آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووڈ: فلسطین نے اسرائیل سے کورونا ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں لینے کا معاہدہ منسوخ کر دیا
فلسطینی حکام نے اسرائیل سے کووڈ ویکسین کی کم از کم دس لاکھ خوراکیں ایک معاہدہ کے تحت لینے سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی فائزر کی ویکسین اپنی تاریخ تنسیخ کے بہت قریب ہے۔
اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ اسے پرانی ویکسین کی ضرورت نہیں اور یہ خوراکیں فلسطین میں ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
فلسطین کو اسرائیل کی جانب سے دی جانی والی ویکسین خوراکوں کے بدلے رواں سال فائزر سے ملنے والی ویکسین کی اتنی ہی خوراکیں اسرائیل کو واپس دینی تھی۔
تاہم فلسطین اتھارٹی کی وزیر صحت مائی الکیلا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے انھیں بتایا گیا تھا کہ ان ویکسین کی تاریخ تنسیخ جولائی یا اگست میں ہوگی البتہ جب کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ اسرائیل سے فلسطین پہنچی تو فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ وہ تاریخ تنسیخ کے بہت قریب تھیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ وہ ویکسین ہی قابل استعمال نہیں کیونکہ یہ ان خوراکوں کی تاریخ تنسیخ متوقع وقت سے بھی پہلے کی ہے اور ان کو استعمال کرنے کے لیے وقت ناکافی ہے، لہذا یہ معاہدہ ختم کیا جاتا ہے۔
فلسطینی حکام کے ترجمان ابراہیم ملہم کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر فراہم کردہ 90 ہزار خوراکوں کی پہلی کھیپ 'معاہدے کی شرائط کے مطابق نہیں تھی اور اسی کے مطابق وزیر اعظم محمد شتاح نے وزیر صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاہدہ منسوخ کر دیں۔'
فلسطین کی سرکاری وفا نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 'حکومت نے وہ ویکسین خوراکیں لینے سے انکار کر دیا ہے جو اپنی تاریخ تنسیخ کے قریب ہیں۔'
فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان ملہم ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ اس کی بجائے ویکسین کی اس کھیپ کا انتظار کریں گے جو انھوں نے براہ راست فائزر سے منگوائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب جمعہ کو ایک ٹویٹ میں اسرائیل کے نئے وزیر صحت نتظان ہوروٹز کا کہنا تھا کہ 'کورونا وائرس لوگوں میں تفریق نہیں کرتا۔' ان کا کہنا تھا کہ 'ویکسین کا اہم تبادلہ' دونوں فریقین کے مفاد میں تھا اور وہ امید کرتے ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل میں دیگر شعبوں میں بھی تعاون کیا جائے گا۔'
اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر کی جانب سے کہا گیا کہ 'اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ انھیں فائزر ویکیسن کی دس لاکھ خوراکیں فراہم کریں گا جن کی تاریخ تنسیخ قریب ہے۔'
تاہم اس بیان میں اس ویکسین کی قابل استعمال تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ' اس کے بدلے اسرائیل رواں برس ستمبر، اکتوبر میں فلسطین کو فائزر سے ملنے والی ویکیسن میں سے اتنی ہی تعداد کی خوارکیں حاصل کرے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اسرائیل میں ویکسین مہم کے تحت تقریباً 55 فیصد آبادی کو دونوں خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔ اسرائیل نے فائرز بائیو آین ٹیک کے ساتھ ایک خصوصی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت جلد ویکسین کی فراہمی کے بدلے وہ کمپنی کو اہم میڈیکل ڈیٹا فراہم کریں گے۔
فلسطینی حکام کے مطابق غرب اردن اور غزہ میں تقریباً 30 فیصد فلسطینی آبادی کو ویکسین کی ایک خوراک لگائی جا چکی ہے۔ فلسطین کو عالمی ادارہ صحت کے تحت انڈیا میں تیار کردہ کویکس ویکسین کے علاوہ اسرائیل، روس، چین اور متحدہ عرب امارات سے بھی ویکسین ملی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین اسرائیل کی جانب سے اپنے زیر کنٹرول ویکسین مہم کو فلسطینیوں تک توسیع دینے میں ناکامی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ فلسطین میں صحت عامہ کے معاملات کے لیے فلسطینی حکام ذمہ دار ہیں۔