’اس نے میری معصومیت چھین لی‘: ویسٹ ہیم فٹبال کلب کے شریک مالک پر خواتین کو سیکس پر مجبور کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بلی کینبر، ہیننا پرائس اور سوفی سمتھ
- عہدہ, بی بی سی پینوراما
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 19 منٹ
تبنیہ: اس خبر میں مبینہ جنسی بدسلوکی کی تفصیلات شامل ہیں۔
متعدد خواتین نے ارب پتی کاروباری شخصیت اور ویسٹ ہیم فٹبال کلب کے شریک مالک ڈیوڈ سلیون پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کیا اور ان کا جنسی طور پر استحصال کرنے کی کوشش کی۔ بعض مواقع پر ان کا شکار بننے والی خواتین نوعمر تھیں۔
سات خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات بی بی سی پینوراما اور ٹائمز کی مشترکہ تحقیقات میں سامنے آئے ہیں اور یہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان کا آغاز 1980 کی دہائی سے ہوتا ہے۔
یہ تمام خواتین یا تو نوعمر تھیں یا ابتدائی بیس کی دہائی میں تھیں۔ یہ تمام خواتین ماڈلز تھیں، جو سلیون کے ڈیلی اور سنڈے سپورٹ اخبارات میں کام کی تلاش کر رہی تھیں۔
انھوں نے سلیون پر جنسی استحصال پر مبنی اور شکاری طرزِ عمل کا الزام لگایا ہے، جس میں کاروباری ملاقاتوں کے دوران ان پر جنسی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔
ان کا الزام ہے کہ وہ ان ملاقاتوں میں انھیں پیشکش کرتے تھے کہ اگر وہ ان کے ساتھ تعلقات قائم کریں یا ان کے ساتھ اورل سیکس کریں تو وہ ان کے کیریئر کو آگے بڑھائیں گے۔
ان میں سے ایک، فلورنس (جو ان کا فرضی نام ہے)، نے کہا کہ وہ خود کو سلیون کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور محسوس کرتی تھیں حالانکہ وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔
77 سالہ سلیون نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی ’قطعی طور پر‘ تردید کرتے ہیں، جو اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب انھوں نے فحش مواد، اخبارات اور فٹبال سے دولت کمائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنیچر کے روز بی بی سی پینوراما اور ٹائمز نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ پیر کے روز اپنی تحقیقات شائع کر دیں گے۔ اس کے چند گھنٹوں ہی بعد انھوں نے ویسٹ ہیم کے مشترکہ چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ ان الزامات کے خلاف لڑنے پر توجہ دینا چاہتے ہیں، جنھیں انھوں نے ’حقیقت کے برخلاف اور مکمل طور پر جھوٹے، دہائیوں پرانے الزامات‘ قرار دیا اور اس تحقیق کو ’بنیادی طور پر غیر منصفانہ‘ کہا۔
ہم یہ بھی انکشاف کر سکتے ہیں کہ سلیون نے علیحدہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 1990 کی دہائی میں انھوں نے ایک ایسی لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات کے بدلے ادائیگی کی تھی، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس کی عمر 16 یا 17 سال تھی۔ اس وقت سلیون کی عمر چالیس کے عشرے میں تھی۔
یاد رہے کہ 2003 تک 16 یا 17 سال کی عمر کے فرد کے ساتھ جنسی تعلق کے بدلے ادائیگی کرنا غیر قانونی نہیں تھا۔
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں سلیون ماڈلنگ میں کیریئر بنانے کی خواہشمند خواتین کے لیے ایک بااثر شخصیت (گیٹ کیپر) کی حیثیت رکھتے تھے۔
فلورنس نے کہا کہ ایک کاروباری ملاقات کے دوران، جو ان کے گھر پر ہوئی، سلیون نے انھیں بتایا کہ اگر وہ ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں تو وہ ان کے اخبارات کی ’مستقل لڑکیوں‘ میں شامل ہو سکتی ہیں۔
اس وقت 20 سالہ فلورنس کے مطابق انھوں نے مختلف بہانے بنانے کی کوشش کی جن میں یہ بھی شامل تھا کہ ان کے ماہواری کے ایام ہیں، لیکن اس کے بعد سلیون انھیں ایک بیڈروم میں لے گئے اور ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ سلیون کے وکلا نے اس بیان کو ناقابلِ یقین قرار دیا ہے۔
دو خواتین نے کہا کہ انھیں محسوس ہوا کہ اپنے ماڈلنگ کیریئر کے مستقبل کو نقصان سے بچانے کے لیے ان کے پاس سلیون کے ساتھ سونے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور انھوں نے سلیون پر اپنے اختیار کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ’وہ نوجوان لوگوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک اور سابق ماڈل نے کہا کہ جب اُنھوں نے سلیون کی جانب سے جنسی تعلق کی پیشکش کے بعد میٹنگ چھوڑنے کی کوشش کی تو انھیں معلوم ہوا کہ دروازہ بند ہے اور وہ وہاں سے تب ہی نکل پائیں جب انھوں نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔
زیادہ تر خواتین نے گمنام رہنے کو ترجیح دی ہے۔ بعض صورتوں میں اس لیے کہ وہ سلیون سے خوفزدہ ہیں اور ممکنہ نتائج کے بارے میں فکرمند ہیں۔
ہمارے رپورٹرز نے ان کے بیانات کی تفصیلات کی تصدیق ڈائری کے اندراجات، پولیس اور دیگر ریکارڈز اور دوستوں اور اہلِ خانہ کے انٹرویوز کے ذریعے کی ہے، جن سے ان خواتین نے یہ باتیں شیئر کی تھیں۔
ہم نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ آٹھ خواتین نے سلیون کے رویے کے بارے میں میٹ پولیس یا ایسکس پولیس کو آگاہ کیا۔ ان میں ایک خاتون ہماری اس تحقیق کا بھی حصہ ہیں۔
سلیون ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر کبھی ان پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
ہماری تحقیق فٹبال حکام کے لیے بھی سوالات اٹھاتی ہے کہ ان کے رویے کے بارے میں کیا معلومات موجود تھیں۔
’انھوں نے میری معصومیت چھین لی‘
فلورنس نے بتایا کہ 1999 میں ان کا سلیون سے ان کے گھر پر ہونے والی ایک کاروباری ملاقات میں تعارف کروایا گیا۔ اس ملاقات کا اہتمام سپورٹ کے ایڈیٹر اِن چیف ٹونی لیوسی نے کیا تھا، جو اب بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے پریزنٹر ہیں۔
اس وقت 20 سالہ ابھرتی ہوئی گلیمر ماڈل کے مطابق وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سلیون کی ایسکس میں واقع حویلی پہنچیں، جہاں ان کے بوائے فرینڈ باہر انتظار کرتے رہے جبکہ وہ سلیون کے دفتر میں گئیں۔
فلورنس کو اس ملاقات کی ہر تفصیل یاد نہیں بشمول اس کے کہ ان کے بوائے فرینڈ کہاں بیٹھے تھے۔ تاہم ملاقات کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں انھیں واضح طور پر یاد ہے۔ یہ تفصیلات ان کی ڈائری میں بھی درج ہیں، جس میں لکھا ہے کہ انھوں نے لندن جانے کے لیے 14 پاؤنڈ دے کر کوچ لی، پھر ٹرین اور اس کے بعد ٹیکسی لی۔
انھیں گھر کا سائز اور آسائش دیکھ کر حیرت ہوئی، جبکہ سلیون اپنے میز پر ’انتہائی میلے کچیلے ٹریک سوٹ‘ میں موجود تھے۔
ان کے مطابق، سلیون نے ان کے ماڈلنگ پورٹ فولیو کا جائزہ لیا اور پھر انھیں کہا کہ وہ باتھ روم میں جا کر ’فریش‘ ہو جائیں۔
فلورنس نے کہا کہ وہ اتنی سادہ تھیں کہ سلیون کو واضح طور پر کہنا پڑا کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے کپڑے اتار کر صرف زیرِ جامہ میں آ جائیں، جو انھوں نے کیا۔

فلورنس بتاتی ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ’میں تمہیں تھوڑا بہت کام دے دوں گا کیونکہ تم نے محنت کی ہے‘۔
لیکن اس کے بعد، ان کے مطابق، سلیون نے بھدی زبان میں کہا کہ اگر وہ انھیں اپنے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے دیں تو ’پھر تم میری مستقل لڑکیوں میں شامل ہو جاؤ گی۔‘
فلورنس کے مطابق انھوں نے کہا ’تم تمام میگزینز میں ہو گی۔ میں تمہیں سرورق دے سکتا ہوں، میں تمہیں سنٹر فولڈ دے سکتا ہوں، اور تم میری سپورٹ گرلز میں شامل ہو جاؤ گی۔‘
فلورنس نے بتایا کہ وہ گھبرا گئیں اور کہا کہ ان کا بوائے فرینڈ باہر موجود ہے، لیکن سلیون باز نہ آئے اور کہا ’اس میں صرف ایک منٹ لگے گا اور اسے کبھی پتہ نہیں چلے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے سلیون کو روکنے کی کوشش میں کہا کہ انھیں ماہوری ہو رہی ہے۔
فلورنس نے کہا کہ ’یہ وہ چیز ہے جو مجھے ہمیشہ ستائے گی۔‘
’انھوں نے اپنی چھوٹی انگلی اٹھائی اور کہا، کوئی بات نہیں، میں صرف تھوڑا سا ہی داخل کروں گا۔‘
ان کے مطابق اس کے بعد وہ انھیں ایک بیڈروم میں لے گئے۔
انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ انھوں نے یہ بات کس طرح ظاہر کی اور آیا وہ سمجھ پائے یا نہیں۔
فلورنس نے کہا کہ وہ ’شدید گھبراہٹ کی حالت‘ میں تھیں اور انھیں ننانویے فیصد یقین ہے کہ وہ اسے کہہ رہی تھیں کہ ’میں یہ کرنا نہیں چاہتی، میں نہیں چاہتی۔‘ لیکن انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ وہ یہ بات کتنی اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔
’مجھے نہیں معلوم کہ آیا یہ سرگوشی جیسا تھا۔ لیکن یہ چیخ نہیں تھی۔‘
فلورنس نے کہا کہ سلیون نے اپنے جوگنگ ٹراؤزر نیچے کیا اور ان کے ساتھ سیکس کیا۔
ان کے مطابق بعد میں سلیون نے انھیں کہا ’مبارک ہو، تم ہماری نئی سپورٹ گرلز میں سے ایک بنو گی اور تمہیں بہت کام ملے گا۔‘
فلورنس نے کہا کہ بعد میں انھوں نے خود سے سوال کیا کہ انھوں نے مزاحمت کیوں نہ کی یا مدد کے لیے آواز کیوں نہ اٹھائی۔ ان کے مطابق اب وہ سمجھتی ہیں کہ اس واقعے کے دوران وہ ذہنی طور پر خود سے کٹ گئی تھی اور وہاں ’طاقت کا بہت بڑا عدم توازن‘ موجود تھا۔
پھر انھیں سپورٹ میں کام مل گیا، جیسا کہ سلیون نے وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ’گندا‘، ’گھناؤنا‘ محسوس ہوا اور ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سلیون کے کیے گئے کام کا معاوضہ وصول کر رہی ہوں۔
فلورنس نے کہا کہ انھوں نے کئی سالوں تک کسی کو نہیں بتایا اور پولیس کے پاس بھی نہیں گئیں کیونکہ انھیں نہیں لگتا تھا کہ گلیمر ماڈل پر یقین کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سلیون سے ان کی ملاقات نے ان کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا۔
’اس نے میری معصومیت چھین لی۔۔۔ میں کئی سالوں تک خودکشی کے خیالات میں مبتلا رہی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کچھ وقت پہلے تک مجھے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا رہا۔‘
ہم نے اُن تین افراد سے بات کی ہے جن سے فلورنس نے 2018 سے سلیون سے اپنی ملاقات کے بارے میں شیئر کیا ہے۔ ان کی ڈائری کے اندراجات دیکھنے کے علاوہ، ہم نے اخبار کی کٹنگز اور بزنس کارڈز بھی دیکھے ہیں جو ان کے بیان کے کچھ پہلوؤں کی حمایت کرتے ہیں۔
ڈیوڈ سلیون کے وکلا نے کہا کہ فلورنس کا بیان سلیون کے گھر کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے ’ناقابل یقین‘ ہے۔

لیوسی نے کہا کہ انھیں اس بارے میں کوئی بات ’یاد نہیں‘ کہ انھوں نے کسی خاتون کو فون پر سلیون سے بات کروانے کے لیے ان کا تعارف کروایا ہو جیسا کہ فلورنس نے بیان کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ ان کے کردار کا حصہ بھی نہیں تھا کہ وہ کسی کو سلیون سے ملوائیں۔
انھوں نے کہا کہ انھیں ’اس خاتون سے گہری ہمدردی ہے جو ممکنہ طور پر متاثرہ ہو سکتی ہے‘، لیکن انھوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ انھوں نے ’اس صورتحال میں کسی بھی طرح کا کوئی کردار ادا کیا‘، اور کہا کہ وہ اس الزام کو ’انتہائی قابلِ نفرت‘ سمجھتے ہیں۔
’کمزور افراد کا فائدہ اٹھایا‘
اپنے کیریئر کے دوران، سلیون نے اپنی بھرپور جنسی زندگی کا لطف لیا۔ انھوں نے ایک بار دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک سال میں تقریباً ایک ہزار خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور جنسی کارکنوں کو ملازمت دینے کا بھی اعتراف کیا۔
ان کی عوامی شخصیت کے پیچھے، طویل عرصے سے زیادہ خطرناک اور شکاری رویے کے اشارے ملتے رہے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں، سلیون کو ’نو جاب/بلو جاب‘ کا لقب دیا گیا، جو ان کی شہرت کی طرف اشارہ تھا کہ وہ ان کی اخبارات میں کام کرنے کی خواہشمند ماڈلز سے اورل سیکس کے لیے کہتے تھے۔
گارڈین اخبار نے ایک بار ان کا قول نقل کیا کہ ’میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر آپ چند مٹھائیاں نہیں کھا سکتے تو مٹھائی کی دکان رکھنے کا کیا فائدہ۔‘
ان کے کچھ ساتھی اس کا دفاع کرتے ہیں۔ نک کریکنل، جو ان کے دوست اور سابق کاروباری شراکت دار تھے، نے کہا کہ یہ ’ایک بہت ہی قبول شدہ اور معروف حقیقت ہے کہ ڈیوڈ نے بہت سی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور وہ اس بارے میں بہت کھل کر بات کرتے تھے۔‘
لیکن ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گلیمر ماڈلنگ انڈسٹری میں کام کرنے والوں میں سے کچھ کو سلیون کے بارے میں خدشات تھے۔
ایک ماڈلنگ ایجنٹ نے رپورٹرز کو بتایا کہ وہ نوجوان ماڈلز کو سلیون کے بارے میں خبردار کرتے تھے، جبکہ ایک اور نے کہا کہ اس کی کمپنی نے سلیون کی شہرت کے باعث انھیں ماڈلز بھیجنا بند کر دیا تھا۔
تاہم، ایک تیسرے ایجنٹ نے مختلف رویہ اختیار کیا، جیسا کہ ایک خاتون (جسے ہم ریبیکا کہہ رہے ہیں) کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس خاتون ایجنٹ نے سڑک پر ریبیکا سے رابطہ کیا اور انھیں لندن میں ایک زبردست گلیمر ماڈلنگ کیریئر کا وعدہ کیا، جس میں ہفتہ وار ایک ہزار پاؤنڈ تک کمانے کی بات کی گئی۔
لیکن شہر پہنچنے کے بعد ریبیکا کے مطابق ایجنٹ نے انھیں بتایا کہ انھیں پیسے کے بدلے تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایجنٹ نے انھیں یہ بھی بتایا کہ ماڈل بننے اور سپورٹ اخبارات میں آنے کے لیے انھیں سلیون کے ساتھ مالی معاوضے کے بدلے تعلق رکھنا پڑے گا، جسے ایجنٹ نے اپنا ’بہت قریبی دوست‘ قرار دیا۔
ریبیکا کے مطابق ایجنٹ نے انھیں کہا ’بس اندر جاؤ اور جو وہ کہے وہی کرو۔‘
ریبیکا نے بتایا کہ 1998 میں ملاقات کے دوران سلیون نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ وہ انھیں نقصان نہیں پہنچائیں گے اور بعد میں اسے کہا کہ وہ ان کے لیے اخبار میں آنے کا بندوبست کر دیں گے، اس بارے میں فکر نہ کریں۔

ریبیکا نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ سلیون نے ’کمزور افراد کا فائدہ اٹھایا‘ اور ’کاسٹنگ کاؤچ‘ جیسے حالات میں اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر استحصال کا شکار ہونے کے خطرے میں تھیں کیونکہ وہ کم عمر اور نیوروڈائیورجنٹ تھیں اور اس سے پہلے بھی جنسی صدمے کا شکار رہ چکی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کے ایک تنہا، ذلت آمیز اور تاریک دور کا آغاز تھا۔‘
جن خواتین سے ہم نے بات کی ان میں سے بہت سی اس انڈسٹری میں نئی تھیں اور ریبیکا کے برعکس، انھوں نے کہا کہ جب انھیں سلیون سے ملنے کے لیے بلایا گیا تو وہ اس کی شہرت سے آگاہ نہیں تھیں۔
مِیا (اصل نام نہیں) نے بتایا کہ جب وہ 20 سال کی نو وارد ماڈل تھیں تو وہ سلیون کے گھر ایک ملاقات کے لیے گئیں، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ سپورٹ کے ساتھ کام سے متعلق ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ سلیون انھیں اوپر لے گئے اور پھر یہ واضح ہو گیا کہ وہ ان کے ساتھ جنسی تعلق کی توقع کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، انھوں نے ان سے کپڑے اتارنے کو کہا اور وہ اس کی بات مانتی گئیں کیونکہ انھیں محسوس ہوا کہ اگر وہ اخبار میں آنا چاہتی ہیں تو ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’دروازہ بند تھا اور میں کسی کے گھر میں تھی۔۔۔ میں کم عمر تھی، سچ کہوں تو مجھے واقعی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔‘
سلیون نے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور بعد میں ایک سیف سے رقم نکال کر انھیں 50 پاؤنڈ دیے، حالانکہ معاوضے کے بارے میں پہلے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں یہ انھیں ’خاموش رکھنے‘ کی کوشش تھی یا یہ ظاہر کرنے کی کوشش کہ وہ خود اس میں ملوث تھیں۔
انھوں نے اس واقعے کو اختیار کا ناجائز استعمال قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نوجوان لوگوں کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔‘
مِیا کے مطابق سلیون سے پہلی ملاقات کے بعد وہ ایک اور موقع پر ان کے گھر گئیں۔
اس باروہ ایک اور نوجوان عورت کے ساتھ گئیں، جو مِیا کے برعکس جانتی تھی کہ سلیون ان سے جنسی نوعیت کے تعلقات کی توقع رکھیں گے۔
مِیا نے کہا کہ دوسری عورت اپنی مرضی سے گئی کیونکہ وہ پیسے کمانا چاہتی تھی، خاص طور پر اس کے بعد جب مِیا نے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں انھیں بتایا۔
دو خواتین، ایک 1980 کی دہائی اور ایک 1990 کی دہائی میں، جب سلیون سے ملیں تو ان کے ساتھ ان کی مائیں بھی تھیں۔ دونوں نے الزام لگایا کہ سلیون نے انھیں جنسی تعلق کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔
ان میں سے ایک، جسے ہم اینا کہہ رہے ہیں، نے بتایا کہ انھوں نے 1990 کی دہائی میں 17 سال کی عمر میں سپورٹ کے ایک مقابلے میں حصہ لیا تھا، جس میں ابھرتی ہوئی ماڈلز کو اپنی تصاویر بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی۔
انھوں نے ایک پرتشدد اور استحصال کرنے والے باپ کے پاس پرورش پائی تھی اور ان کا خیال تھا کہ گلیمر ماڈل بننا ان کے لیے ایک راستہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں سوچتی تھی کہ میں سام فاکس کی طرح بن سکتی ہوں، بہت پیسہ کما سکتی ہوں اور اپنی والدہ کے ساتھ اپنا گھر لے سکتی ہوں۔‘
درخواست دینے کے بعد انھیں ایسکس کے ایک نائٹ کلب میں ایک تقریب میں مدعو کیا گیا، جہاں ان کی ماں بطور نگران اس کے ساتھ تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ سلیون انھیں الگ لے گئے اور ان سے کہا کہ اگر وہ ان کے ساتھ اورل سیکس کریں تو وہ انھیں ایک سٹار بنا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہShutterstock
’یہ بات انھوں نے ایسے وقت کی جب میری ماں بھی اسی کمرے میں موجود تھیں، اس لیے مجھے خوشی ہے کہ میں اکیلی نہیں گئی کیونکہ اگر میں اکیلی ہوتی تو خدا جانے کیا ہوتا۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ ’تھوڑی خوفزدہ‘ تھیں اور انھوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ اخبار نے مقابلے میں ان کی جانب سے بھیجی گئی تصویر شائع تو کیں لیکن انھیں کبھی کوئی معاوضے والا کام نہیں دیا گیا۔
اس سے ایک دہائی پہلے 1980 کی دہائی میں، ایک اور سابق ماڈل جسے ہم وینڈی کہہ رہے ہیں، اپنی ماں کے ساتھ سلیون کے گھر ایک کاروباری ملاقات کے لیے گئیں۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔ وینڈی کے مطابق سلیون انھیں اکیلے اوپر ایک کمرے میں لے گئے اور انھیں کپڑے اتارنے کو کہا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھنے کے بعد انھوں نے میرے جسم کے بارے میں ایک توہین آمیز بات کہی۔ پھر کہا کہ اگر تم اس صنعت میں آگے بڑھنا چاہتی ہو تو تمہیں میرے ساتھ سونا ہوگا۔‘
’مجھے یاد ہے کہ میں نے سوچا ’اگر آگے بڑھنے کے لیے مجھے تمہارے ساتھ سونا پڑے تو اس سے بہتر ہے کہ میں کہیں نہ پہنچوں۔‘
انھوں نے سلیون کے ساتھ جنسی تعلق سے انکار کر دیا اور اس کے بعد انھیں سپورٹ میں کسی کام کے لیے نہیں بلایا گیا۔
ایک نوعمر ماڈل، جنھیں ہم بیتھ کہہ رہے ہیں، نے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں ان کا ایجنٹ انھیں ایک ماڈلنگ آڈیشن کے لیے لے گیا، جو بعد میں سلیون کا گھر نکلا۔
بیتھ کے مطابق انھیں اکیلے اوپر بھیجا گیا جہاں انھوں نے سلیون کو بستر پر لیٹے دیکھا، انھوں نے ڈریسنگ گاؤن پہنا ہوا تھا اور ان کا سینہ نمایاں تھا۔
انھوں نے بیتھ کو بستر کے قریب بغیر اوپری لباس کے کھڑے ہونے کو کہا۔
بیتھ، جو اب ایک ماں بن چکی ہیں، کہتی ہیں کہ جب وہ ماضی کو یاد کرتی ہیں تو سوچتی ہیں ’خدا، میں نے خود کو ایک کم عمر لڑکی کے طور پر کتنی کمزور صورتحال میں ڈال دیا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا ’اختیار تو مردوں کے پاس ہی تھا، ہے نا؟‘
’خاص دوست‘
ساچا وال سلیون کے مبینہ استحصالی رویے سے متاثر ہونے والی واحد متاثرہ خاتون ہیں، جنھوں نے بی بی سی پینوراما اور ٹائمز میں اپنی شناخت ظاہر کرنے اور اپنے تجربے کا احوال بیان کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
اس وقت ساچا ایک 24 سالہ نئی گلیمر ماڈل تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ سنہ 1998 میں جب وہ اسیکس کے اس ایڈریس پر روانہ ہوئیں جو انھیں دیا گیا تھا، تو وہ ایک کاروباری ملاقات کی توقع کر رہی تھیں۔
لیکن وہاں پہنچنے پر انھیں معلوم ہوا کہ وہ سلیون کا ذاتی گھر ہے۔
ساچا اس وقت ایک انشورنس بروکر کے طور پر کام کر رہی تھیں اور جب انھوں نے ماڈلنگ کی کچھ تصاویر بنوانے کا فیصلہ کیا تو وہ اپنے کیریئر میں تبدیلی کی تلاش میں تھیں۔ یہ تصاویر سلیون تک پہنچیں اور انھوں نے انھیں ملاقات کے لیے مدعو کیا۔
ساچا یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گئیں کہ یہ کاروباری شخصیت کتنے بکھرے ہوئے حلیے میں موجود تھی۔ انھوں نے پاؤں میں فلپ فلاپس، استعمال شدہ سرخ شارٹس اور ایک ٹی شرٹ پہنی ہوئے تھی۔
ساچا نے کہا کہ اس کے بعد انھوں نے ان کے ماڈلنگ پورٹ فولیو کو دیکھنا شروع کیا، سلیون کی نظر کبھی ان پر اور کبھی تصاویر پر جاتی رہی جبکہ وہ ’بہت اچھا، بہت اچھا‘ ایسے انداز میں کہہ رہے تھے، جس سے وہ خود کو بے آرام محسوس کر رہی تھیں۔
ساچا نے بتایا کہ وہ اس وقت پریشان ہو گئیں جب سلیون نے انھیں اوپر چلنے اور زیرِ جامہ کے علاوہ تمام کپڑے اتارنے کو کہا، مگر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹاپ لیس ماڈل کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے اپنا جسم دکھانے پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’لیکن جب انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیٹھوں، تو میں نے سوچا، یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تو ملازمت کے انٹرویو کا حصہ نہیں ہے۔ تو میں ان کے پاس گئی، میں نے اپنی برا دوبارہ پہن لی… اور میں جتنا دور بیٹھ سکتی تھی، بیٹھ گئی۔‘

ساچا نے مزید کہا کہ سلیون جھک کر ان کے قریب آ گئے اور انھیں بتایا کہ ایک معروف گلیمر ماڈل ان کی ’خاص دوست‘ ہیں اور اگر وہ بھی ’ان کی خاص دوستوں میں شامل ہو جائیں‘ تو انہیں بھی ’اسی طرح مدد مل سکتی ہے۔‘
ساچا کہتی ہیں کہ انھوں نے سلیون سے کہا: ’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اخبار میں نظر آنے کے لیے تمہارے ساتھ سو جاؤں گی، تو تم غلطی پر ہو۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ: ’جب میں نے یہ بات کہی تو وہ بہت حیران سے لگ رہے تھے اور کہنے لگے کیا اورل سیکس بھی نہیں؟‘
’میں تو بس بالکل ہی حیران رہ گئی تھی‘ اور میں نے جواب دیا ’نہیں، ہرگز نہیں۔‘
ساچا کہتی ہیں کہ پھر انھوں نے کمرے سے باہر جانے کی کوشش کی لیکن انھیں معلوم ہوا کہ سلیون نے دروازہ بند کر رکھا تھا۔
ساچا یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ ’بہت ڈر گئی تھیں‘ اور انھوں نے غصے میں آ کر سلیون سے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، جبکہ سلیون انھیں پرسکون رہنے کو کہتے رہے۔
ساچا کے مطابق سلیون نے چیخ کر کہا ’تم اس معاملے کو مشکل بنا رہی ہو‘ اور پھر دروازہ کھول دیا، جس کے بعد وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اتر کر گھر سے باہر نکل آئیں۔
بعد میں وہ سپورٹ میگزین میں نظر آئیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں اکثر بدترین نوعیت کے کام دیے جاتے تھے، جن میں ایک بار اخبار کی فون اِن لائنز پر کام کرنا بھی شامل تھا۔
ہم نے دو ایسے افراد سے بات کی ہے جو کہتے ہیں کہ ساچا نے انھیں بتایا تھا کہ ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا، جن میں ایک شخص ایسا بھی شامل ہے جس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسی دن یہ بات انھیں بتائی تھی۔
ساچا کہتی ہیں کہ سنہ 2023 میں انھوں نے اس امید پر ایسیکس پولیس کو رپورٹ درج کروائی کہ اس سے دوسری خواتین کی مدد ہو سکے گی۔ لیکن چھ ماہ بعد پولیس فورس نے ان کے کیس میں مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
سلیون کو اسی پولیس فورس نے سنہ 2008 میں ایک 25 سالہ خاتون کی شکایت پر جنسی حملے کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔ تاہم، ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
ایسیکس پولیس نے حال ہی میں متعدد مقدمات کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر کیس میں یہ فیصلہ درست تھا کہ مجرمانہ فردِ جرم عائد کرنے کے لیے شواہد ناکافی تھے۔
ایک مقدمے میں متاثرہ خاتون نے کارروائی نہ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی۔ پولیس نے اصل فیصلے کو درست قرار دیا، تاہم ایک پولیس چیف نے تفتیش کے حق میں مددگار ’شواہد کی تلاش کے لیے سلیون کی جائیداد کی تلاشی نہ لینے‘ کو ایک ’ضائع شدہ موقع‘ قرار دیا۔
ایسیکس پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے نمٹنا ہماری ایک اہم ترجیح ہے اور ہم اس نوعیت کے الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایسے الزامات کو ’انتہائی سنجیدگی سے‘ لیتی ہے اور ’پولیس کو فراہم کی جانے والی کسی بھی معلومات یا شواہد کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب تفتیشی اقدامات کیے جائیں گے۔‘
اس تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات انگلینڈ کے نئے فٹ بال ریگولیٹر کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں، جو گذشتہ سال قائم کیا گیا تھا اور جس کے پاس موجودہ مالکان کی ایمانداری اور دیانتداری کے بارے میں خدشات کی صورت میں تحقیقات کرنے کے اختیارات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سلیون 2010 سے ویسٹ ہیم کے سب سے بڑے واحد شیئر ہولڈر رہے ہیں اور اس سے قبل 15 برس سے زائد عرصے تک برمنگھم سٹی کے شریک مالک بھی رہے۔ ہفتے کے روز اپنے استعفے سے پہلے وہ بطور مالک اپنے پورے دور میں ویسٹ ہیم کے شریک چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
فٹ بال ایسوسی ایشن نے گذشتہ چند برسوں کے دوران سلیون کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ ایف اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس ’مضبوط حفاظتی پروگرام‘ موجود ہے اور وہ تمام الزامات اور خدشات کو ’نہایت سنجیدگی سے‘ لیتے ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ وہ انفرادی مقدمات پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ویسٹ ہیم گذشتہ سال پریمیئر لیگ کا وہ پہلا کلب بن گیا تھا جس کی بطور آجر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مردانہ تشدد کے خاتمے کی حمایت میں اقدامات کا اعتراف فلاحی ادارے وائٹ ربن برطانیہ نے کیا تھا۔
ویسٹ ہیم کی اُس وقت کی نائب چیئرمین بیرونس کیرن بریڈی نے یہ اعزاز ملنے کے بعد کہا تھا کہ کلب ’ایسا کلچر پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے جہاں نقصان دہ رویوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔‘
گذشتہ ماہ بریڈی، جو دہائیوں سے سلیون کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور بی بی سی ون کے پروگرام دا ایپرینٹس میں لارڈ شگر کی معاون کے طور پر بھی نظر آتی ہیں، نے سیزن ختم ہونے سے پانچ میچ قبل ہی نائب چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ویسٹ ہیم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس واضح اور مضبوط حفاظتی اقدامات موجود ہیں اور کلب صنعت کے معیاری طریقۂ کار کے مطابق ’کسی بھی انفرادی حفاظتی معاملے‘ پر تبصرہ یا تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
اپنے استعفے میں سلیون نے کہا کہ ’ایڈلٹ انڈسٹری میں کاروبار قائم کرنے میں گزاری گئی ایک طویل زندگی، جس کے دوران میری ہزاروں خواتین سے ملاقات ہوئی، کے بعد یہ بدقسمتی سے ناگزیر ہے کہ میرے خلاف نامناسب رویے کے چند الزامات سامنے آئیں۔‘
انھوں نے ان الزامات کو ’جھوٹا‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’ہرگز وہ شخص نہیں جو میڈیا انھیں بنا کر پیش کر رہا ہے۔‘ سلیون نے کہا کہ وہ بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اضافی رپورٹنگ اولیویا ڈیویس






















