لی جے یونگ: سام سنگ کے ’ولی عہد‘ جنھیں جنوبی کوریا میں صدر کو رشوت دینے کے باوجود صدارتی معافی ملی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرانسز ماؤ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
معروف ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کے وائس چیئرمین یا جانشین لی جے یونگ کے خلاف 2017 میں رشوت اور غبن کے الزامات ثابت ہوئےمگر انھیں صدراتی معافی دی گئی ہے۔
لی جے یونگ کو جنوبی کوریا کے سب سے بڑے ’وائٹ کرمنلز‘ میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ سابق صدر کو رشوت دینے پر انھیں دو بار قید کی سزا دی جا چکی ہے۔
مگر جنوبی کوریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے بعد معاشی بحالی کے لیے ملک کی سب سے بڑی کمپنی کو ان کی ضرورت ہے۔
چھ برس قبل اس تنازع کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور ایک صدر کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
لی جے یونگ کا جرم بھی اس کرپشن سکینڈل سے جڑا ہے جس کی وجہ سے سابق صدر پارک گیئون ہائے کو سزا سنائی گئی تھی۔ وہ 2013 سے 2017 تک جنوبی کوریا کی صدر تھیں۔
مظاہرین لی جے یونگ کو ’سام سنگ کا ولی عہد‘ کہتے رہے۔ انھوں نے صدر پارک اور ان کے ساتھیوں کو 80 لاکھ ڈالر بطور رشوت دی تاکہ شیئر ہولڈرز کی مخالفت کے باوجود کمپنیوں کو ضم کرنے کی حمایت حاصل کی جاسکے۔ اس سے خاندانی کاروبار میں ان کا کنٹرول بڑھ گیا۔
جب یہ انکشاف ہوا تو لاکھوں کورین شہری 2016 اور 2017 کی سردیوں میں مظاہرے رہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صدر پارک کی حکومت ختم کی جائے اور سیاست و کاروبار کے تعلق کو توڑا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوریا کی پارلیمان نے صدر پارک کا مواخدہ منظور کیا اور انھیں 2017 میں 25 سال قید کی سزا دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لی جے یونگ، جنھیں مغرب میں جے وائے لی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انھیں ایک سال بعد کمپنی کے پیسوں میں غبن کے الزام میں قید ہوئی۔ انھوں نے صدر کی دوست کی بیٹی کو آٹھ لاکھ ڈالر کا ایک گھوڑا تحفے میں دیا تھا۔
اس کے بعد ایک نئے صدر مون جے ان کو منصب سنبھالنے پر ان معاملات کو نمٹانے کا کام ملا۔ مگر وہ زیادہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بطور صدر اپنے آخری دنوں میں انھوں نے اپنی پیشرو کو صدارتی معافی دی۔
اب آٹھ سال بعد ایک نئے صدر کی جانب سے سام سنگ کے چیف پر بھی ویسا ہی رحم کیا جا رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف سرگرم لوگوں کے لیے یہ بڑا دھچکا تھا۔
سیول نیشنل یونیورسٹی میں اکنامکس اور انڈسٹریل پالیسی کے پروفیسر سنگن پارک کا کہنا ہے کہ ’یہ بڑی ناکامی ہے۔ اس کا مطلب کوریا مظاہروں سے پہلے کے وقت میں دوبارہ داخل ہوگیا ہے۔‘
سام سنگ کا بڑا اثر و رسوخ
لی جے یونگ کے کیس سے اس تصور کو تقویت ملی کہ بڑی کاروباری شخصیات ’مقدس گائے‘ ہیں اور قانون ان پر لاگو نہیں ہوتا۔
کوریا میں بڑی کمپنیاں معیشت پر غلبہ رکھتی ہیں۔ 10 سب سے بڑی کمپنیاں جی ڈی پی میں قریب 80 فیصد کی حصہ دار ہیں۔
کورین زبان میں ’چبول‘ یعنی خاندانی کاروبار ہر شعبے میں موجود ہیں۔ ایل جی، ہنڈائی، لوتے اور ایس کے ان میں سے چند نام ہیں۔
مگر سام سنگ ان میں سے سب سے بڑی اور طاقتور کمپنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سام سنگ سمارٹ فونز بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ یہ الیکٹرانکس کا ایک عالمی شہرت یافتہ نام ہے۔ مگر کوریا میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ یہ کمپنی ہسپتالوں، ہوٹلوں، انشورنس، بل بورڈ، شپ یارڈ اور حتی کہ تفریحی پارکس، ہر شعبے میں موجود ہے۔
سام سنگ اور دیگر چبول کمپنیاں کوریا میں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں پولیٹیکل سوشیالوجی کی پوفیسر یون کونگ لی کے مطابق یہ کسی ’آکٹوپس‘ کی طرح ہیں۔ اس کے لمبے ہاتھ کورین سیاست کی جڑوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔
پروفیسر لی 2016 کے مظاہروں میں موجود تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ زیادہ غصہ صدر پارک کے ذاتی اقدامات پر ظاہر کیا جا رہا تھا۔ مگر بعض لیبر کارکنان اور دیگر حلقوں نے اس بات کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ چبول کمپنیوں کا حکومت پر اثر و رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
کورین جنگ کے بعد یہی کمپنیاں حکومت کا سہارا بنی تھیں۔ انھیں سستی بجلی اور ٹیکس مراعات دی گئیں۔ اس دوران کورین مصنوعات خریدنے کی پالیسی اپنائی گئی اور ان کمپنیوں کے خلاف یونین سازی کو بھی روکا گیا۔
مگر اس اجارہ داری نے مقابلے کے عمل کو بُری طرح متاثر کیا اور اس سے مزدوری کی تحریک نہ چل سکی۔ کئی دہائیوں کے دوران ان کمپنیوں پر رشوت دینے اور کرپشن کے کیسز بنتے چلے گئے۔
پروفیسر لی کا کہنا ہے کہ اکثر کیسز میں ان کمپنیوں کے ساتھ نرمی برتی گئی یا ان کی سزائیں معطل ہوگئیں۔ بعض کیسز میں جج صاحبان نے کہا کہ اگر چبول کمپنی کے سربراہ کے خلاف کارروائی کی گئی تو معیشت متاثر ہوگی۔
مسٹر لی کے اپنے والد لی کون ہی کے خلاف 90 کی دہائی میں رشوت اور فراڈ کا الزام ثابت ہوا۔ وہ اس وقت سام سنگ کے چیئرمین تھے۔ مگر انھوں نے ایک دن بھی جیل میں نہ گزارا۔
سنہ 2017 میں جب ان کے بیٹے کو پانچ سال قید کی سزا ہوئی تو سماجی کارکنوں کا خیال تھا کہ اس سے روایت بدل جائے گی۔
جیل جاتے ہی رہائی
مگر یہ جشن کچھ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ لی نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا اور اس دوران کسی کورین ڈرامے جیسی کہانی سننے کو ملی۔
اپیلز کورٹ نے انھیں رہا کر دیا، پھر ایک بڑی عادلت نے ان کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا جس میں ان پر جرم ثابت ہوا اور انھیں جیل بھیج دیا گیا۔
کچھ ماہ بعد مون حکومت نے انھیں ضمانت پر یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ اس میں قومی مفاد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد وہ سام سنگ کا عوامی چہرہ بن کر ابھرے۔ مئی میں ان کی ملاقات امریکی صدر جو بائیڈن سے ہوئی جو جنوبی کوریا کا تجارتی دورے کر رہے تھے۔
لی کو کئی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، جیسے کمپنی کی مالیت میں ہیر پھیر، اکاؤنٹنگ فراڈ اور سزا کی شرائط کے خلاف سام سنگ کے کاروباری فیصلے لینا۔ اب سزا کی معطلی کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوبارہ کمپنی میں اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ ایسی روایت کے مطابق ہے جس میں ایسی کمپنیوں کے سربراہ سزائیں پانے کے بعد بری ہوجاتے ہیں۔
پروفیسر لی کے مطابق ’جب بات رسمی طاقت کی آتی ہے تو صدر کا دفتر اور قومی اسمبلی قانون سازی کرتے ہیں۔‘
’مگر جب بات سیاسی یا ثقافتی اثر و رسوخ کی ہو یا یہ کہ چبول کی اہمیت کے بارے میں کورین معاشرہ کیا سوچتا ہے تو اسے روایتی سیاستدان اور کاروباری شخصیات کا اتحاد طے کرتا ہے جس میں ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔‘
ملا جلا ردعمل
لی کو ملنے والی حکومتی معافی اس بات پر منحصر ہے کہ معیشت کے لیے چبول کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ مگر کئی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں۔
پروفیسر پارک کے مطابق ’چبول کنٹرولرز کے ساتھ نرمی برتنے سے معاشی پیداوار نہیں بڑھی مگر تاریخی اعتبار سے اس کا الٹ ہوا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لی کے جیل میں ہونے یا نہ ہونے کے دوران سام سنگ کو فرق نہیں پڑا۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا میں کئی برسوں کے دوران پیداور سست رہی ہے مگر اسے چبول کاروباروں پر اپنا انحصار کم کرنا ہوگا۔
سماجی اصلاحات کے وکیل رو جونگ ہوئی کا کہنا ہے کہ ’کئی تحقیقات میں پتا چلتا ہے کہ وسائل کی منتقلی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس پرانے تصور سے ہٹنے کی ضرورت ہے کہ چبول کو غیر قانونی کام کرنے پر معاف کیا جاسکتا ہے اگر وہ اپنی پیداوار جاری رکھیں۔‘
مگر جنوبی کوریا کے عوام لی کو ملنے والی معافی پر اتنے ناراض نہیں۔ سرکاری سروے سے پتا چلتا ہے کہ 70 فیصد لوگوں نے اس کی حمایت کی۔
ماہرین کے مطابق لوگ اب بھی کرپشن کے خلاف کارروائی اور چبول کا اثر و رسوخ کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر حالیہ معاشی بحران میں خوف اور تشویش بڑھ رہی ہے۔ اور اس بات پر بھی فخر کیا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر سام سنگ کوریا کی نمائندگی کرتا ہے۔
پروفیسر لی کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر سام سنگ ترقی کرتا ہے تو کوریا ترقی کرے گا۔ کورین شہریوں نے کئی دہائیاں اس غلط تصور کے ساتھ گزاری ہیں۔ عام لوگوں کے لیے اس سے نکلنا خاصا مشکل ہے۔‘
’معاشی بحران کے دوران لوگ ایسی ٹھوس چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم آگے جا رہے ہیں۔ لی کی رہائی ایسی ہی ایک علامت ہے۔‘
بی بی سی کورین سروس کی یونا کو کی اضافی رپورٹنگ


























