خرطوم: بچے کو کچرا ٹرک کے مشینی حصے سے زندہ نکال لیا گیا

،تصویر کا ذریعہOmer Balal/Facebook
- مصنف, محند ہاشم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 2 منٹ
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ایک بچے کو آٹھ گھنٹے تک ایک ٹرک کے کچرہ کچلنے والے حصے میں پھنسے رہنے کے بعد زندہ بچا لیا گیا ہے۔
دس سالہ بچہ کچرے کے ٹرک کے اس خطرناک حصے میں پھنس گیا تھا جس میں کچرے کو کچلنے کے لیے مشین لگی ہوتی ہے۔
پولیس کے مطابق ماجد مبارک نامی یہ بچہ خرطوم شہری صفائی کے محکمے سٹیٹ کلیننگ کارپوریشن کے لیے کام کر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق بچہ ٹرک کے اندر کچرا پھینک رہا تھا جب وہ خود اس میں پھنس گیا۔ بچہ اب ہسپتال میں زیر علاج ہے لیکن پولیس نے اس کی حالت کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
امدادی کارکنوں نے پوری رات کوشش کر کے اس بچے کو ٹرک سے نکالا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس ریسکیو آپریشن کی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ٹرک کے ’ہائیڈرالک ہیچ‘ میں پھنسے بچے کی ہتھیلی نظر آ رہی تھی۔
ایک کلپ میں ایک ویلڈر کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے میں ہیچ کو کھدائی والی مشین کی مدد سے کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرک کے اردگرد لوگ جمع ہیں اور بچے کو نکالنے سے متعلق مشورے دیتے سنائی دے رے ہیں۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے سے سوڈان میں بچوں سے مزدوری کے مسئلہ اجاگر ہوتا ہے جہاں بچوں سے اکثر محنت مزدوری کروائی جاتی ہے اور بعض کو چائلڈ سولجرز کے طور پر بھی بھرتی کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوڈان کے اقتصادی صورتحال کی وجہ سے بعض بچے خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
خرطوم اور سوڈان کے دیگر بڑے شہروں میں بے گھر بچوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسیف کے مطابق سوڈان میں تقریباً 30 لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم سے محروم ہیں۔
بہت سے بچے صفائی، اینٹوں کے بھٹوں پر اور کچرہ جمع کرنے جیسی نوکریاں کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے ایک کارکن کی ٹویٹ کے مطابق خرطوم سٹیٹ کلیننگ کارپوریشن میں کام کرنے والے ایک سابق مزدور کی کام پر ایک حادثے کے بعد ٹانگ کاٹنی پڑی تھی۔ کارکن کے مطابق کارپوریشن نے اس شخص کے طبی اخراجات دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اب وہ شخص شہر کی سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکا ہے۔





















