بیلاروس میں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والی صوفیا سپیگا کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہم ایسی حالت میں ہیں کہ ہم یہ یقین نہیں کر پا رہے کہ ہماری بیٹی کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ میں کسی سے بھی مدد کے لیے بھیک مانگنے کے لیے تیار ہوں تاکہ میری بچی کی زندگی خراب نہ ہو۔‘
اینا ڈوڈچ کے لیے فی الحال کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہے کیونکہ ان کی بیٹی صوفیا سپیگا یونان سے لیوتھینا جانے والی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیں جس کا رُخ زبردستی بیلاروس کے دارالحکومت منسک کی جانب موڑا گیا تھا۔
اتوار کو صوفیا سیپگا اور ان کے ساتھی اور منحرف صحافی رومن پروٹاوچ کو بیلاروس حکام نے منسک میں حراست میں لے لیا تھا۔
مغربی ممالک نے بیلاروس پر ہوائی جہاز کو ہائی جیک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بیلا روس حکومت مخالف صحافی کو گرفتار کرنے کے لیے یہ غلط خبر جہاز کے عملے کو دی تھی کہ طیارے میں بم ہے اور جب طیارہ نزدیکی ایئرپورٹ اترا تو پتا چلا یہ سب کھیل صحافی کو گرفتار کرنے کے لیے رچایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اس طیارے میں حکومت مخالف صحافی کی دوست صوفیا بھی تھیں جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اینا (صوفیا کی والدہ) کو اپنی بیٹی کی جانب سے موصول ہونے والے آخری پیغام میں صرف ایک لفظ ’ماما‘ لکھا تھا، جس کے بعد صوفیا کا فون بند ہو گیا۔
اینا کہتی ہیں کہ ’مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ میری بیٹی کو کیوں حراست میں لیا گیا، وہ ایک عام نوجوان عورت کی طرح بس اپنی زندگی گزار رہی ہے، پڑھ رہی ہے، بھرپور زندگی گزار رہی ہے اور وہ محبت کرتی ہے۔ کسی نے ان چیزوں پر پابندی نہیں لگائی۔ مجھے اس بارے میں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘

صوفیا سپیگا جن کا تعلق روس سے ہے وہ ولنس جا رہی تھیں جہاں انھیں یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے لیے ایک مقالہ پیش کرنا تھا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق اور آزادیوں کی پاسداری کی گارنٹی بیلاروس کے آئین میں دی گئی ہے۔
صوفیا سپیگا کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ صوفیا پر منسک میں مقدمہ چلائے جانے سے قبل دو ماہ کے لیے انھیں حراست میں رکھا گیا۔ روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان پر فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
صوفیا کے وکیل نے مزید کہا کہ صوفیا پر جرم کے ارتکاب کا الزام ہے لیکن مقامی قوانین کے تحت وہ اس سے زیادہ کوئی تفصیل فراہم نہیں کر سکتیں۔
وکیل صفائی نے بتایا کہ بیلاروس کی سکیورٹی سروس کا ایک ذیلی ادارہ اس تمام معاملے کی تفتیش کر رہا ہے اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ یہ ساری معلومات روس کی حکومت اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو بھی فراہم کی جائے۔
اس جوڑے کی گرفتاری کے بعد بیلاروس کے حکام نے صوفیا کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔
اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ وہ ٹیلی گرام چینل ’بلیک بک آف بیلاروس‘ کی ادارت کرتی ہیں جس میں بیلاروس کے سکیورٹی اہلکاروں کی نجی معلومات شائع کی جاتی ہیں۔ بیلاروس نے اس چینل کو انتہا پسندوں کا چینل قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیان اُن سے زبردستی دلوایا گیا ہے۔
صوفیا کے ایک ہم جماعت کے مطابق صوفیا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیلاروس میں گزارا اور وہ کبھی حزب اختلاف کی کارکن نہیں رہیں۔
صوفیا کی والدہ اینا نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ صوفیا لیتھوینا میں بیلاروس کے حزب اختلاف کے رہنما سولٹانا ٹکناوسکا کے لیے کام کر رہی تھیں۔
صوفیا کی والدہ اور ان کے بہت سے ہم جماعتوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اگست سنہ 2020 سے ولنس میں مقیم تھیں اور منسک میں صدر الیگزینڈر لکشچنکو کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرنے کے لیے بطور خاص نہیں گئیں تھیں۔
صوفیا کی والدہ کو کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو رومن پروٹاوچ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے گرفتار کیا گیا جو تقریباً چھ ماہ قبل شروع ہوا۔
’وہ بہت ذہین اور پڑھی لکھی لڑکی ہے۔ میری بیٹی ایک مہذب انسان ہے۔ میں اپ کو اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں۔ وہ اعلیٰ کردار کی مالک ہے۔‘
























