دل کی چوٹ جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف دہ کیوں ہے؟

منفی رویے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سارہ گرفتھس
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر
  • وقت اشاعت

بچپن میں ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ لاٹھی اور پتھر ہڈیاں توڑ سکتے ہیں لیکن الفاظ کبھی زخمی نہیں کر سکتے۔ زندگی کے تجربات بالغ لوگوں کو باور کراتے ہیں کہ یہ محاورہ درست نہیں ہے۔

اگرچہ جسمانی چوٹوں کو ٹھیک ہونے میں ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے، منفی تنقید اور طنزیہ جملے ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔

خواہ یہ تنقید سکول میں استاد کی طرف سے کی گئی ہو، یا کسی دوست یا عاشق کے ساتھ بحث کی گرما گرمی میں بولا گیا کوئی تکلیف دہ جملہ ہو، ہم تنقید کو مثبت تبصروں سے کہیں زیادہ دیر تک یاد رکھتے ہیں، اس رجحان کی وجہ ’منفی تعصب‘ ہے۔

درحقیقت اس ’منفی تعصب‘ کے ذریعے کئی پیچیدہ اثرات کی وضاحت کی جا سکتی ہے، جو منفی جذبات کے ہم پر مثبت اثرات سے زیادہ مضبوطی سے اثر کرتے ہیں۔

کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے سماجی ماہر نفسیات اور ’دی پاور آف بیڈ‘ کے شریک مصنف، رائے بومیسٹر کے مطابق، یہ رجحان ہمیں خطرات پر خصوصی توجہ دینے اور خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا باعث بنتا ہے۔

بومیسٹر کہتے ہیں کہ بمارے ایسے آباؤ اجداد جن کے پاس یہ (منفی) تعصب تھا ان کے زندہ رہنے کا امکان دوسروں سے زیادہ تھا۔

انسان خطرات کو پھانپنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ایک آٹھ ماہ کا بچہ بے ضررر مینڈک کی تصویر دیکھنے کے بجائے سانپ کی تصویر کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ پانچ برس کی عمر تک پہنچے سے پہلے ہی بچے ناراض یا خوفناک چہروں کو خوش چہرے پر ترجیح دینا سیکھ چکے ہوتے ہیں۔

بومیسٹر کا کہنا ہے کہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ایک اچھی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ’پہلے منفی چیزوں سے چھٹکارا حاصل کریں اور مسائل کو حل کریں، بنیادی طور پر، خون بہنے سے روکیں۔‘

منفی تعصب شاید انسان کو محفوظ بنانے میں تو مددگار ہو سکتا ہے لیکن روز مرہ کی زندگی میں منفی تعصب فائدہ مند نہیں ہوتا۔

بومیسٹر کا خیال ہے کہ جب تک ہم یہ نہیں سیکھتے کہ منفی تعصب کے ’غیر متناسب‘ اثرات کو کس طرح ختم کرنا ہے، یہ رجحان دنیا کے بارے میں ہمارے نظریے کو بگاڑ دیتا ہے۔

زندگی کے تاریک پہلوؤں پر زیادہ توجہ ایک پریشان کن امر ہو سکتی ہے لیکن اسی رجحان نے انسانوں کو قدرتی آفات سے لے کر وباؤں اور جنگوں تک ہر چیز پر قابو پانے میں مدد کی ہے تاکہ ان سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں، حالانکہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ دباؤ کی صورت میں پرامیدی کا رجحان مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

انسانی دماغ کا ارتقا جسم کی حفاظت اور اسے زندہ رکھنے کے اصول پر ہوا ہے۔ دماغ نے نت نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے سہ درجہ انتباہی نظام ترتیب دے رکھا ہے۔

اول، قدیم بیسل گینگلیا نظام ہے جو ہماری لڑائی یا اس سے بھاگنے کے ردعمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ لمبک ایسا نظام ہے جو خطرات کو بھانپنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے خطرات کے ردعمل میں جذبات کو متحرک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پری فرنٹل کورٹیکس نظام ہے جو مشکل صورتحال میں ہمیں منطقی انداز میں سوچنے کے قابل بناتا ہے۔

مثال کے طور پر اخبار کے صفحات میں زندگی اداس نظر آتی ہے۔ صحافیوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ صرف بری خبروں کا پیچھا کرتے ہیں کیونکہ وہ بکتی ہیں اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔

یہ اندازہ کسی حد تک درست ہو سکتا ہے، اور محققین نے دکھایا ہے کہ قارئین تباہ کن کہانیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور وہ ان منفی خبروں کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ خطرات کے بارے میں افواہیں جن کا کوئی امکان نہ وہ فائدہ مند خبروں سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔

کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق میں میکگل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لوگ غیر ارادی طور پر کن خبروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں سامنے آیا کہ لوگ اکثر بدعنوانی، ناکامی اور بری خبروں کو مثبت یا غیر جانبدار کہانیوں پر ترجیح دیتے ہوئے۔

اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایسے لوگ جو حالات حاضرہ اور سیاست میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے وہ خاص طور پر بری خبروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو ان لوگوں نے کہا کہ وہ اچھی خبروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

Personal insults and negative comments

،تصویر کا ذریعہGabriel Bouys/AFP/Getty Images)

،تصویر کا کیپشنتوہین آمیز جملے اور منفی تبصرے مثبت تاثرات سے کہیں زیادہ دیر تک قائم رہتے ہیں

بومیسٹر کہتے ہیں کہ ہم خبروں میں جو کچھ پڑھتے یا دیکھتے ہیں وہ ہمارے خوف میں اضافہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کیا جاتا ہے حالانکہ امریکہ میں پچھلے 20 سالوں میں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کی تعداد اسی عرصے کے دوران اپنے باتھ ٹب میں مرنے والے امریکیوں کی تعداد سے کم ہے۔

اگرچہ ایک فرضی خطرے یا خوفناک صورتحال کے بارے میں سوچنے سے ہم خوفزدہ ہو سکتے ہیں، صرف ایک چھوٹا سا برا تجربہ ہمارے پورے دن کو خراب کر سکتا ہے۔

سینٹ لوئس میں واشنگٹن یونیورسٹی میں نفسیاتی اور دماغی علوم کے پروفیسر رینڈی لارسن نے ایسے شواہد کا جائزہ لیا جو یہ بتاتے ہیں کہ منفی جذبات زیادہ دیر تک یاد رہتے ہیں۔ انھیں معلوم ہوا کہ انسان اچھے کے مقابلے میں برے واقعات کے بارے میں سوچنے پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، شاید اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملے کہ شرمندگی کے لمحات یا تنقیدی تبصرے ہمیں سالوں تک پریشان کر سکتے ہیں۔

کسی دوست یا خاندان کے رکن کے تکلیف دہ تبصروں کو نظرانداز کرنا مشکل ہوتا ہے۔

بومسیٹر کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کے منفی تبصرے جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور ان پر بھروسہ کرتے ہیں ان کا اثر اجنبیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے کچھ خاص رویے کی توقع ہوتی ہے۔‘

بعض صورتوں میں، ایسے لوگوں کے منفی تبصرے جن سے ہم پیار کرتے ہیں، دیرپا ذہنی زخم چھوڑ جاتے ہیں جو ان رشتوں کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

امریکہ کی کینٹکی یونیورسٹی کے محققین نے پتہ چلایا ہے کہ ایسے رشتے شاذ و نادر ہی محفوظ رہ پاتے ہیں جہاں پارٹنر سے وفادار رہنے کی توقع پوری نہ ہو۔

ایک اور تحقیق، جس میں جوڑوں کو 10 سال سے زیادہ عرصے تک فالو کیا گیا، ظاہر کرتی ہے کہ شادی کے ابتدائی دو سالوں میں جس حد تک ایک دوسرے کے بارے میں منفی جذبات کا اظہار کیا گیا ہو، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسقبل میں اکٹھے رہ پائیں گے یا ان کی طلاق ہو جائے گی۔

Felix Baumgartner used visualisation techniques to help him overcome his negative thoughts during his record-breaking skydive

،تصویر کا ذریعہRed Bull/Abaca Press/Alamy

،تصویر کا کیپشنفیلکس بومگارٹنر نےسکائی ڈائیو کے دوران اپنے منفی خیالات پر قابو پانے میں مدد کرنے کے لیے تصوراتی تکنیک کا استعمال کیا

منفی تعصب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے تعلقات کی اچھائیوں کی قدر نہیں کرتے بلکہ ان میں نقائص تلاش کرنے میں زیادہ دلچپسی رکھتے ہیں جس سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

تنقید اس وقت اور تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب اس کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا منفی تعصب کا ایک گڑھ بن چکا ہے۔

بلی ایلش نے، جن کا 2019 کا البم سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم تھا، بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ وہ تبصروں کو دیکھنے سے گریز کرتی ہیں۔ ’یہ میری زندگی کو برباد کر رہا ہے۔ آپ جتنا اچھا کام کرتے ہیں تو پہلے سے زیادہ لوگ آپ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ پاگل پن ہے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔‘

پاپ اسٹار دعا لیپا اور گرلز الاؤڈ کی سابق رکن نکولا رابرٹس کا شمار بھی ان مشہور شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے ٹرولنگ کے اثرات کے بارے میں بات کی ہے۔

بومیسٹر نے متنبہ کیا ہے کہ ہم میں سوشل میڈیا ٹرولنگ سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ ہمارا دماغ سینکڑوں یا ہزاروں اجنبیوں کی بجائے اپنے قریی افراد کی وارننگ پر دھیان دینے کے لیے تیار ہوا ہے۔ ’لہذا، لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے منفی باتیں سننا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘

بلاشبہ، آن لائن ٹرول کیے جانے یا کسی دوست کی طرف سے تنقید کا اثر ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ لیکن منفی تبصرے تناؤ، اضطراب، مایوسی اور پریشانی میں اضافے کا باعث ہو سکتے ہیں۔

لندن سکول آف اکنامکس کی وزٹنگ فیلو انسانی عادات و حرکات کی سائنسدان لوسیا میکچیا کہتی ہیں: ’ان منفی جذبات سے نمٹنا ہمارے جسم پر بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے کیونکہ یہ جسمانی درد پیدا کر سکتے ہیں اور بڑھا سکتے ہیں۔‘

متعدد مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ عمر بڑھنے کے ساتھ ہی زندگی کے روشن پہلو کی طرف دیکھتے ہیں۔ سائنسدان اس اثر کو ’مثبت تعصب‘ کہتے ہیں اور ان کے خیال میں ہم ادھیڑ عمر سے منفی معلومات کے بجائے مثبت تفصیلات کو زیادہ یاد رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

بومیسٹر کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی کم عمری میں ناکامیوں اور تنقید سے سیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن عمر کے ساتھ ساتھ اس کی ضرورت کم ہوتی جاتی ہے۔

انسانی عادات و حرکات کی سائنسدان لوسیا میکچیا کے مطابق ایک اور کارآمد حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ منفی تبصرے اس شخص کی ذہنی حالت کی عکاسی کر رہے ہیں جو یہ تبصرے کر رہا ہے۔

Felix Baumgartner used visualisation techniques to help him overcome his negative thoughts during his record-breaking skydive (Credit: Red Bull/Abaca Press/Alamy)

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنسکائی ڈائیور بومگارٹنر کو اپنے خصوصی طور پر بنائے گئے سوٹ میں پھنس جانے کا خوف رہتا تھا

تاہم، منفی تبصرے کسی بھی عمر میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں، خاص طور جب آپ نوجوان ہیں اور ناپختہ کار ہیں۔ بومیسٹر کا کہنا ہے کہ ’جب آپ پہلے ہی دباؤ میں ہوتے ہیں تو پھر واپس آنا مشکل ہوتا ہے، اور ایسے وقت میں منفی تبصرے کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

لوسیا میکچیا کا کہنا ہے کہ کیا مخصوص شخصیت کے حامل افراد دوسروں کے مقابلے میں منفی تنقید کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، یہ ایک انتہائی زیر بحث موضوع ہے، لیکن ایک حالیہ تحقیق میں کسی شخص کی شخصیت کے خصائص یا سیاسی نظریے، اور منفی تعصب کے درمیان تعلق کا ’کوئی مستقل ثبوت‘ نہیں ملا۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم سب منفی تبصروں کے لیے اس لحاظ سے حساس ہیں کہ کوئی بھی منفی تنقید کو پسند نہیں کرتا۔ البتہ اس سے نمٹنے کے لیے ایک حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ ہر کسی کو منفی تبصروں کا سامنا رہتا ہے اور یہ ہماری اپنی ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے ایک اچھی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ایک اور مفید حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ تبصرے اس شخص کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو یہ کر رہا ہے۔‘

منفی تنقید کے اثرات کو سمجھ کر ہم کسی ناپسندیدہ ردعمل کو روک سکتے ہیں بلکہ اس کے فوائد کو بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں سماجی نفسیات کی پروفیسر شیلی ٹیلر نے یہ ثابت کیا ہے کہ چھاتی کے کینسر میں مبتلا خواتین بعض اوقات غیر حقیقی طور پر ’پرامید یقین‘ پیدا کرتی ہیں تاکہ ان سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ اس ’مثبت وہم‘ کے ساتھ دماغی اور جسمانی صحت کے فواہد جڑے ہوئے ہیں۔

ٹیلر نے منفی تنقید پر سامنے آنے والے عام ردعمل پر بھی روشنی ڈالی ہے جسے منیمائزیشن یا چیزوں کو کم کر کے پیش کرنے کا عمل کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ٹیلر کی تحقیق میں کینسر کے مریض بعض اوقات اپنا موازنہ ایسی خواتین سے کرتے ہیں جنھیں ان سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا تاکہ ان کو اپنا مسئلہ چھوٹا لگے۔

فیلکس بومگارٹنر ایک پیشہ ور سکائی ڈائیور ہیں اور خطرات سے کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔ فیلکس بومگارٹنر ایک ایسے شخص ہیں جن کے بارے میں آپ تصور کر سکتے ہوں کہ انھیں خوف پر قابو پانے کے لیے منیمائزیشن تکنیک کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

لیکن اولمپیئنز کے ساتھ کام کرنے والے ماہر نفسیات مائیکل گیروائس نے ان طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے بومگارٹنر کو ساؤنڈ بیریئر توڑنے والا پہلا سکائی ڈائیور بننے کا اپنا ہدف حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ ان کے انٹرویو کے مطابق، بومگارٹنر اپنے خصوصی طور پر بنائے گئے سوٹ میں پھنس جانے کے خوف میں مبتلا تھا۔ مائیکل گیروائس نے ڈائیونگ کے لیے مخصوص سوٹ کو منفی انداز میں سوچنے کی بجائے اس کے مثبت پہلوؤں کے بارے میں بتایا کہ وہ سوٹ کیسے اسے ایک سپر ہیرو میں تبدیل کر سکتا ہے۔

سانس لینے کی تکنیکوں اور سی بی ٹی کی ایک شکل کا استعمال کرتے ہوئے، بومگارٹنر نے اپنی قوت برداشت کو بڑھا کر اپنے اہداف حاصل کیے اور اور ’بے خوف فیلکس‘ بننے کے قابل ہوا۔

ہم میں سے بہت کم لوگ بومگارٹنر کے بلند عزائم کو حاصل کرنا چاہیں گے لیکن ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ منفی رجحانات پر قابو پا کر ہم اپنے خوابوں کی تعبیر کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔