ویتنام: کووڈ سے بچ کر اپنے پالتو کتے دوسرے شہر لے جانے والا جوڑا وائرس کا شکار، حکام نے 12 کتوں کو مار ڈالا

ویتنام

،تصویر کا ذریعہPham Minh Hung

،تصویر کا کیپشنجوڑے کی اپنے سامان کے ساتھ کتے بھی موٹر سائیکل پر لے جانے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی
    • مصنف, بوئی تھو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

جب کووڈ کے انفیکشن میں اضافہ ہوا تو ویتنام کا ایک جوڑا اپنے کچھ رشتہ داروں کے ساتھ کسی محفوظ مقام کی تلاش میں لانگ این صوبے سے اپنے درجن سے زیادہ پالتو کتے لے کر موٹر سائیکلوں پر نکلا۔

بعد میں ان میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔ جب وہ ہسپتال میں ہی تھے تو انھیں پتہ چلا کہ ان کے 12 پالتو جانوروں کو حکام نے وائرس کے خوف کی وجہ سے مار دیا ہے۔

49 سال کے فام من ہنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اور میری بیوی اس قدر روئے کہ ہم سو نہیں سکے۔‘

’میں یقین نہیں کرنا چاہتا تھا کہ واقعی ایسا ہوا ہے۔۔۔ میں اپنے بچوں (کتوں) کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کر سکا۔‘

ان کی کہانی، جسے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر شیئر کیا گیا، ویتنام میں زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد نے اس طرح کے اقدام کے خلاف شروع کی گئی پیٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

دل موہ لینے والے

وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے اب تک کووڈ 19 کی تازہ ترین لہر ایسی ہے جس نے ویتنام کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں سخت لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کہ بہت سے مزدوروں کے لیے روزی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کم از کم دس لاکھ کے قریب لوگ بڑے شہروں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

فام من ہنگ اور 35 سال کی نگوین تھی چی ایم بھی ان میں شامل ہیں۔

8 اکتوبر کو وہ اپنے کتوں اور تین رشتہ داروں کے ساتھ 280 کلومیٹر کے سفر پر نکلے تھے۔ ان کے رشتہ داروں کے پاس بھی تین کتے اور ایک بلی تھی۔

وی

،تصویر کا ذریعہPham Minh Hung

،تصویر کا کیپشنبہت سے لوگ اس جوڑے کے جانوروں کے ساتھ پیار کو بہت پسند کر رہے تھے

اپنے صوبے میں کووڈ کیسز بڑھ جانے کے بعد یہ جوڑا اپنے ایک رشتہ دار کے آبائی شہر خان ہنگ کی طرف جا رہا تھا جو کہ کا ماؤ صوبے میں ہے اور وہاں انفیکشن کی شرح نسبتاً کم ہے۔

بہت سے لوگوں نے جنھوں نے ان کو موٹر سائیکل پر سامان اور کتوں کو لیجاتے دیکھا، ان کی ویڈیو بنا کر آن لائن شائع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جوڑا سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو گیا اور لوگ سڑکوں پر ان کا استقبال اور ان کے محفوظ سفر کے لیے دعا کرتے۔

کچھ نے کہا کہ ان کے دل اس وقت پگھل گئے جب انھوں نے دیکھا کہ جوڑے نے بارش کے دوران اپنے کتوں کو ڈھانپنے کے لیے ان پر برساتی کوٹ ڈالے ہوئے تھے۔ کچھ نے انھیں پانی اور کھانا بھی دیا۔

جوڑے نے اپنے سفر کا آغاز 15 کتوں کے ساتھ کیا تھا لیکن سفر کے دوران انھوں نے کا ماؤ صوبے میں داخل ہونے کے بعد ایک رضاکار کو دو کتے دے دیے تھے جبکہ ایک کتا سفر کے دوران ہی مر گیا تھا۔ باقی سب ان کے ساتھ رہے۔

لیکن جب جوڑا اور ان کے تین رشتہ دار خان ہنگ پہنچے تو ان کا کووڈ ٹیسٹ کیا گیا جس میں سبھی کا نتیجہ مثبت آیا۔ جو افراد بھی مختلف صوبوں کے درمیان سفر کرتے ہیں ان کے لیے ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔ انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور جانوروں کو قرنطینہ مرکز میں چھوڑ دیا گیا۔

لیکن سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی حکام نے ان کے 12 کتوں اور ان کے رشتہ داروں کے پالتو جانوروں کو انھیں بتائے بغیر ہلاک کر دیا اور بعد میں اس رپورٹ کو ہٹا دیا گیا۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ جانوروں کو کیسے مارا گیا۔ سرکاری پولیس اخبار نے ایک تصویر شائع کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں جلا دیا گیا تھا۔

مقامی اہلکار ٹران ٹین کانگ نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بیماریوں کے کنٹرول کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور جانوروں کو فوری طور پر مارنے کا فیصلہ ضروری احتیاطی اقدام تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

UGC

،تصویر کا ذریعہUGC

،تصویر کا کیپشنیہ جوڑا ابھی بھی ہسپتال میں ہی ہے

’وحشیانہ فعل‘

آن لائن پر اس کا بہت زیادہ رد عمل آیا اور بہت سے لوگوں نے اس فیصلے کو ’ظالمانہ‘ اور ’دل توڑنے والا‘ قرار دیا۔

گلوبل اینیمل ویلفیئر آرگنائزیشن فور پاؤز کی رکن اداکارہ ہانگ آن نے اسے ’وحشیانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تنظیم کو ایک پٹیشن بھیجیں گی۔

امریکہ کے سٹی آف ہوپ نیشنل میڈیکل سینٹر کے ایک سائنسدان نگوین ہانگ وو کہتے ہیں کہ کتوں کو مارنا ’غیر اخلاقی‘ اور ’مضحکہ خیز‘ تھا کیونکہ ایسی کوئی گائیڈ لائنز نہیں جو کہتی ہیں کہ اگر پالتو جانوروں کے مالکان کو انفیکشن ہو جائے تو جانوروں کو مار دینا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی سائنسی ثبوت نہیں کہ کتے اور بلیاں انسانوں میں کووڈ منتقل کر سکتے ہیں تاہم کووڈ زدہ افراد بعض اوقات انھیں (جانوروں کو) متاثر کر سکتے ہیں۔‘

ٹیکساس میں کووڈ مریضوں کے ساتھ 39 گھروں میں رہنے والے 76 کتوں اور بلیوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہاں صرف تین بلیاں اور ایک کتا متاثر ہوئے تھے۔ اگرچہ ان جانوروں میں کووڈ کی علامات یا تو بالکل نہیں تھیں یا صرف ہلکی سی تھیں۔ وہ سب جانور جلد ہی صحت یاب ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر نگوین کہتے ہیں کہ ’ایسی صورتحال سے نمٹنے کے کئی بہتر طریقے ہیں، جیسا کہ انھیں قرنطینہ کے لیے پنجرے میں رکھنا، مالکان کے رشتہ داروں سے رابطہ کرنا یا کسی سماجی تنظیم سے رابطہ کرنا کہ جب تک مالکان ٹھیک نہیں ہو جاتے وہ ان کی دیکھ بھال کرے۔‘

’میں نے تقریباً چھ سال اپنے بچوں کی پرورش کی تھی‘

وبا کے شروع میں ویتنام کو وائرس کے خلاف ایک کامیاب مثال کہا گیا تھا اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ویتنام کے فوری ردعمل اور وسیع پیمانے پر کانٹیکٹ ٹریسنگ پر اسے بہت سراہا تھا لیکن ڈیلٹا ویریئنٹ نے ملک کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔

ابھی تک ملک میں آٹھ لاکھ 40 ہزار انفیکشنز اور مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کیسز کا تازہ ترین لہر کے دوران پتہ چلا ہے۔

ویتنام نے وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں ابھی تک سخت رویہ رکھا ہے، اگرچہ وزیر اعظم فام منہ چن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ’وائرس کے ساتھ رہنے‘ کا بھی ایک منصوبہ ہونا چاہیے۔

بہت سے لوگوں پر وائرس پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور انھیں سزا سنائی گئی ہے، کچھ کو پانچ سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔

پچھلے مہینے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کئی پولیس افسران جنوبی صوبے بنہ ڈونگ میں ایک فلیٹ کے اندر زبردستی گھس رہے تھے۔ انھوں نے ایک خاتون کو گھسیٹ کر باہر نکالا جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ انھیں کووڈ ہے، قریب ہی ان کا چھوٹا بچہ رو رہا تھا۔ اس ویڈیو پر شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

مبصر لی این کا کہنا ہے کہ پالتو جانوروں کو پکڑنے کا حکام کا فیصلہ حیران کن نہیں تھا۔

’ویتنامی حکومت کورونا وائرس کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ ایک نعرہ ہے کہ ’اس وبائی مرض سے لڑنا دشمن سے لڑنے کے مترادف ہے۔‘ اس کا مطلب ہے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ آپ جنگ کے دوران عقلی اور نرم دلانہ رویے کی توقع نہیں کر سکتے۔‘

مسٹر فام کے لیے سب سے مشکل بات انھیں یہ پتہ چلنا تھی کہ ان کے پیارے جانور دوسروں نے مارے ہیں۔

وہ حکام کو اس کا جوابدہ سمجھتے ہیں۔

انھوں نے ہسپتال سے کہا کہ ’میں نے تقریباً چھ سال اپنے بچوں کی پرورش کی تھی، میں یقینی طور پر اپنے بچوں کے لیے انصاف چاہتا ہوں۔‘