'اس رات حملے نے میرے ماڈلنگ کے امکانات کو تقریباً ختم کر دیا تھا'

ہوان

،تصویر کا ذریعہContributor Image

    • مصنف, ہینا پرائس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

ہوان کو انسٹاگرام پر ایک پیغام آیا 'آپ ماڈلنگ کے لیے کب وقت نکال سکتے ہیں؟'

اس وقت ہوان یونیورسٹی میں تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے بتایا 'مجھے پہلے تو یقین نہیں ہوا۔ مجھے لگا یہ کسی قسم کی جعلسازی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔'

بعد میں انہیں احسا ہوا کہ ان سے رابطہ کرنے والی برطانیہ کی ایک معتبر ایجینسی تھی۔ بی بی سی تھری کی داکیومینٹری 'ماڈلز: سٹریٹ ٹو کیٹواک' میں ہوان اور ان کے جیسے چند ماڈلز کے اس سفر پر روشنی ڈالی گئی ہے جو انہوں نے ایک غریب محلے سے شروع پر کے ماڈلنگ کی دنیا میں مقام بناننے تک طے کیا ہے۔

ہوان نے بتایا 'میں اس ٹیست کے لیے گیا جس میں وہ دیکھتے ہیں کہ آپ ان کی توقعات پر پورے اترتے ہیں یا نہیں، اور انہیں میں پسند آگیا۔ میں حیران تھا کہ میں ماڈلنگ کا آغاز کرنے جا رہا تھا۔'

ہوان چودہ برس کی عمر میں کولمبیا سے برطانیہ کے شہر مینچیستر آئے تھے۔ وہ فٹبالر بننا چاہتے تھے، ماڈلنگ کے بارے میں انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ لیکن کیمرا کے سامنے آنے کے بعد ان کی زندگی بدل گئی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ جہاں رہتے تھے اس علاقعے میں غنڈوں کے گینگ، چھریوں اور گنز کا زبردست اثر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ انہیں احسا ہوا کہ ماڈلنگ ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا 'مجھے ماڈلنگ اسلیے پسند ہے کہ اس شعبے میں آپ کو مسلسل نئے لوگوں، ماڈلز اور فوٹوگرافروں سے ملنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ یعنی آپ کی نوکری ہی آپ کو متعدد فوائد پہنچا رہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نئے لوگوں سے کام کے دوران ملنے اور دوستیاں کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔'

برطانوی ایجینسی نیمیسس ان کے ساتھ کام کا معاہدہ کرنے ہی والی تھی، اسی دوران ایک رات وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک نائٹ کلب گئے۔ ہوان نے اس رات کے بارے میں بی بی سی کو بتایا 'مجھے لگا میں مرنے والا ہوں۔'

جب ہوان اس رات اپنے دوتسوں کے ساتھ کلب سے نکلے تو دو افراد انکا پیچھا کرنے لگے اور آگے جا کر انہیں گھیر لیا۔ یہ واقعہ سی سی ٹی سی پر ریکارڈ بھی ہوا۔

ہوان

،تصویر کا ذریعہContributor Image

ہوان نے بتایا تھوڑی دیر میں ان کے مزید ساتھی چاقو، چھریاں اور بلے لے کر آ گئے۔ وہ چہروں کو نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔'

انہوں نے بتایا 'وہ بارہ تھے اور ہم صرف چار لڑکے۔ ایک شخص تو سیدھا میرے چہرے پر وار کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور میں بار بار چھری سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک شخص پیچھے سے آیا۔ اس لمحے مجھے لگا جیسے وہ میرا آخری لمحہ تھا۔ اگر میں اس وقت گِر جاتا تو وہ میرے سر کو لاتوں سے کچل کر اور مجھے چھری مار کر زخمی کر دیتے۔'

اس حملے میں ہوان تین بار چھری کی زد میں آئے، چہرے، نردن کے پچھلے حصے اور کان پر۔ کان کر دوبارہ جوڑنے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑی۔

انہوں نے بتایا 'ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ اگر میری گردن کا زخم زرا اور گہرا ہوتا تو میں مفلوج ہو سکتا تھا۔ '

پھر انہیں یہ بھی احساس ہونے لگا کہ چہرے کے زخم کی وجہ سے شاید وہ کبھی ماڈلنگ نہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے:

'صدمہ اور خوفناک خوابوں کا سلسلہ'

اس حملے کے پانچ ہفتے بعد تک ہوان نے گھر سے باہر قدم نہیں رکھا۔

انہوں نے کہا 'میں بہت تکلیف میں تھا اور میرا ذہن ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔'

انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بتایا 'میں کچھ عرصہ بہت ڈیپریسڈ رہا اور میرا خود پر یقین بہت کم ہو گیا تھا۔ میں جیسے خوش رہنا بھول ہی گیا تھا۔'

ہوان

،تصویر کا ذریعہContributor Image

ہوان کہتے ہیں 'مجھے مسلسل ڈراونے خواب آتے رہتے تھے، میں پسینے میں شرابور آدھی رات کو چیختا ہوا اٹھتا تھا۔ مجھے اس واقعے کا شدید صدمہ ہے۔'

کچھ عرصہ بعد نیمیسس ماڈلز ایجینسی نے ہوان سے رابطہ کیا اور انہیں بات کرنے کے لیے بلایا۔ یہ اس واقعے کے بعد پہلا موقع تھا جب ہوان نے گھر سے باہر قدم رکھا۔

انہوں نے بتایا 'جب میں ان سے ملنے گیا تو ان لوگوں نے میری بہت مدد کی، میرا اس وقت حوصلہ بڑھایا جب میرے زخم تازہ کھلے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔'

ہوان نے بتایا کہ ان کی ذہنی صحت میں بہتری کی جانب سب سے اہم موڑ وہ تھا جب ایک کپڑوں کی برانڈ کے لیے ان کے پہلے شوٹ کی بوکنگ ہوئی۔

اپنی شکل و صورت کو قبول کیجیے

ہوان نے بتایا 'مجھے اسلیے اچھا محسوس ہو رہا تھا کیوں کہ میرے چہرے پر داغ کے باوجود لوگ شوٹ کے لیے بوکنگ کر رہے تھے۔ لیکن میں اپنے بارے میں تھوڑا زیادہ حساس بھی ہو گیا تھا، میں سوچتا تھا کہ مجھے بوکنگذ کیوں مل رہی ہیں۔'

ہوان کے بقول 'روز مرہ زندگی، کام اور شوٹس کے درمیان میرا ذہن بھٹکا رہا جس سے مجھے زہنی تکلیف کا مقابلہ کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔ اس کی مدد سے میں اس سب کا عادی ہوتا چلا گیا اور اپنا اعتماد واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔'

لیکن آج بھی اگر کوئی ان سے کسی داغ کے بارے میں کوئی سوال کر لیتا ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا 'مجھے گھبرائے بغیر انہں بتانا ہوتا ہے کہ وہ سب کیسے ہوا۔'

ہوان اور ان کے دوستوں پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کو سزا ہوئی اور باقی کبھی پکڑے نہیں جا سکے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ہوان نے جسم پر چوٹوں کے نشانات کو بھی قبول کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں 'مجھے لگتا ہے آپ کو اپنی شکل و صورت کو قبول ر لینا چاہیے۔ اور اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو جس نے آپکا حلیہ بدل دیا ہو، تو اسے بھی اپنا کر خود کو اصل صورت میں قبول کیجیے۔ لوگ آپ کی شکل و صورت کے بارے میں اس طرح نہیں سوچتے ہیں جیسا مجھے لگتا تھا۔'