اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دنیا کا سب سے مہنگا اور شام کا دارالحکومت دمشق سب سے سستا شہر قرار

،تصویر کا ذریعہReuters
دنیا بھر میں تجارتی سامان کی نقل و حمل میں تعطل اور عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے دوران تل ابیب کو دنیا کا سب سے مہنگا شہر قرار دے دیا گیا ہے۔
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے سالانہ سروے میں اس سال تل ابیب دنیا کے سب سے مہنگے شہروں میں پیرس کو پیچھے چھوڑتا ہوا گذشتہ سال کے سروے میں پانچوں نمبر سے اس سال پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ پیرس اور سنگاپور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
خانہ جنگی سے متاثرہ ملک شام کا دارالحکومت دمشق اس فہرست میں بدستور دنیا کا سب سے سستا شہر ہونے کی وجہ سے آخری نمبر پر برقرار ہے۔
اس سروے میں دنیا کے 173 ملکوں میں روز مرّہ کی اشیاء کی قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کا ڈالر میں تخمینہ لگا کر ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔
ای آئی یو نے اس سال اگست اور ستمبر کے مہینوں میں دنیا بھر کے 173 شہروں مقامی کرنسی میں قیمتوں اور سہولیات پر ہونے والے اخراجات کے اعداد و شمار حاصل کر کے کہا ہے کہ اوسط قیمتوں میں تین اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ گذشتہ پانچ برس میں افراط زر کی سب سے زیادہ شرح ہے۔
ٹرانسپورٹ یا نقل و حمل پر ہونے والے اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ جن شہروں میں سروے کیا گیا وہاں پیٹرول کی قیمتیں اوسطاً 21 فیصد بڑھیں۔
تل ابیب ای آئی یو کی 'کاسٹ آف لیونگ' یعنی رہنے کے اخراجات کی فہرست میں اس لیے اوّل نمبر پر آ گیا کیونکہ اسرائیل کی کرنسی شیکل ڈالر میں مقابلے میں مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ کم از کم 10 فیصد اشیا، خاص طور پر روزمرہ کے استعمال اور کھانے پینے کی چیزوں کی جن کا شمار گھروں کے سودوں میں ہوتا ہے مقامی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔
سروے میں تل ابیب شراب اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کے حساب سے دوسرے نمبر پر، ذاتی فلاح و بہود میں پانچویں نمبر پر اور تفریحی سہولیات کے نرخوں کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
تل ابیب کے میئر نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو میں خبردار کیا کہ جائیداد یا گھروں کی قیمتیں جو ای آئی یو کے سروے میں شامل نہیں ہوتیں اس کے لحاظ سے تل ابیب انتہائی مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ اب ’پھٹنے کے قریب‘ ہے۔
'تل ابیب اور زیادہ مہنگا ہوتا جائے گا کیونکہ پورا ملک ہی مہنگا ہو رہا ہے۔'
اُنھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس متبادل شہر نہیں ہیں جیسا کہ امریکہ میں نیویارک ہے، شکاگو ہے، میامی ہے اور بہت سے شہر ہیں۔ اس طرح برطانیہ میں لندن کے علاوہ مانچسٹر ہے، لیورپول ہے۔ ان ملکوں میں آپ دوسرے شہروں میں نقل مکانی کر سکتے ہیں جہاں رہائشی اخراجات اتنے زیادہ ناقابل برداشت نہ ہوں۔

،تصویر کا ذریعہJames O'Neil
گذشتہ سال پیرس، زیورخ اور ہانگ کانگ اس فہرست میں شامل پہلے تین شہر تھے۔ زیورخ اور ہانگ کانگ اس سال بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں جس کے بعد نیویارک، جنیوا، کوپن ہیگن، لاس اینجلس اور اوساکا کا نمبر آتا ہے۔
تہران نے اس فہرست میں سب سے بڑی چھلانگ لگائی ہے اور وہ 79 ویں نمبر سے 29 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے درآمدات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں کورونا وائرس کی وجہ سے اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بہت سے ملک نکل رہے ہیں لیکن بڑے شہروں میں اچانک مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مال تجارت کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے جس سے قیمتوں میں عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔
کورونا کی وبا سے طلب میں اتر چڑھاؤ رہتا ہے اور سرمایہ کار اور تاجر بھی تذبذب کا شکار رہتے ہیں جس سے نہ صرف قیمتوں پر اثر پڑتا ہے بلکہ کرنسی کی قدر بھی بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔
ای آیی یو کے اندازوں کے مطابق قیمتوں میں آنے والے مہینوں اور سال میں معتدل اضافہ ہو گا کیونکہ بہت سے ملکوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شرح سود میں آہستہ آہستہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔
























