رفیق حریری قتل کیس: حزب اللہ کے جنگجو سلیم ایاش کو لبنان کے سابق وزیر اعظم کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا

سلیم ایاش

،تصویر کا ذریعہSpecial Tribunal for Lebanon

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق انہیں یہ معلوم نہیں کہ سلیم ایاش کہاں ہے
وقت اشاعت

عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے ایک رکن کو لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کی جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سلیم ایاش کو یہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کو سنہ 2005 میں ایک کار بم حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

سلیم ایاش کو اس سال کے آغاز میں اس قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

نیدر لینڈ کے ایک ’سپیشل ٹریبونل فار لبنان‘ کے ججز کے مطابق سلیم ایاش کا 2005 میں اس کار بم دھماکے میں مرکزی کردار تھا جس میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری مارے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹریبیونل نے اس مقدمے میں تین دیگر افراد کو بری کر دیا ہے۔ سلیم ایاش کی طرح ان افراد پر بھی ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔

حزب اللہ نے اس قتل کے الزامات کی تردید کی ہے اور ججز نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شیعہ جنگجو تنظیم کے رہنماؤں کے اس قتل میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

یہ مقدمہ کیا تھا؟

سنہ 2005 میں 14 فروری کی صبح لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری، جو اس وقت ممبر پارلیمان تھے، اپنے کاروان کے ساتھ بیروت کے معروف سینٹ جارج ہوٹل کے پاس سے گزر رہے تھے جب ایک وین میں دھماکہ ہوا جس سے نزدیکی عمارتیں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

رفیق حریری اپنی اہلیہ کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنی موت سے قبل وہ شام سے مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے

رفیق حریری لبنان کے ایک معروف سنی سیاستدان تھے اور اپنی موت سے قبل وہ شام سے مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے جو کہ 1976 سے خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے وہاں تھیں۔

ان کی موت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین جمع ہو گئے اور اس وقت کی لبنان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جو شام کی حمایتی تھی۔

اس ہلاکت کے دو ہفتے بعد حکومت مستعفی ہو گئی اور اپریل میں شام نے اپنی فوجیں ملک سے واپس بلا لیں۔

Pro-Hariri protest in Beirut (07/03/05)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس واقعے سے متعلق شواہد اکھٹے کرنے کے بعد اقوام متحدہ اور لبنان نے 2007 میں ایک خصوصی ٹریبیونل تشکیل دیا، جس نے اس اعلی سطح کے واقعے میں نامزد چار افراد کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا۔

اس مقدمے میں استغاثہ کا انحصار اس واقعے میں موبائل فون پر ہونے والی کالز پر رہا جن کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کالز پر قتل کا یہ پلان تشکیل دینے کے بعد اسے عملی جامہ پہنایا گیا۔

یاد رہے کہ موبائل ڈیٹا کی مدد سے ان کالز سے شواہد اکھٹے کرنے والے اور اس مقدمے میں اس طرح سائنسی تحقیق کے ذریعے اہم پیش رفت کو یقینی بنانے والے تفتیشی لبنانی افسر وِسام عید کو سنہ 2008 میں بیروت میں قتل کر دیا گیا تھا۔