے والی جنوبی افریقہ کی پہلی خاتون تھیں۔‘

میک کے پاس برطانیہ اور بیلجیئم دونوں کی شہریت ہے اور انھوں نے زیادہ تر زندگی بیلجیئم میں گزاری ہے۔

فی الحال وہ ڈورسٹ کے ایک نجی سکول میں زیر تعلیم ہیں جس کی ویب سائٹ ان کے سفر کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ بتا رہی تھی۔

اس میں میک کا ذاتی بیان بھی شامل کیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’بڑے کام کرنے کے لیے آپ کا بڑا ہونا ضروری نہیں۔‘