بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی: جرمن پولیس کی سربراہی میں عالمی آپریشن میں نیٹ ورک کو مبینہ طور پر چلانے والے چار افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمن پولیس نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر کو ڈارک ویب پر شیئر کرنے والے ایک وسیع نیٹ ورک کو مبینہ طور پر چلانے والے افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
جرمن پولیس نے تین افراد کو جرمنی سے گرفتار کیا ہے جبکہ ایک اور جرمن شہری جو کئی برسوں سے جنوبی امریکہ میں مقیم ہے، اسے پیراگوئے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
اس نیٹ ورک کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کی تصاویر کو شیئر کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک تھا اور اس کے انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر لاکھوں رجسٹرڈ صارفین تھے۔
کئی ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک مشترکہ آپریشن میں بوائز ٹاؤن (Boystown) نامی پلیٹ فارم کے خلاف کارروائی کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بوائز ٹاؤن کے چار لاکھ رجسٹرڈ صارفین تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پیلٹ فارم پر شیئر کی جانی والی تصاویر میں بچوں کے ساتھ سنگین نوعیت کی زیادتی کی تصاویر بھی شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈارک ویب انٹرنیٹ کے ایسے ایریا کو کہا جاتا ہے جو بڑے سرچ انجوں کی پہنچ سے دور ہوتا ہے۔
جرمنی کی سربراہی میں ہونے والے اس عالمی آپریشن میں ہالینڈ، سویڈن، آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا کی پولیس نے حصہ لیا۔
یورپ کی پولیس یورو پول نے کہا ہے کہ اس آپریشن سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سے کئی اور پیڈوفائل پلیٹ فارمز کو مختلف ممالک سے چلانے والے افراد کی گرفتاریاں ممکن ہیں۔
یورو پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن سے حاصل ہونے والی معلومات پر بچوں سے زیادتی کی تصاویر کو شیئر کرنے والے پلیٹ فارمز کو ختم کر دیا گیا ہے۔
جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ وسط اپریل کے بعد گرفتار ہونے والے افراد مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے۔
پولیس نے گرفتار کیے جانے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے لیکن ان کی عمریں اور جن علاقوں سے انھیں گرفتار کیا گیا ہے اس کا ذکر کیا ہے۔
گرفتار ہونے والے 40 سالہ شخص کا تعلق پیڈربورن سے ہے۔ 49 سالہ شخص کو میونخ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ 58 سالہ شخص کا تعلق شمالی جرمنی سے ہے لیکن وہ کئی برس سے جنوبی امریکہ میں مقیم ہے۔ اسے بین الاقوامی وارنٹ پر گرفتار کیا گیا ہے اور جرمن حکام نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
16 سالہ چوتھے شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا سب سے متحرک ممبر تھا اور اس نے بچوں کی 3500 تصاویر پیلٹ فارم پر پوسٹ کی تھیں۔


























