ملکہ الزبتھ چاہتی ہیں کہ کمیلا کو کوئین کونسورٹ کا خطاب دیا جائے

،تصویر کا ذریعہChris Jackson
- مصنف, شان کوفلین
- عہدہ, شاہی نامہ نگار
- وقت اشاعت
ملکہ الزبتھ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ جب شہزادہ چارلس بادشاہ بنیں تو ڈچز آف کارن وال کمیلا کو ‘کوئین کونسورٹ‘ کے نام سے جانا جائے۔
یہ بات انھوں نے اپنے تحت سنبھالنے کی 70ویں سالگرہ کے موقعے پر ایک پیغام میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی یہ ‘مخلصانہ خواہش‘ ہے کہ کمیلا کو یہ خطاب ملے۔
ماضی میں ایسی تجاویز سامنے آئی ہیں کہ کمیلا کو اس وقت شہزادی کونسورٹ کہا جائے۔
تاہم ملکہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد اس چیز کی راہ ہموار ہوگئی ہے کہ کمیلا کو مستقبل میں ملکہ پکارا جائے۔
کلیرنس ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پرنس آف ویلز اور ڈچز آف کارن وال اس اعلان کو محبت اور اعزاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ملکہ الزبتھ کے سنہ 1952 میں برطانیہ کا تخت سنبھالنے کی سالگرہ کے موقعے پر پیغام براہِ راست ڈچز آف کارن وال کے مستقبل میں خطاب کے مسئلے کا جواب دیتا ہے۔
ملکہ نے لکھا ہے کہ ‘یہ میری مخلصانہ خواہش ہے کہ جب وقت آئے گا تو کمیلا کوئین کونسورٹ کے نام سے جانی جائے۔‘
کوئین کونسورٹ کسی برسرِاقتدار بادشاہ کی بیوی کو کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ان کا خطاب ملکہ کمیلا ہوگا۔
ملکاؤں کے شوہروں کے لیے ایک مختلف طریقہ کار رہا ہے جیسے کہ شہزادہ فلپ یا ملکہ وکٹوریہ کے شوہر شہزادہ البرٹ جو کہ پرنس کونسورٹ بنے ہیں، بجائے بادشاہ کونسورٹ کے خطاب کے۔
عام طور پر حسبِ روایت کمیلا کو خود بخود چارلس کے بادشاہ بننے پر ملکہ بن جانا چاہیے تھا مگر عوامی رائے میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ایسا نہیں کیا جائے گا۔
چارلس اور کمیلا دونوں ہی طلاق یافتہ ہیں اور سنہ 2005 میں انھوں نے ایک سول شادی کی تھی۔ چارلس کی ماضی میں شہزادی ڈیانا سے شادی ہوئی تھی مگر سنہ 1996 میں ان کی طلاق ہوگئی تھی اور ایک سال بعد شہزادی ڈیانا پیرس میں کار کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
ملکہ الزبتھ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ کمیلا کے ملکہ بننے میں اب شاید ہی کوئی رکاوٹ ہو اور وہ چارلس کے ساتھ اب ایک مکمل شاہی کردار سنبھال سکیں گی۔
ملکہ کے اس اعلان سے قبل نئے سال کے موقعے پر ملکہ الزبتھ نے کہا تھا کہ کمیلا کو آرڈر آف گارٹر کا رکن بنایا جائے گا۔
74 سالہ کمیلا اپنی دلچسپی کے مطابق متعدد سماجی معاملات کے حوالے سے کام کرتی رہی ہیں جن میں گھریلو تشدد کے متاثرین کے لیے فلاحی تنظیموں کی حمایت بھی شامل ہے۔
پبلک سروس
نورفولک میں سنرنگام اسٹیٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں ملکہ الزبتھ نے کہا ہے کہ وہ آج بھی اپنے سنہ 1947 میں کیے گئے عمر بھر پبلک سروس کرنے کے وعدے پر قائم ہیں جب انھوں نے 21 سال کی عمر میں کہا تھا کہ ‘میری زندگی آپ کی سروس‘ میں گزرے گی۔

،تصویر کا ذریعہDanny Lawson
انھوں نے ذکر کیا کہ شہزادہ فلپ سے انھیں ‘بغیر کسی لالچ‘ کے کتنی حمایت حاصل رہی اور انھوں نے اس ملک میں اپنے لیے ‘تمام قومیتوں، مذاہب، اور عمروں‘ کے لوگوں کی جانب سے نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا۔
اتوار کے روز ملکہ الزبتھ برطانوی تاریخ کی وہ پہلی ملکہ یا بادشاہ بن جائیں گی جو پلیٹینم جوبلی تک پہنچا ہو۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ایک بجے دن ہوگا اور اس روز کوئی پبلک مصروفیات نہیں ہوں گی۔ ملکہ کہہ چکی ہیں کہ ‘70 سال بعد بھی مجھے یہ دن اپنے ملکہ بننے کے حوالے سے اتنا ہی یاد ہے جتنا یہ مجھے اپنے والد بادشاہ جارج ہشتم کی موت کے حوالے سے یاد ہے۔‘



















