کلیننگراڈ کو جانے والی ٹرین کو روکنے پر روس کی لتھوینیا کو سنگین نتائج کی دھمکی

A Russian customs officer works at a commercial port in the Baltic Sea town of Baltiysk in the Kaliningrad region, Russia, in October 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکلیننگراڈ، کی روس کے ساتھ سرحد نہیں ملتی ہے لیکن حکمت علمی کے لحاظ سے وہ روس کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے
وقت اشاعت

لتھوینیا کی جانب سے روسی کے خطے کیلیننگراڈ کو ریل کے ذریعے ترسیل کی جانے والی بعض اشیا پر پابندی کے بعد، روس نے لتھوینیا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

روس کے سینیئر سکیورٹی اہلکار، نکولائی پتروشیف نے کہا کہ روس ’ان جارجانہ اقدامات کا ضرور جواب دے گا۔‘

لتھوینیا نے کہا ہے کہ وہ صرف ان پابندیوں پر عملدرآمد کر رہا ہے جو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی یونین نے روس پر عائد کی ہیں۔

کلیننگراڈ، روس کے بالٹک بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے اور حکمت عملی کے اعتبار سے بہت اہم ہے، لیکن اس خطے کی باقی روس کے ساتھ سرحد نہیں ملتی۔

سنہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد روس نے اس مغربی خطے کو جرمنی سے چھین کر اپنا حصہ بنا لیا تھا۔ اس کے یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ سے سرحدیں ملتی ہیں۔ اس خطے کا لتھوینیا کے راستے ریل کے ذریعے ترسیل پر بہت انحصار ہے۔

منگل کو کیلننگراڈ کے دورے میں مسٹر پتروشیف نے کہا کہ کلیننگراڈ کا راستہ بند کرنے کا عمل مغرب کے ایما کیا گیا اور یہ ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

روسی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، مسٹر پتروشیف نے خبردار کیا کہ، ’مستقبل قریب میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔‘

انھوں نے تفصیل نہ بتاتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ’ان کے نتائج کا لتھوینیا کی آبادی پر سنگین منفی اثرات پڑیں گے۔‘

کلیننگراڈ نے روسی ٹرین کیوں روکی؟

گذشتہ ہفتے لتھوینیائی حکام نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کی پابندیوں کے پیش نظر وہ ان کے ملک سے گزر کر کلیننگراڈ جانے والے بعض اشیا پر پابندی لگائیں گے۔

لتھوینیا کے وزیر خارجہ گیبریلیئس لینڈزبرجس نے کہا: ’یہ لتھوینیا نہیں جو کچھ کر رہا ہو، بلکہ یہ یورپی پابندیاں ہیں جن کا اطلاق سترہ جون سے ہوا ہے۔ یہ یورپی کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں یورپی یونین کے صلاح مشورے سے ہوا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یورپی یونین کی پاپندیوں کی فہرست میں کوئلہ، دھات، تعمیراتی مواد اور جدید ٹیکنالوجی کی اشیا شامل ہیں۔ کلیننگراڈ کے گورنر اینتن الیخانوف کا کہنا ہے کہ پابندی سے پچاس فیصد ایسی اشیا متاثر ہوں گی جو کلیننگراڈ درآمد کرتا ہے۔

نیٹو کے فوجی اتحاد کےرکن کی حیثیت سے، لتھوینیا اجتماعی دفاع کے معاہدے کا حصہ ہے۔

لائن

تجزیہ: سٹیو روزنبرگ

بی بی سی روس کے ایڈیٹر

روسی اہلکار کلیننگراڈ جانے والی اشیا پر پابندی کی وجہ سے لتھوینیا اور یورپی یونین پر سخت برہم ہیں۔ وہ اسے ’گھیراؤ‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ لیکن جب روس کی وزارت خارجہ یہ کہتی ہے کہ ’روس اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘ تو اس کا کیا مطلب ہے؟

روس کا کہنا ہے کہ وہ ان پر ابھی غور کر رہا ہے۔ پیر کو صدر ولادیمیر پیوتن کے ترجمان دمتری پیسخوف نے کہا تھا ’صورتحال واقعی بہت سنگین ہے اور اس پر کسی بھی قدم اور فیصلے سے قبل گہرے تجزیے کی ضرورت ہے۔ یہ جامع تجزیہ اگلے چند دنوں میں کیا جائے گا۔‘

منگل کے روز صدر پیوتن کے ایک قریبی ساتھی نکولائی پتروشیف ’روس کے شمال مغرب میں قومی سلامتی‘ پر بات کرنے کے لیے کلیننگراڈ پہنچے ہیں۔ مسٹر پتروشیف روس کی طاقتور سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں۔ اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ دورہ بہت پہلے سے طے شدہ تھا۔ کیا یہ اتفاق ہے۔

بات جب قومی سلامتی کی ہو تو کلیننگراڈ کا محل وقوع بہت اہم ہے۔ روس کے بالٹک خطے کے فوجی بیڑے کا ہیڈکوارٹر یہیں واقع ہے۔ اور روس نے ماضی میں یہاں جوہری ہتھیار سے لیس سکندر بیلیسٹک میزائل بھی یہاں رکھا تھا۔