فلپائن کی وہ خاتون جو سوشل میڈیا ٹرولز کو ان ہی کے کھیل میں مات دے رہی ہیں

دنیا بھر میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کی جو لہر آئی ہوئی ہے، اُس میں فلپائن کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ نام نہاد ٹرول فارمز کا استعمال کرتے ہوئے متعدد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنائے جا رہے ہیں جو سیاسی پروپیگینڈے کی تشہیر اور تنقید کرنے والوں پر حملے کرتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ہاورڈ جانسن کے مطابق ایک گروہ جو اپنے آپ کو ٹرول پٹرول کہتا ہے ٹرولز کا مقابلہ کرنے کے لیے اُنھی کے حربے اُن پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سنہ 2016 میں جینا، جو ان کا اصل نام نہیں اور دیگر افراد کو فلپائن میں کیتھولک سکول کی طالبات کے ایک گروپ پر آن لائن ٹرولز کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر سخت تشویش ہوئی۔ لڑکیوں کو اُن کے یونیفارم میں دارالحکومت منیلا کی ایک سڑک پر فلمایا گیا جس میں وہ نعرے لگا رہی ہیں ’مارکوس ہیرو نہیں! مارکوس ہیرو نہیں!‘
وہ ناراض تھیں کہ فلپائن کے سابق ڈکٹیٹر فرڈینینڈ مارکوس کو کچھ ہی دیر پہلے فوجی اعزاز کے ساتھ قریبی ہیروز کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ اُن کی حکمرانی کے 21 برس میں اربوں ڈالر کی عوامی رقم غائب ہوئی جبکہ ہزاروں افراد کو اُن کی حکومت کی مخالفت کرنے پر گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن ان کا خاندان سیاسی طور پر بااثر اور مقبول رہا ہے اور موجودہ صدر روڈریگو ڈوٹرٹے سے قریبی وابستگی ہے۔
سکول کے فیس بک پیج پر تصاویر شائع ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں میں اسے بڑے پیمانے پر دوبارہ شیئر کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر تبصرے نظر آنے لگے جن میں مارکوس کی میراث کا دفاع کرتے ہوئے لڑکیوں کے اس اقدام پر حملے کیے جانے لگے۔ ان میں سے کچھ حقیقی اکاؤنٹس سے تھے لیکن بہت سے حکومت نواز ٹرولز تھے جو جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہThe Benildean
ایک نے کہا ’اگر مارکوس ہیرو نہیں تو میں کہوں گا کہ آپ میں سے بیشتر کنواری نہیں ہیں اور یہ آج کل نوجوان لڑکیوں میں رجحان ہے۔‘
انھیں ریپ کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
جینا کا کہنا ہے ’ہم یہاں بچیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ کوئی بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کر رہا تھا۔‘
انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہمیں انھیں اُن کے ہی کھیل میں ہرا دینا چاہیے۔‘
جینا اور اُن کی طرح دیگر فکرمند افراد کے ایک گروپ نے جو بعد میں ’ٹرول پٹرول‘ کے نام سے پہچانے جانے لگے، نے اس کے خلاف کارروائی کی۔
بہت سارے ٹرولز کی طرح اس گروپ نے بھی جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنانا شروع کر دیے۔ چونکہ فیس بک کو شناخت کے لیے شناختی دستاویزات نہیں دینے ہوتے اس لیے اس طرح اکاؤنٹ بنا کر وہ خود کو بھی ذاتی حملوں سے محفوظ رکھ سکتے تھے اور بچیوں کا دفاع بھی کر سکتے تھے۔
انھوں نے بہت سارے ایسے اکاؤنٹ بنائے جن کی پوسٹس منطق اور استدلال کے ذریعہ آن لائن دنیا میں حکومت نواز ٹرولز کی جانب سے گھڑی گئی کہانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئیں۔
اس گروپ کا شب و روز یہ طریقہ رہا کہ وہ فیس بک پر دھمکی آمیز اور بدتمیزی والی پوسٹس کی تلاش میں رہتے اور ان پر اپنے جوابی تبصرے پوسٹ کرنا شروع کردیتے۔
جینا کا کہنا ہے ’ہمیں یہ احساس ہوا کہ اگر (مخالفین) یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اس گروہ کا حصہ ہیں جو حقیقت میں حکومت کے نظریات کی مخالفت کرتا ہے تو لوگ کبھی بھی آپ کی بات نہیں سنیں گے۔‘
’آپ کو انھیں یہ احساس دلانا ہو گا کہ آپ واقعتاً ان کے دائرے کا حصہ ہیں جنھوں نے اپنی رائے بدلی۔ آپ لوگوں کو شعور دے سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ آپ سائبر دنیا میں جو افراد نشانے پر ہیں، اُن کی حفاظت کے لیے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، وہ کہہ سکتے ہیں۔'
ایک ہفتے کے اندر ہی اس احتجاج پر تنازعہ ختم ہونے لگا لیکن فلپائن میں ٹرولنگ کا مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اور یہ صرف صدر ڈوٹرٹے اور ان کے ساتھ منسلک افراد کی حمایت کے لیے استعمال نہیں ہوا، یہ ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاستدانوں سب کو منظم طور پر بدسلوکی اور موت کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ مجھے بھی اپنی رپورٹنگ کے لیے آن لائن دھمکیاں موصول ہوئیں، یہ کہتے ہوئے کہ مجھے ’ڈھونڈ نکالا جائے گا‘ اور ’مارا پیٹا جائے گا۔‘ ایک کمنٹ میں کہا گیا کہ ’اپنی خیر منائیں‘ اس کمنٹ کے ساتھ کھوپڑی اور موت کی علامت والی ایموجی بھی شیئر کی گئی۔

بہت سے متحرک ٹرولز صدر کے حامی ہیں۔ وہ خود کو ڈی ڈی ایس (ڈائی ہارڈ ڈوٹرٹے سپورٹرز) کہتے ہیں۔ یہ نام ڈاواؤ ڈیتھ سکواڈ کہلائے جانے والے جلادی گروہ کے نام سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق جب ڈوٹرٹے جنوبی فلپائن کے ایک شہر کے میئر تھے اُس دوران اس گروہ نے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا تھا۔
مسٹر ڈوٹرٹے نے تو سوشل میڈیا پر لوگوں کو اپنی تشہیر کرنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے رقم دینے کا اعتراف بھی کیا ہےمگر ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھوں نے ایسا صرف سنہ 2016 کی کامیاب انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔
صدارتی دفتر رابطہ (پی سی او او) کے سیکرٹری جوس جوئل سی ایگکو کے مطابق جب سے ڈوٹرٹے اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں تب سے حکومت نے کبھی بھی پیسوں کے عوض کام کرنے والے ’کیبورڈ وارئرز‘ کو ناقدین پر حملہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔
مسٹر ایگکو نے بی بی سی کو بتایا کہ آن لائن ٹرولز کی دھمکیاں ’متعدد ذرائع‘ سے ہوتی ہیں، جس میں ’کسی کے پڑوسی‘ شامل ہو سکتے ہیں یا ’کوئی مقامی عہدیدار‘ ہو سکتا ہے جس سے آپ کا حال ہی میں پالا پڑا ہو۔
فلپائن کے میڈیا میں ایسے مراکز کے بارے میں خبریں آئی ہیں جن کے مطابق ’ٹرول فارمز‘ میں کام کرنے والوں کو لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گالیوں پر مبنی تبصرے لکھنے کے لیے رقم ادا کی جاتی ہے۔ میں نے مسٹر ایگکو سے پوچھا کہ حکومت نے ان دعوؤں کی تحقیقات کے لیے کیا کیا ہے؟
اُن کا کہنا تھا ’اگر آپ مجھ سے ایک سرکاری عہدیدار کی حیثیت سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں تو میں یقینی طور پر اس طرح کے کسی بھی طرز عمل کے خلاف ہوں، اگر ایسا ہوتا ہے تو۔‘

،تصویر کا ذریعہPacific Press
میں نے مسٹر ایگکو سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کیا حکومت کا ہاتھ ٹرول فارمز کے پیچھے ہے لیکن انھوں نے مزید یہ وضاحت دی۔
’ہم حکومت میں اپنا بجٹ بہت دیانتداری سے خرچ کرتے ہیں اور ہمارے پاس اس قسم کی چیزوں کے لیے بجٹ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے ماضی میں ایسا کیا ہو اور شاید کچھ لوگ ابھی بھی یہ کام کر رہے ہیں لیکن میں آپ کو پورے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں، پوری ایمانداری کے ساتھ اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ میں خود بھی اس پر یقین نہیں کرتا ہوں۔‘
مسٹر ایگکو نے کہا کہ اُن کی ٹیم کو میڈیا سے منسلک کارکنان کی طرف سے سائبر دنیا میں ہراساں کیے جانے اور بدتمیزی کا سامنا کرنے کے بارے میں ’بہت سی شکایات‘ موصول ہوئی ہیں اور محکمے نے ان معاملات کی تحقیقات کی ہیں لیکن وہ دیوار سے سر ٹکراتے رہ گئے کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے ایسے کمنٹس پوسٹ کرنے والے صارفین کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کر دیا تھا۔
فیس بک اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ اُن کا صارفین کے لیے جعلی اکاؤنٹ بنانے کو مشکل بنانے کا کوئی ارادہ ہے کہ نہیں لیکن اُن کے ایک ترجمان نے کہا کہ کمپنی ’ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کو ہٹانے، مربوط طریقے سے کام کرنے والے غیر مہذب نیٹ ورکس میں خلل ڈالنے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
اس ہفتے کمپنی نے فلپائن اور چین میں قائم دو نیٹ ورکس کو ’غیر ملکی یا حکومتی مداخلت‘ کے بارے میں اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر بند کر دیا تھا۔ یہ نیٹ ورک جن میں 200 سے زیادہ اکاؤنٹس شامل تھے انھوں نے فلپائن کے فیس بک صارفین کو اور اس کے علاوہ ایسے مواد کو نشانہ بنایا جس میں صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کی حمایت کی گئی ہو۔
آن لائن بدتمیزی کے علاوہ مجھے فلپائن میں کبھی بھی بلمشافہ دھمکایا نہیں گیا لیکن آن لائن ٹرولز کے رویے کے مہلک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ حال ہی میں انسانی حقوق کے دو کارکنان، جنھیں بار بار ٹرول کیا گیا اور آن لائن دھمکی دی گئی، ایک ہی ہفتے کے اندر اندر قتل کردیے گئے۔
10 اگست کو نامعلوم حملہ آوروں نے میٹرو منیلا میں کوئزن سٹی میں واقع اپنے گھر کے اندر، 72 برس کے کسان رہنما رینڈل ایچنیس کو ہلاک کردیا۔ اس کے بعد 17 اگست کو نامعلوم مسلح افراد نے انسانی حقوق کی تنظیم کاراپٹن کی کارکن زارا الوریز کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ پچھلے چار برسوں میں ان کے 13 کارکنان مارے جا چکے ہیں۔
زارا الواریز کے قتل کے چند ہی منٹ بعد کاراپٹن کی ایک اور رکن کلیریزا سنگسن کو فیس بک پر ایک پیغام ملا جس میں کہا گیا تھا کہ ’اگلی باری اُن کی ہے۔‘
اس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ ’ریڈ ٹیگنگ‘ کے بار بار نشانے پر آتے ہیں جس میں حکام اور آن لائن ٹرولز انھیں کمیونسٹ کہتے ہیں اور انھیں ملک کی دہائیوں پرانی کمیونسٹ شورش سے جوڑتے ہیں۔
انسانی حقوق کے اداروں کو خدشہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کا ایک نیا منظور شدہ قانون ٹرولز کی پوسٹس کو ہتھیار بنا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEzra Acayan
اس قانون کے تحت ’دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہ میں‘ کسی کو بھی بغیر کسی الزام کے 24 دن تک زیر حراست رکھا جا سکتا ہے۔ ڈوٹرٹے کی جانب سے تقرر کیے گئے افراد پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو مشتبہ دہشتگرد نامزد کر سکتی ہے اور صرف الزامات کی بنا پر 60 دن تک ان کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر فلپائن کے جنوب میں جاری مسلح شورشوں کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے اس قانون کی ضرورت ہے۔
لیکن انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حکومت پر ہلکی سی تنقید کرنے والوں کو بھی صدر کے حامی ٹرولز کی جانب سے الزامات کی بنیاد پر دہشت گرد قراد دیا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسیفک ریجنل ڈائریکٹر نکولس بیقویلن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’سزا سے استثنی والے اس ماحول میں، دہشتگردی کی تعریف پر اتنے مبہم قانون کی وجہ سے انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف حملوں میں شدت آ سکتی ہے۔
جینا کا کہنا ہے کہ اُنھیں اور ٹرول پٹرول کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ٹرولز جیسے حربے استعمال کرنے پر پشیمانی نہیں۔
جینا کا کہنا ہے ’ہم (اپنے) اقدامات کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ سب آزادی اظہار کا حصہ ہیں، جس کو ہم واقعتاً بہت اہمیت دیتے ہیں۔‘
اُن کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ’بری زبان کا مقابلہ صرف بہتر زبان سے کیا جا سکتا ہے۔ میں واقعی قدغن لگانے پر یقین نہیں رکھتی۔‘
اور فلپائن میں آزادانہ اظہار خیال کے ساتھ، جینا کا خیال ہے کہ ٹرول پٹرول کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔
جینا کا کہنا ہے ’آج کل ہم آن لائن بنائی گئی شناخت کے پیچھے نہیں چھپتے۔ ہم اب بھی انتظامیہ ہو یا حزب مخالف اُن سب کی بدتمیزی کے خلاف بولتے ہیں لیکن اب ہم اپنی اصلی شناخت کے ساتھ بولتے ہیں۔‘

























