گھروں سے کام کرنے والے ملازمین کی الیکٹرانک نگرانی کا بڑھتا ہوا رجحان

    • مصنف, جسٹن پارکنسن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

ایک سروے کے مطابق گھروں سے کام کرنے والے ملازمین کی الیکٹرانک نگرانی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور برطانیہ میں حکومت سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے قوانین بنائے اور ویب کیم کے استعمال کو ممنوع کر دے۔

اس حوالے سے کرس (فرضی نام) کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی پریشان کن تھا۔ میرا ایک مینیجر لوگوں کے ذاتی کمپیوٹرز کی نگرانی کرتا تھا تاکہ اسے پتا ہو کہ لوگ کیا کرتے ہیں، صرف کام کے وقت نہیں، تمام وقت! یہ کام کرنے کا عجیب طریقہ تھا۔‘

کرس شفیلڈ میں ایک انجنیئر ہیں۔ جب لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو 31 سالہ کرس کی کمپنی نے اپنے زیادہ تر عملے کو گھر سے کام کرنے کا کہا۔

انھیں کہا گیا کہ وہ اپنے ذاتی کمپیوٹرز کو دفتر کے زیادہ طاقتور کمپیوٹروں سے منسلک کریں تاکہ وہ اپنے ہائی ٹیک آپریشنز جاری رکھ سکیں۔

کرس کہتے ہیں ‘ہم نے اس بات کا برا نہیں منایا۔ مگر ایک دن میں دفتر گیا تو میں نے دیکھا کہ بہت ساری سکرینیں آن تھیں اور ہر کسی کا ڈیسک ٹاپ وہاں پر نظر آ رہا تھا۔‘

‘ہمارا ایک مینیجر صرف ہمارا کام نہیں دیکھ رہا تھا، وہ سارا وقت دیکھ سکتا تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں، مثلاً ہم یوٹیوب پر کیا دیکھتے ہیں وغیرہ۔‘

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو دفتروں کے بجائے اپنے گھروں سے کام کرنا پڑا۔

اور بہت سی کمپنیاں ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کے ملازمین کیا کر رہے ہیں۔ کیمروں کی مدد سے لوگوں کی براہ ِراست نگرانی کی جا سکتی ہے۔ موومنٹ سنسرز کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کی بورڈ کے بٹنز اور ماؤس کی حرکت کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔

لوگوں کے باس اپنے ملازمین کے ڈیسک ٹاپ کے سکرین شاٹ لے سکتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ وہ کام کر رہے ہیں نہ کہ انٹرنیٹ پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔

تاہم پروسپیکٹ نامی ٹریڈ یونین چاہتی ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر حدود کے حوالے سے قانون کی جائے۔

وہ چاہتی ہے کہ حکومت واضح طور پر ویب کیمز کے استعمال پر پابندی لگا دے، سوائے اس کے کہ جب ملازم کسی میٹنگ یا کال میں شرکت کر رہے ہوں۔

پروسپیکٹ کے تازہ ترین سروے کے مطابق 32 فیصد ہوم ورکرز کی نگرانی کی جارہی ہے جو کہ اپریل میں 24 فیصد تھا۔ 18 سے 34 سال کی عمر کے لوگوں میں یہ شرح بڑھ کر 48 ہو جاتی ہے۔

یونین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی گھروں پر کیمروں کی مدد سے نگرانی ہو رہی ہے ان کی شرح اپریل کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ یعنی 5 فیصد سے 13 فیصد ہو گئی ہے۔

یونین کے جنرل سیکریٹری مائک کلینسی کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس کی تو عادت ہے کہ کمپنیاں اپنے ملازمین پر نظر رکھیں مگر جب لوگ اپنے گھروں میں کام کر رہے ہوتے ہیں تو اس کا ایک مختلف پہلو بن جاتا ہے۔‘

’نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بات کی صلاحیت دیتی ہے کہ ان کے پاس اپنے ملازمین کے گھروں میں دیکھنے کا متواتر نظام ہو اور اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے قوانین بھی کم ہی ہیں۔‘

انفارمیشن کمشنر کے دفتر (آئی سی او) کی تجویز ہے کہ ملازمین کو اس نگرانی کے شروع ہونے سے پہلے پتا ہونا چاہیے، چاہے وہ دفتر میں ہو یا گھر پر۔ اس کے علاوہ ملازمین پر واضح ہونا چاہیے کہ یہ کیوں کی جا رہی ہے۔

آئی سی او کمپنیوں کو یہ بھی کہتا ہے کہ انھیں اس نگرانی کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے کہ ان کے پاس نگرانی کے دیگر طریقے بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ فون کالز اور ای میل۔

کرس کو جب پتا چلا کہ ان کی کمپنی میں ایک مینیجر ان کے گھر میں ہر چیز کی نگرانی کر رہا تھا، تو انھوں نے وہ کمپنی چھوڑ دی۔ ان کا خیال ہے کہ حد سے زیادہ نگرانی کا نقصان ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں نے گھر سے کام کرنا شروع کیا تو میں کم کام نہیں کر رہا تھا۔ مگر جب مجھے پتا چلا کہ کیا ہو رہا ہے تو میں پریشان ہوا۔‘

’میرا بہت سا وقت کاغذ پر چیزیں ڈیزائن کرتے گزرتا ہے۔ اس دوران میں سکرین سے دور ہوتا ہوں اور اگر کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اسے نہیں پتا چلے گا کہ میں کام کر رہا ہوں یا نہیں۔‘

’شاید اس بندے کو یہی لگتا ہو کہ میں نیچے بیٹھا نیٹ فلکس دیکھ رہا ہوں مگر ایسا نہیں تھا۔ یہ لوگوں کی نگرانی کا ایک بہت ہی گستاخانہ اور غیر ذاتی نوعیت کا طریقہ ہے۔‘

تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف فیوچر آف ورک کی ڈائریکٹر اینا تھامس کا کہنا ہے کہ زیادہ نگرانی سٹاف پر دباؤ کو بڑھا رہی ہے۔

مگر جو کمپنیاں ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ مناسب کام کر رہی ہیں اور اتنے سارے ملازمین کے مینیجروں کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کی وجہ سے کام کی نگرانی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

سرکاری تحقیق کے مطابق جیسے جیسے کووڈ کی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں، اب کم لوگ ہی صرف گھروں سے کام کر رہے ہیں تاہم ابھی بھی بہت سے لوگ ایسا کر رہے ہیں۔

حکومت کی تجویز ہے کہ لوگوں کو گھروں سے جزوی طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

آئی سی او کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘لوگوں کو توقع ہوتی ہے کہ ان کی نجی زندگی پرائیویٹ رہے اور انھیں کام کی جگہ پر بھی کسی حد تک پرائیویسی ملے۔‘